حافظ سعید کے گھر پر حملے میں "را” کا کھرا نکل آیا

پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اہم ترین اجلاس کے دوران لاہور میں حافظ سعید کی رہائش گاہ کے باہر ایک طاقتور بم دھماکے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کا بنیادی مقصد حافظ سعید کو ٹارگٹ کرنا تھا تاکہ یہ ثابت ہو جاتا کہ وہ قید کی سزا سنائے جانے کے باوجود جیل کی بجائے اپنی رہائش گاہ پر قیام پذیر ہیں۔ تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق کوٹ لکھپت جیل لاہور کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ حافظ سعید وہاں پر قید ہیں۔ دھماکے میں را کے ملوث ہونے کا انکشاف لاہور ایئرپورٹ سے گرفتار ہونے والے ایک غیر ملکی باشندے سے تفتیش کے دوران ہوا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق تفتیشی اداروں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ کے قریب ہونے والے دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کا شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پتا لگایا گیا اور ان کی گاڑی موٹروے سے لاہور داخل ہونے سے لے کر جائے وقوعہ پر کھڑی کرنے تک کی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے۔ یاد رہے کہ 23 جون کے روز صبح 11 بجے کے قریب ایک کار بم حملے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار سمیت کم از کم تین افراد ہلاک اور دو درجن کے قریب زخمی ہوئے، اس بم حملے کی تفتیش کی ذمہ داری پنجاب پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کو سونپی گئی ہے۔ حملے میں مبینہ طور پر ملوث شخص کی شناخت ہونے کے بعد ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے لاہور ایئرپورٹ سے اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ کراچی کی پرواز پر سوار ہونے جا رہا تھا۔
اب تک کسی تنظیم کی جانب سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ تاہم دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا جسے ٹائمڈ ڈیوائس کے ذریعے اڑا دیا گیا۔ تفتیشی ٹیموں کو دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور ان افراد کا سراغ ملا ہے جن کے استعمال میں یہ گاڑی ماضی میں رہی ہے۔ حکام کے مطابق یہ گاڑی چھ سے سات مختلف افراد نے ’اوپن لیٹر‘ پر حاصل کی اس لیے سرکاری طور پر اس کی ملکیت اب بھی پہلے مالک کے نام ہے کیونکہ جن لوگوں کے زیر استعمال یہ گاڑی رہی انھوں نے اس کو باقاعدہ اپنے نام ٹرانسفر نہیں کروایا۔
سی ٹی ڈی کے تفتیشی ذرائع کے مطابق گاڑی کے پہلے مالک کا تعلق حافظ آباد سے ہے جبکہ یہ 2009 سے اب تک جن لوگوں کی ملکیت میں رہی ہے ان میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر اور ایک وکیل بھی شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق انھپیں معلوم ہوا ہے کہ گاڑی کے آخری مالک نے اسے دو روز قبل حملہ آور کے حوالے کیا تھا۔
گاڑی کا سراغ شہر میں لگے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملا۔ سیف سٹی اتھارٹی کے حکام نے بتایا کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی ’موٹروے کے ذریعے بابو صابو انٹر چینج سے 23 جون کی صبح 9:40 پر لاہور میں داخل ہوئی جسے سیف سٹی کے مختلف کیمروں میں جوہر ٹاؤن کی طرف جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔‘حکام کے مطابق گاڑی کو پہلے ڈاکٹرز ہسپتال تک جاتے دیکھا جاتا ہے اور پھر وہاں سے واپس مڑ کر وہ مولانا شوکت علی روڈ پر واقع سوسائٹی میں حافظ سعید کے گھر کے قریب جاتی نظر آتی ہے۔ بورڈ آف ریونیو سوسائٹی، جہاں یہ واقعہ پیش آیا، کے ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حافظ محمد سعید کا یہ گھر تقریبا 15 سال قبل تعمیر ہوا تھا اور وہاں تک جانے کے لیے تین مختلف راستے یا گلیاں ہیں جہاں پر پولیس اور ان کے اپنے سکیورٹی اہلکار مسلسل تعینات ہوتے ہیں۔
حافظ سعید کے گھر تک جانے والی مرکزی گلی میں دو پولیس چیک پوسٹیں ہیں جن میں سے ایک بالکل حافظ سعید کے گھر کے سامنے ہے۔ دھماکہ ان کے گھر کی طرف جانے والے راستے پر لگی پہلی چیک پوسٹ کے قریب ہوا کیونکہ ڈرائیور گاڑی اس سے آگے لے جا ہی نہیں سکتا تھا۔ جہاں دھماکہ ہوا وہاں اور حافظ سعید کے گھر کے درمیان محض 100 سے 150 میٹر کا فاصلہ ہے۔ دھماکے کے بعد حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی کے ٹکرے 500 میٹر دور تک سے ملے، جس سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹر کے مطابق جائے وقوعہ پر غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات دیکھنے کو ملے۔ وہاں کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کی بھی سختی سے چیکنگ کی جا رہی تھی۔ خاتون صحافی نے ایک پولیس افسر سے پوچھا کہ خیریت تو ہے، صحافیوں کے لیے بھی اتنی سختی؟’ جواب میں وہ بولے کہ حافظ سعید بھی تو ہیں،سمجھا کریں۔’ اگرچہ دھماکے والی جگہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر واقع ہے تاہم یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جہاں ہر وقت چہل پہل رہتی ہے۔ اس کے آس پاس مارکیٹیں بھی موجود ہیں لیکن حافظ سعید کے گھر کو جانے والے تینوں راستے دھماکے کے بعد مکمل طور پر بند تھے۔ سی ٹی ڈی، پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری وہاں موجود تھی اور شامیانے لگا کر گلیوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔ بی بی سی کے مطابق ایسے اقدامات عموماً جائے وقوعہ پر شواہد کی حفاظت کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں تاہم اس کے برعکس دھماکے کی جگہ پر کچھ آمد و رفت جاری تھی۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے طنزیہ انداز میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ حافظ صاحب کے گھر کی گلی کو تو ایسے بند کیا گیا ہے جیسے وہ واقعی ہی اپنے گھر میں موجود ہوں۔
یاد رہے کہ سرکاری سیکیورٹی کے علاوہ حافظ سعید کے گھر کے باہر جماعت الدعوة کے سیکورٹی رضاکار بھی موجود تھے۔ جب صحافیوں کی جانب سے ان سے دریافت کیا کہ گھر میں خیریت تو ہے، حافظ صاحب اور گھر والے اور ان کا گھر تو محفوظ ہیں اور کہیں زیادہ نقصان تو نہیں ہوا؟جواباً کہا گیا کہ ’سب ٹھیک ہے اور کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔۔۔ یہ تو معمولی سا دھماکہ تھا۔‘
جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد آئی جی پنجاب انعام غنی نے حافظ سعید کا نام لیے بغیر اس بات کی تصدیق کی کہ دھماکے کے مقام کے قریب ایک ’ہائی ویلیو ٹارگٹ‘ یعنی ایک اہم ہدف کا گھر موجود تھا اور اس کارروائی میں بیرونی ہاتھ نظر آ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی دشمن ملک کی ایجنسیاں ایسی کاروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔
یاد رہے کہ حافظ سعید اس وقت مختلف مقدمات میں سزا بھگت رہے ہیں جن میں دہشت گردی سمیت دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمات شامل ہیں۔ انڈیا حافظ سعید پر 2008 کے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ ان حملوں میں 161 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حافظ سعید کئی برسوں سے انڈیا کو مطلوب ہیں۔
یہی نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے انھیں عالمی شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے جبکہ امریکہ نے ان کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر مقرر کر رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 23 جون کو ہونے والے دھماکے کے بعد ہر قسم کے سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔حافظ سعید کو 2019 میں گرفتار کیا گیا اور پھر دہشت گردوں کی فنڈنگ کے الزامات پر تین مختلف کیسوں میں سزائیں سنانے کے بعد انہیں کوٹ لکھپت جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں انہیں سکیورٹی خدشات کے باعث جیل سے گھر منتقل کردیا گیا تھا لیکن اس بات کو صیغہ راز میں رکھا گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب حکام کا کہنا ہے کہ جیل کے ریکارڈ کے مطابق حافظ سعید کوٹ لکھپت جیل میں ہی موجود ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 2019 میں بھی حافظ سعید کے بیٹے طلحہ سعید پر جوہر ٹاون کی ایک مسجد میں ہونے والی ایک تقریب میں حملے کی کوشش کی گئی تھی تاہم وہ محفوظ رہے۔ حافظ سعید بارے عمومی تاثر یہی ہے کہ انکی گرفتاری بین الاقوامی دباؤ کے باعث اور پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کے تحت کی گئی کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جن کا نام ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں میں متعدد بار لیا گیا ہے۔ 2018 میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یا ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس فہرست میں ان ممالک کو شامل کیا جاتا ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی فراہمی کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات لینے میں ناکام رہے ہوں۔ پاکستان اس سے پہلے 2012 سے 2015 تک اس فہرست میں شامل تھا اور اب بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ چنانچہ ایف اے ٹی ایف کے پیرس میں جاری اجلاس کے دوران حافظ سعید کے گھر پر حملے کی کوشش ہونا معنی خیز ہے۔
