حالات کی بہتری پر 15 ستمبر سے اسکول کھول دیئے جائیں گے

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حالات ٹھیک ہوئے تو15 ستمبر کو اسکول کھولیں گے ،7ستمبر کو وزراء تعلیم کی میٹنگ ہوگی، جس کے بعد اسکول کھولنے کا حتمی فیصلہ کریں گے، اگر اسکول کھولنے کا فیصلہ ہوا تو وزارت صحت تفصیلی طریقہ کار کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وفاقی وزارت تعلیم نے قومی تعلیم کا فریضہ شروع کیا، این سی اوسی کو فعال ادارہ بنایا، صوبوں کے ساتھ ملکر فیصلے کئے، پہلے فیصلہ کیا اسکول بند ہوں گے، 13مارچ کو اسکول بند کیے، پھر ستمبر کی تاریخ دی، نویں، دسویں، گیارہویں، اور بارہویں کے بچوں کا امتحان ممکن نہیں ہے، ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا، ایسا فارمولہ بنایا کہ 40لاکھ طلبہ کو پروموٹ کیا گیا، سب نے متفقہ طور پر تسلیم کیا۔
اگر دیکھیں تو کیمبرج کے امتحان اور نتائج میں بچے کتنے دلبرداشتہ ہوئے۔ لیکن پاکستان میں 29تعلیمی بورڈز نے قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیمبرج نے ایسا سسٹم اپنایا جس سے دو دو گریڈ کم کردیے گئے، میں کیمبرج پر دباؤ دیا اور کہا ہمیں یہ نتیجہ قبول نہیں، اپنے اور والدین، بچوں کے جذبات پہنچائے، برطانوی حکومت سے بھی رابطہ کیا، کیمبرج نے اپنا رزلٹ ریوائز کردیا اور کہا کہ جو اسکولوں نے نتائج بھیجیں ہیں، وہی ہم قبول کریں گے۔
اب ہم 15ستمبر سے اسکول کھولنے جا رہے ہیں، 7ستمبر کو وزراء تعلیم کی میٹنگ ہوگی، جس کے بعد اسکول کھولنے کا حتمی فیصلہ کریں گے، کہ اسکول کھولیں یا نہیں لیکن امید ہے اسکول کھل جائیں گے۔ اس حوالے سے وزارت صحت تفصیلی طریقہ کار کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کی وباء آئی تو ہمیں چیلنج تھا کہ اسکول بند ہیں اور ہم بچوں تک کیسے تعلیم پہنچائیں؟ دنیا نے تعریف کی کہ پاکستان زبردست کام کیا، ہم نے ٹیلی اسکول کا اجراء کیا، اورگیلپ پول کا کہنا ہے کہ 70سے 80لاکھ بچے ٹیلی اسکول کے ذریعے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
بیماری جیسے ہی ختم ہوگی اسکول اور کالجز کھل جائیں گے لیکن اس کے ساتھ ٹیلی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ ہم نے اصلاحاتی ایجنڈے پر کام کیا، فیصلہ کیا کہ طبقاتی تفریق کو کم کیا جائے ، اس کےلیے یکساں نظام تعلیم کےلیے کام کیا۔
