حامد میر نے فیاض چوہان کے خلاف FIA سے رجوع کرلیا


ملک کے معروف دانشور پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دیے جانے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے معروف صحافی حامد میر کی شکایت پر وزیر اطلاعات پنجاب فیاض چوہان کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔
chohaaaan
بد زبان چوہان نے سرکاری طور پر جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز کے حامل نامور دانشور اور استاد پروفیسر وارث میر کو غدار قرا دیا تھا جس کے ردعمل میں حامد میر نے فیاض الحسن چوہان کو بیہودہ اور جھوٹے الزامات عائد کرنے اور اپنے والد کو غدار وطن قرار دینے پر اپنے وکیل جہانگیر خان جدون کے ذریعے 6 جون 2020 کو ایک ارب روپے ہرجانے کا لیگل نوٹس بھجوایا تھا اور ساتھ ہی ڈی جی ایف آئی اے کو بھی چوہان کے خلاف کارروائی کے لئے تحریری شکایت کی تھی۔ حامد میر نے مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے والد پروفیسر وارث میر کو فیاض چوہان نے غدار وطن قرار دیا حالانکہ ان کی ملک کے لیے گرانقدر خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 2013 میں انھیں ملک کا سب سے بڑا سول اعزاز ہلال امتیاز عطا کیا تھا۔
fayaz
ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں حامد میر نے مؤقف اپنایا کہ چوہان نے بطور منتخب ممبر سمبلی اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے کیونکہ وہ پروفیر وارث میر جیسے محب وطن شخص پر بےبنیاد، گھٹیا اور گمراہ کن الزامات لگانے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ حامد میر کا مؤقف ہے کہ چوہان کے لغو الزامات سے وارث میر کی ساکھ اور ان کے اہل خانہ کی زندگیاں غیر محفوظ کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ حامد میر نے ہرجانے کے نوٹس میں مطالبہ کیا ہے کہ فیاض چوہان 14 روز میں اپنے بیہودہ اور بے بنیاد الزامات پر معافی مانگیں اور اس معافی کی اخبارات اور چینلز پر بھی اشاعت کی جائے۔ اگر فیاض چوہان اپنی اس گری ہوئی حرکت پر معافی نہیں مانگتے تو ان کے خلاف سول اور فوجداری مقدمات دائر کئے جائیں گے۔ اسی طرح ایف آئی اے نے بھی حامد میر کی درخواست پر فیاض چوہان کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چوہان نے جس شخص کو غدار قرا دیا تھا ان کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی نے متفقہ طور پر خراج عقیدت پیش کیا جس سے چوہان کی ہذیان گوئی اور ہرزہ سرائی اپنی موت آپ مرگئی اور وہ قوم کی نظروں میں رسوا ہو گیا۔ 9 جون کو پنجاب اسمبلی نے پروفیسر وارث میر کو ان کی ملک کے لیے گراں قدر صحافتی اور علمی خدمات کے اعتراف میں خراج عقیدت پیش کرنے کی ایک قرار داد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔ یہ قرارداد ن لیگ کے سابق صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو کی جانب سے پیش کی گئی جس کی تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے متفقہ طور پر حمایت کی۔ اراکین اسمبلی نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں پروفیسر وارث میر کی آخری آرام گاہ کے قریب واقع نیو کیمپس انڈرپاس کو دوبارہ سے وارث میر انڈر پاس کا نام دیا جائے۔ واضح رہے کہ لاہور میں واقع درجن بھر انڈر پاسز کو فیض احمد فیض اور پروفیسر وارث میر سمیت کئی دانشوروں کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ تاہم رواں برس وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے حامد میر کو ٹوئٹر پر ان فالو کیے جانے کے بعد حکومت پنجاب نے کیمپس پل انڈر پاس کا نام وارث میر سے بدل کر کشمیر انڈرپاس رکھ دیا تھا جس پر باضمیر شہریوں اور تنظیموں نے بھرپور احتجاج کیا تھا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ پنجاب اسمبلی سے قرارداد کی متفقہ منظوری کے باوجود پنجاب حکومت کیمپس پل انڈرپاس کو وارث میر سے موسوم کرنے کے معاملے میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی۔
WhatsApp Image 2020 06 09 at 3.54.25 PM
یاد رہے کہ چند روز پیشتر پنجاب کے بونگے وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وارث میر مرحوم کو غدار وطن قرار دیا تھا۔ فیاض چوہان نے وارث میر پر یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے 1971 میں پاک فوج کے مقابلے میں برسرپیکار مکتی باہنی کی حمایت کی جس کے صلے میں بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے وارث میر کو 2012 میں بعد از مرگ فرینڈز آف بنگلہ دیش ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا۔ تاہم انتہائی افسوس کی بات ہے کہ فیاض الحسن چوہان تاریخ سے اس قدر نابلد ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں کہ پروفیسر وارث میر نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے کیا مؤقف اختیار کیا تھا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی یہ بات کہہ چکے ہیں کہ فوج کے ہاتھوں بنگالی عوام کا قتل عام کسی صورت جائز نہیں تھا اور یہی بات پروفیسر وارث میر بھی کہتے اور لکھتے رہے۔ وارث میر کی جرآتِ رندانہ کے اعتراف میں بنگلہ دیشی حکومت نے ان کے لیے ملک کے اعلی ترین سول اعزاز کا اعلان کیا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ وارث میر کے علاوہ بنگلہ دیش کی حکومت نے فیض احمد فیض، حبیب جالب، ملک غلام جیلانی، غوث بخش بزنجو اور دیگر پاکستانی دانشوروں کو مشرقی پاکستان کے عوام کے خلاف خونی فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے پر اسی اعزاز سے نوازا تھا لیکن ان میں سے کسی کو وارث میر کی طرح غدار قرار نہیں دیا گیا۔
WhatsApp Image 2020 06 09 at 3.58.37 PM

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button