حامد میر کے خلاف غداری کے مقدمے کی تیاری مکمل

سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر کے پروگرام پر پابندی لگوانے کے بعد منتقم مزاج اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر اب ان کے خلاف حسب توقع غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ عصمت اللہ راجپوت نامی ایک نامعلوم شخص نے سیٹلائٹ ٹاون گوجرانوالہ تھانہ میں حامد میر کے خلاف غداری کا کیس درج کرنے کی درخواست دیتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ انہوں نے نہ صرف آئی ایس آئی اور پاکستان آرمی پر تنقید کی ہے بلکہ اسد طور پر حملے کا الزام بھی ان اداروں پر عائد کر دیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اسد طور پر تشدد کے خلاف ہونے والے احتجاج میں تقریر کرتے ہوئے حامد میر نے کسی ادارے یا فرد کا نام نہیں لیا تھا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یعنی پی ایف یو جے نے جیو نیوز کے اینکر اور نامور صحافی حامد میر کو اپنے ہی شو کیپیٹل ٹاک سے ‘آف ایئر’ کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اظہار رائے کی آزادی پر ایک حملہ قرار دیا ہے۔
31 مئی کو جاری کردہ ایک بیان میں صحافتی تنظیم پی ایف یو جے کا کہنا تھا کہ ‘اس طرح کی پابندی حکومت کی جانب سے اظہار رائے کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے دعوؤں کی تردید کرتی ہے۔‘ پی ایف یو جے کے شہزادہ ذولفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے سوال اٹھایا کہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے حامد میر کی حالیہ تقریر ‘جس میں انھوں نے صحافی اسد طور پر حملے کے بعد غیر جمہوری طاقتوں کی مذمت کی، کے 72 گھنٹوں بعد ایسا کیا ہوا کہ جیو انتظامیہ نے یہ فیصلہ کر لیا۔ ہم جاننا چاہیں گے کہ یہ چینل کا اپنا فیصلہ ہے یا حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا نتیجہ۔’
تاہم یہ طے ہے کہ اب جیو نیوز پر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پروگرام کرنے والے حامد میر اب غیرمعینہ عرصے کے لیے اپنے شو کیپیٹل ٹاک کی میزبانی نہیں کریں گے۔ کسی حکومتی اہلکار کی جانب سے تاحال اس پابندی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے لیکن بتایا جا رہا ہے کہ جیو کی انتظامیہ پر ایک خفیہ ایجنسی کی جانب سے شدید دباؤ تھا کہ یا تو حامد میر کو برطرف کریں یا انکا پروگرام آف ائیر کریں۔ چنانچہ جیو ٹی وی کے مالکان نے حامد میر کو آف ائیر کرنے میں ہی عافیت جانی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سینئر صحافی اور یوٹیوب ولاگر اسد طور پر تین "نامعلوم” افراد کی جانب سے ان کے فلیٹ میں گھس کر تشدد کے بعد ان کی حمایت میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے ریاستی اداروں کو تنبیہ کی تھی کہ آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ‘گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔’ اس تقریر میں حامد میر کی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے۔
دوسری جانب بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ چینل کی انتظامیہ کی جانب سے انھیں کہا گیا ہے کہ وہ 31 مئی سے آن ائیر نہیں جا رہے۔ ان کے مطابق یہ بات دو تین دن سے چل رہی تھی۔ دوسری جانب جیو نیوز کی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ حامد میر کچھ عرصہ اپنے شو کی میزبانی نہیں کریں گے اور انھیں کچھ عرصے کے لیے چھٹی پر بھیجا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق حامد میر ابھی بھی جنگ گروپ کے ساتھ وابستہ ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق جیو کے اینکر پرسن محمد جنید کو حامد میر کی جگہ میزبانی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے کراچی سے اسلام آباد بلا لیا گیا ہے۔
حامد میر نے بتایا ہے کہ ’جیو کی انتظامیہ نے مجھے کہا کہ میں پریس کلب کے سامنے کی جانے والی تقریر کی وضاحت یا تردید کروں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ ایسا آپ سے کون کہہ رہا ہے۔‘ ’میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ اسد طور پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کر لیتے ہیں تو میں وضاحت چھوڑیں، معافی بھی مانگنے کو تیار ہوں۔‘ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں حامد میر نے مزید بتایا کہ یہ سب ان کے لیے نیا نہیں۔ ’مجھ پر دوبار پابندی لگی اور دوبار اپنی نوکری سے ہاتھ دھوئے۔ میں حملوں کے باوجود زندہ ہوں لیکن آئینی حقوق کے لیے آواز اٹھانا نہیں چھوڑ سکتا۔ میں اس بار کسی بھی قسم کے نتائج اور کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوں کیونکہ وہ میرے خاندان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حامد میر کا کہنا تھا کہ ماضی کے برعکس اس بار ان کی بیوی اور بیٹی کو دھمکیاں ملی ہیں جبکہ ان کے بھائی عامر میر کو بھی ایف ائی اے سائبر کرائم سیل نے دوبارہ طلب کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ عامر میر گوگلی نیوز کے نام سے ایک یوٹیوب چینل چلاتے ہیں جسے اسٹیبلشمینٹ کا ناقد قرار دیا جاتا ہے۔ ایف آئی اے ان پر ریاست اور حکومت مخالف ہونے کاالزام عائد کر کے اب تک انہیں چار مرتبہ اسلام آباد ہیڈ کوارٹر طلب کر چکی ہے لیکن ان کے خلاف دی جانے والی درخواستوں کی نقل دینے کو تیار نہیں۔
دوسری جانب پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ ’حامد میر پر پابندی کا مطلب صرف ایک صحافی پر حملہ نہیں بلکہ اظہار رائے کی آزادی اور صحافتی آزادی پر حملہ ہے۔‘ صحافی تنظیم نے سوال اٹھایا کہ ‘یہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا نتیجہ ہے یا چینل نے خود یہ اقدام اٹھایا؟’ بیان کے مطابق ‘پہلے صحافیوں پر حملے کیے جاتے ہیں پھر ان حملوں کے خلاف آواز اٹھانے والے صحافیوں کو خاموش کرنے کے لیے فاشسٹ ہتھکنڈے اپنائے جاتے ہیں۔’
خیال رہے کہ قومی اور سندھ اسمبلی میں حال ہی میں دو ایسے بل پیش کیے گئے جن کے مطابق پاکستانی کے صحافی کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں۔یہ بل پاکستان میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا عہدیداروں کی حفاظت سے متعلق ہیں لیکن صحافیوں کے تحفظ کے لیے مجوزہ قانون کو قومی اور صوبائی سطح پر متعارف ہوئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا تھا کہ دارالحکومت اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے صحافی اور یوٹیوب وی لاگر اسد علی طور کو ان کے گھر میں گھس کر تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ زخمی ہوئے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد حامد میر کی جانب سے اس معاملے کے احتساب کے لیے ایک مظاہرے میں تقریر کی گئی جس کے بعد اب انھیں اس کی سزا دی گئی۔ ایمنسٹی کے مطابق ‘اس سے موجودہ جابرانہ ماحول میں اظہار رائے کی آزادی کی ذمہ داری اٹھانے والے صحافتی اداروں اور حکام کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ صحافیوں کے لیے ان کی نوکریوں کی قیمت سینسرشپ، ہراس اور جسمانی تشدد نہیں ہونے چاہییں۔’
یاد رہے کہ جب حامد میر کی گذشتہ ہفتے کی تقریر منظر عام پر آئی تو سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث ہوئی تھی، بالخصوص اس حصے پر جہاں تقریر کے آخر میں انھوں نے شدید غصے میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو ‘گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے۔’ جوں ہی حامد میر کو آف ائیر کرنے کی خبر سوشل میڈیا پر آئی تو صارفین، خاص طور پر میڈیا سے وابستہ افراد کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور اکثر لوگوں نے ان کے حق میں ٹویٹس کیں۔ سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کے مطابق ‘اگر حامد میر کو آج آف ایئر کر دیا جاتا ہے یا ان کے جیو نیوز پر پروگرام پر پابندی لگا دی جاتی ہے تو طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر مزید انگلیاں اٹھیں گی اور ‘ان کے الفاظ کی تائید ہوگی۔’
صحافی منیزے جہانگیر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یہ ‘ان کے لیے تھپڑ ہے جو پاکستان میں آزاد میڈیا کا دعویٰ کرتے ہیں۔’ ‘حامد میر کو صحافیوں کے خلاف حملوں پر بولنے کی سزا دی جا رہی ہے۔’
مہرین زہرہ ملک کا ایک موقع پر کہنا تھا کہ اب سمجھا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے میڈیا میں ‘جگہ مزید تنگ ہونے جا رہی ہے۔۔۔ بدترین حالات کے لیے تیار ہوجانا چاہیے۔’ انسانی حقوق کی کارکن اور وزیر شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری نے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘جو حامد میر کے ساتھ ہو رہا ہے اس سے ان کی کہی گئی باتیں ثابت ہو رہی ہیں۔ پاکستان کو نقصان پہنچانے پر ان لوگوں کا کبھی احتساب نہیں ہوا۔’ سلیم نامی صارف نے یاد کرایا کہ ‘حامد میر نے شاید سب سے زیادہ انٹرویو عمران خان کے ہی کیے ہیں۔۔۔ ‘دیکھیں حامد’ کے الفاظ ان ہی شوز سے نکلے۔’
اینکر پرسن غریدہ فاروقی کا دعویٰ تھا کہ ‘اطلاعات کے مطابق حامد میر کو آف ایئر کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا، نہ پنڈی نے نہ آئی ایس آئی نے۔ پھر ان پر پابندی کیوں؟ جیو انتظامیہ کو اس اچانک فیصلے کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ کیا یہ دباؤ کا نتیجہ ہے؟ اور کس کا دباؤ تھا؟’

Back to top button