کیا کشمیر پر کپتان اور فوج میں اختلاف ہو چکا؟


آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے حال ہی میں دونوں ممالک کے مفاد میں بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے کی بات کے بعد اب وزیراعظم عمران خان نے اچانک یوٹرن لے لیا ہے اور یہ بیان داغ دیا ہے کہ انڈیا سے معمول کے تعلقات کی بحالی کشمیریوں سے بہت بڑی غداری کے مترادف ہو گی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اوروزیر اعظم عمران خان کے مابین بھارت کے ساتھ خفیہ مذاکرات سے معاملات بہتر کرنے کے معاملے پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم کا موقف ہے کہ جب تک بھارتی حکومت کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کا فیصلہ واپس نہیں لیتی، مودی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جانے چاہئیں۔ دوسری جانب یہ بھی یاد رہے۔کہ گزشتہ ماہ صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کے مابین ایک تیسرے ملک میں خفیہ مذاکرات کے سیشن ہو رہے ہیں جن کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ٹھیک کرنا ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا موقف ہے کہ انٹرنیشنل ڈپلومیسی وزارت خارجہ اور منتخب لوگوں کا کام ہوتا ہے، خفیہ ایجنسیوں کا نہیں، اس لیے یہ کام حکومت وقت پر چھوڑ دینا چاہیے۔ دوسری جانب عسکری ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ آرمی چیف کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے خود بھی ماضی قریب میں تین مختلف مواقع پر بھارت کے ساتھ باہمی تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور پھر انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ خطوط کا تبادلہ بھی کیا تھا، لہذا یہ کہنا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ہے، غلط ہوگا۔
خیال رہے کہ 30 مئی کے روز وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں واضح کیا کہ کشمیریوں کے خون پر انڈیا سے تجارت نہیں ہو سکتی اور ’اگر ہم اس وقت انڈیا سے تعلقات معمول پر لاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم کشمیر کے لوگوں سے بہت بڑی غداری کریں گے۔‘
یہ کہتے وقت دراصل انکا اشارہ کچھ عرصے قبل انڈیا کے ساتھ تجارت کی بحالی سے متعلق وزارتِ کامرس کی سمری مسترد کرنے کے فیصلے کی جانب تھا۔ یہ سمری دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام کے رابطوں کے بعد عمران کابینہ کو بھیجی گئی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔ یعنی اسٹیبلشمنٹ نے بھارت کے ساتھ خفیہ مذاکرات کے دوران تعلقات کی بہتری کے لیے باہمی تجارت بحال کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اسے عمران خان نے رد کر دیا تھا جس سے سلیکٹڈ اور سلیکٹرز میں فاصلے مذید بڑھ چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید وزیراعظم عمران خان کشمیر کے معاملے پر فوج کے ساتھ چلنے سے وقتی طور پر اس لئے انکاری ہوگئے ہیں کہ وہاں جولائی میں نئے الیکشن ہونا ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی حکومت پر کشمیر کا سودا کرنے کا الزام لگے اور انکی جماعت الیکشن ہار جائے۔ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر پہلے ہی عمران خان پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں۔
دوسری جانب 30 مئی کو وزیراعظم عمران خان نے بذریعہ لائیو فون کال عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ فوج حکومت میں آنے کی خاطر تمام ادارے کمزور کرتی ہے، اور عدلیہ کو بھی کنٹرول کر کے اپنے نیچے لے آتی یے۔ ایک سوال کے جواب میں عمران نے کشمیر کے معاملے پر حکومت پر لگنے والے الزامات کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی بھی کشمیر پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مت سوچیں کہ ہم ان کی جدوجہد اور ایک لاکھ شہدا کی قربانی کو نظر انداز کر دیں گے، عمران نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کیساتھ تجارت کھولنے سے ہماری معیشت بہتر ہو گی لیکن کشمیریوں کا خون بھی رائیگاں جائے گا، لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہمیں پتا ہے کہ انھوں نے کس قسم کی قربانیاں دی ہیں اور دے رہے ہیں، اس لیے ان کے خون پر پاکستان کی تجارت بہتر ہو گی تو یہ نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انڈیا 5 اگست کے اقدامات سے واپس جائے تو پھر بات ہو سکتی ہے، پھر ہم مسئلہ کشمیر پر ایک روڈ میپ لا سکتے ہیں اور بات بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم وزیراعظم عمران خان کا یہ موقف پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشان کن ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے منتخب حکومتوں کی بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی تمام تر کوششوں کو ناکام بنایا ہے لیکن اب خود ان کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ رواں برس فروری میں دونوں پڑوسی ممالک کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا اور تب سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو درآمد رہا ہے۔ جنگ بندی کے اس اچانک اعلان پر سبھی کو حیرت ہوئی تھی اور یہ بازگشت سنائی دی تھی کہ انڈیا اور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمینٹ حالات معمول پر لانے کے لیے پس پردہ بات چیت کر رہے ہیں۔ بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران یہ انکشاف کیا تھا کہ پچھلے کچھ عرصہ سے بھارتی خفیہ ایجنسی را اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بہتر بنانے کے لئے ایک تیسرے ملک میں خفیہ مذاکرات کر رہے ہیں۔

Back to top button