حسینہ کے بعد سابقہ مشرقی اور مغربی پاکستان قریب کیوں آنے لگے؟

سابقہ مغربی پاکستان کی انٹیلیجنس اسٹیبلشمنٹ کی کاوشوں سے اب سابقہ مشرقی پاکستان میں حسینہ واجد کی بھارت نواز حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین سفارتی تعلقات میں تیزی سے بہتری آ رہی ہے، جو کہ اصل مقصد بھی تھا۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں دونوں برادر ممالک نے اپنے تعلقات ہر سطح پر بہتر بنانے اور اگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس ملاقات کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف اور ڈاکٹر محمد یونس نے ’تاریخی تعلقات اور مشترکہ اقدار کے حوالے سے معاشی اور تجارتی تعلقات کو بڑھانے کی مشترکہ خواہش کی تکمیل پر زور دیا۔‘ اس موقع پر شہباز شریف نے ڈاکٹر محمد یونس کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس ملاقات سے قبل شہباز شریف نے ڈاکٹر یونس کی دعوت پر ایک تقریب میں شرکت بھی کی جو بنگلہ دیش کی اقوام متحدہ کی رکنیت کے 50 سال مکمل ہونے کے حوالے سے تھی۔

اِن ملاقاتوں کے تناظر میں سوشل میڈیا پر بھی بہت سی آرا سامنے آ رہی ہیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری پر بحث ہو رہی ہے۔ انور چھٹہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’جنوبی ایشیا کا مستقبل یہی ہے، امن اور ترقی۔ نفرت، دشمنی اور تنازع کی کوئی جگہ نہیں ہے، امید ہے کہ انڈیا بھی اس بات کو سمجھے گا۔‘ ایک اور صارف محفوظ نے بھی ایکس پر ڈاکٹر یونس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دینے پر آپ کا شکریہ، مضبوط تعلقات، منصفانہ باہمی تجارت اور فعال سارک تنظیم امن اور سکیورٹی کے لیے ضروری ہیں۔‘

1971 کی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی ایک حساس موضوع رہا ہے۔ شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے ادوار میں دونوں ممالک کے تعلقات خاص طور پر جنگی جرائم کے مقدمات کے تناظر میں مزید خراب ہوئے۔ تاہم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کی طرح دونوں ملکوں کے تعلقات تبدیل ہونے کے بارے میں بھی چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں اور حال ہی میں بنگلہ دیش میں ایک تنظیم نے 11 ستمبر کو بانی پاکستان محمد علی جناح کی برسی بھی منائی۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا بنگلہ دیش کی پاکستان کے حوالے سے سفارتکاری میں بھی کوئی تبدیلی آئے گی؟ دیگر کئی ممالک کی طرح پاکستان نے بھی پروفیسر یونس کو بطور چیف ایڈوائزر تعیناتی پر مبارکباد دی تھی۔ اس ضمن میں بنگلہ دیش میں پاکستان کا سفارت خانہ بھی کافی متحرک ہے۔ بنگلہ دیش میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر نے موجودہ حکومت کے مشیروں سے ملاقات کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے خالدہ ضیا کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ پروفیسر یونس کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔

نان فائلرز پر پابندیاں لگانے سے ٹیکس میں اضافہ ممکن کیوں نہیں؟

بنگلہ دیش کے مشہور مصنف فہام عبدالسلام کا خیال ہے کہ گذشتہ 15 سال میں بنگلہ دیش کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انڈیا کی نظروں سے دیکھا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سنہ 1971 کی تاریخ کے اردگرد ہی گھومتے رہے ہیں۔1971 کے ’قتل عام‘ پر معافی بنگلہ دیش میں ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کئی بار اس بارے میں بات کر چکے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اب تک ایسا کچھ ہو نہیں سکا۔ اس بارے میں پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کا خیال ہے کہ 1971 کی تکلیف دہ تاریخ دونوں ممالک میں موجود ہے لیکن یہ مسئلہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے حل کر لیا اور اس سلسلے میں 1974 میں ایک معاہدہ بھی ہو گیا تھا۔ لہذا اب ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر دونوں ممالک کو اپنے عوام کے مفاد میں آگے کی جانب بڑھنا چاہیئے۔

Back to top button