مخصوص نشستوں کا فیصلہ : تشریح کی آڑ میں آئین دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا ، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی مخصوص نشستوں پر اکثریتی ججز کی 14 ستمبر کی وضاحت کو بھی چیلنج کردیا، کمیشن کا مؤقف ہےکہ تشریح کی آڑ میں آئین کو دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا۔

نظر ثانی کیس میں الیکشن کمیشن نےاضافی گزارشات بھی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی جس میں فیصلہ پر عمل روکنےکی استدعا بھی کی گئی ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ نظر ثانی پر فیصلہ ہونےتک عدالتی فیصلہ پر حکم امتناع دیا جائے۔

الیکشن کمیشن کےمطابق تشریح کی آڑ میں آئین کو دوبارہ نہیں لکھاجا سکتا، عدالت نےتفصیلی فیصلے میں اپنے 12 جولائی کےاحکامات سے انحراف کیا جب کہ تفصیلی فیصلے میں عدالت نے 41 ارکان کو تحریک انصاف تک محدود کر دیا۔

اضافی گزارشات میں کہاگیا کہ آزاد ارکان کی سیاسی جماعت میں شمولیت کی معیاد تین دن ہےلیکن سپریم کورٹ نےارکان کو 15 دن دے کر آئین کےالفاظ کو بدل دیا۔آزاد ارکان نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کےبیان حلفی جمع کرائےلیکن عدالتی فیصلے میں ارکان کےبیانات حلفی کو مکمل نظر انداز کردیاگیا۔

الیکشن کمیشن کےمطابق امیداروں کی جانب سے سیکشن 66 کے تحت پارٹی وابستگی کے ڈیکلریشن جمع نہیں کرائے گئے اور رولز 94 انتخابی نشان والی سیاسی جماعت کےلیے ہے۔

پی ٹی آئی  نےججز چیمبر میں جو دستاویزات جمع کرائی وہ کبھی اوپن کورٹ میں پیش نہیں کی گئی لہٰذا تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔ پی ٹی آئی نے کسی فورم پر اپنےحق کا دعویٰ بھی نہیں کیا لہٰذا سپریم کورٹ فل کورٹ کافیصلہ ہےکہ جو فریق نہ ہو اسےریلیف نہیں دیاجاسکتا۔

الیکشن کمیشن نے نظر ثانی درخواست میں مؤقف اپنایاہےکہ عدالتی فیصلے پر تاخیر کاذمہ دار الیکشن کمیشن نہیں، 12 جولائی کےفیصلے کی وضاحت 25 جولائی کو دائرکی اور سپریم کورٹ نے 14 ستمبر کو وضاحت کا آرڈر جاری کیا۔

درخواست گزار کےمطابق پی ٹی آئی  کی دستاویز پر عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری نہیں کیااور عدالت نے پی ٹی آئی دستاویزات پر الیکشن کمیشن سے جواب طلب نہیں کیا، الیکشن کمیشن کی وضاحت کی درخواست کےبعد پارلیمنٹ نے قانون سازی کردی ہے۔ الیکشن کمیشن نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ 14 ستمبر کی وضاحت پر نظر ثانی کرے۔

سپریم کورٹ : آرٹیکل 63 اے کے فیصلے پر نظر ثانی اپیلوں پر سماعت 30 ستمبر کو ہوگی

Back to top button