نان فائلرز پر پابندیاں لگانے سے ٹیکس میں اضافہ ممکن کیوں نہیں؟

نان فائلرز پر مختلف پابندیاں عائد کرنے سے فوری ٹیکس نیٹ میں اضافہ تو ممکن نہیں تاہم عوامی مشکلات مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے نان فائلرز پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے کے فیصلے کے بعد اب ٹیکس قوانین سے نان فائلرز کی کیٹیگری کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔نان فائلرز کی کیٹگری ختم کرنے کے بعد وہ افراد جو پہلے لین دین پر زیادہ ٹیکس دیتے تھے مگر ڈاکیومینٹڈ اکانومی سے باہر رہتے تھے وہ اب مزید ایسا نہیں کر سکیں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں گذشتہ چند برسوں کے دوران فائلرز اور نان فائلرز سے متعلق بحث میں شدت آئی ہے حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ افراد کو اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی ترغیب دینے کیلئے نان فائلرز پر مختلف اقسام کے ٹیکسوں کی شرح میں اضافوں کا اعلان کیا۔ حکومت کی طرف سے نان فائلرز سے زیادہ ٹیکس چارج کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں کافی بحث بھی ہوئی اور اس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ممیز اور مزاح پر مبنی تبصرے بھی کیے گئے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام میں فائلرز اور نان فائلرز کی علیحدہ علیحدہ کیٹیگریاں سنہ 2013 میں متعارف کروائی گئی تھیں۔تاہم وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق’پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں نان فائلر کی اختراع موجود ہے، جسے اب ہم ختم کرنے جا رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس یہ گنجائش نہیں ہے کہ پاکستان میں کوئی نان فائلر رہے۔اس لئے اب اگر آپ کے پاس این ٹی این نمبر نہیں ہو گا، تو آپ کو اضافی ٹیکس کے ساتھ مختلف پابندیاں برداشت کرنا ہوں گی۔۔۔‘
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق فائلرز اور نان فائلرز میں کیا فرق ہے؟ ماہرین کے مطابق ’فائلرز ایسے افراد ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے ذمہ واجب الادا ٹیکس جمع کروایا ہو اور اس کے بعد اس ٹیکس کے گوشوارے یعنی ریٹرنز حکومت کے پاس جمع کروائے ہوں۔‘جبکہ نان فائلرز ایسے افراد ہوتے ہیں جنھیں ریٹرنز جمع کروانے کی ضرورت تو ہوتی ہے مگر وہ اضافی ٹیکس دے کر ڈاکومینٹڈ اکانومی سے باہر رہتے ہیں اور اپنے ٹیکس گوشوارے حکومت کے پاس جمع نہیں کرواتے۔‘ماہرین کے مطابق ’ٹیکس قوانین کے تحت نان فائلرز کاروباری اور ذاتی ٹرانزیکشنز پر لگ بھگ دگنا ٹیکس دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فی الوقت پاکستان کے ٹیکس قوانین میں یہ گنجائش موجود ہے کہ آپ زیادہ ٹیکس دے کر نان فائلرز رہیں۔ مگر اب حکومت اس کو بدلنے جا رہی ہے۔‘
سپریم کورٹ سے اوپر ایک وفاقی آئینی عدالت بنانا ضروری کیوں ہوگیا ؟
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے سے ملک میں ٹیکس نیٹ پر کیا اثر پڑے گا؟
حکومت کی جانب سے ٹیکس قوانین میں سے نان فائلرز کی کیٹیگری ختم کرنے کے اقدام سے کیا پاکستان میں ٹیکس نیٹ میں مزید افراد آ پائیں گے؟ماہرین کے مطابق ’حکومت کی جانب سے جب نان فائلرز کی کیٹگری ختم کرنے کے بعد جب ایسی پابندیاں لگائی جائیں گی جن کی وجہ سے لین دین میں رکاوٹ پیدا ہو گی تو پھر اُمید ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو گا۔‘ تاہم صرف اس واحد اقدام سے ٹیکس نیٹ نہیں بڑھ سکتا۔ماہرین کے مطابق ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لیے سب سے پہلے ملک میں ٹیکس ریٹ کو کم کرنا پڑے گا اور اس سے بڑھ کر اس بد اعتمادی کو ختم کرنا ہو گا جس میں ایک ٹیکس ادا کرنے والے فرد کو چور سمجھتے ہیں اور جو ٹیکس لے رہا ہے اسے رشوت خور سمجھا جاتا ہے۔‘
حکومت کی جانب سے نان فائلرز کی کیٹیگری کے خاتمے کے بعد کیا حکومت کو نان فائلرز سے زیادہ ٹیکس سے وصولی سے محرومی کے بعد آمدنی میں نقصان ہو گا؟ اس سوال کے جواب میں معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اس اقدام سے ریونیو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بڑھ جائے گا کیونکہ ٹیکس ادا کرنے کے اہل افراد کے پاس پابندیوں سے بچنے کے لیے گوشوارے جمع کرنا لازمی ہو گا۔‘ ماہرین کے مطابق نان فائلرز کی کیٹیگری کے خاتمے سے حکومت کے ریونیو پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ اگر ملک میں ٹیکس وصولی کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو اس میں نان فائلرز سے جمع ہونے والا ٹیکس صرف 25 ارب روپے ہے۔ انھوں نے کہا حکومت کو اس اقدام سے شارٹ ٹرم میں تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا تاہم لانگ ٹرم میں اس کا فائدہ ہو سکتا ہے
