حماد اظہر بمقابلہ شاہ زیب خانزادہ: مقابلہ کون جیتا؟


جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی شاہ زیب خانزادہ اور وزیر توانائی حماد اظہر کے درمیان توانائی کے شعبے پر ہونے والی گرما گرم ٹی وی بحث نے نہ صرف وزیر موصوف کو بےنقاب کردیا بلکہ انکی توانائی پالیسی بھی ادھیڑ کر رکھ دی۔ یہ سارا تنازع تب شروع ہوا جب شاہ زیب خانزادہ نے وزیر توانائی کو اپنے شو ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی طرف سے شعبہ توانائی کو درپیش مسائل اور آنے والے گیس کے بحران پر سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ پر بات کرنے کے لیے مدعو کیا تھا۔
پروگرام نشر ہونے سے پہلے ہی دونوں کے درمیان لفظی جھڑپ شروع ہو چکی تھی، اس سے پہلے ایک شو میں شاہ زیب خانزادہ نے نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 21-2020 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا تھا اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری میں حکومت کی جانب سے کی گئی تاخیر پر سوال اٹھایا تھا۔ وفاقی وزیر حماد اظہر نے ٹوئٹر پر شاہزیب کو جواب دیا تھا کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے شو میں غلط رپورٹنگ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جواب میں انگریزی اخبار ‘دی نیوز’ نے وزیر کی تردید کے بارے میں ایک خبر شائع کی تھی جس کا عنوان تھا کہ محترم وزیر صاحب! یہ سوالات جیو نیوز کی نہیں بلکہ نیپرا کی رپورٹ میں اٹھائے گئے ہیں۔
حماد اظہر نے اس خبر پر یہ غلط موقف دیا تھا کہ ‘شاہ زیب خانزادہ، یہ نیپرا کی رپورٹ نہیں ہے جو سوالات اٹھاتی ہے بلکہ توانائی کے شعبے کے بارے میں آپ کی سمجھ ہے، آج رات اپنے شو میں حقائق کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں اور یکطرفہ خبروں کو چھاپنے کے لیے اپنے گروپ کے اخبار کا استعمال بند کریں’۔
چنانچہ شازیب نے حماد اظہر کا چیلنج قبول کرتے ہوئے انہیں اپنے پروگرام میں مدعو کر لیا۔ پروگرام کے آغاز سے ہی حماد اظہر اور شاہ زیب خانزادہ گزشتہ ہفتے نشر کیے گئے شو اور نیپرا کی رپورٹ کا بار بار حوالہ دیتے رہے۔
وفاقی وزیر اس بات پر مصر تھے کہ حکومت نے ایل این جی کا بروقت آرڈر دیا تھا اور میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی نہیں کی گئی، انہوں نے کہا کہ نیپرا کی رپورٹ ایل این جی کے بارے میں نہیں بلکہ لوڈ بیلنسنگ سے متعلق تھی۔ تاہم شاہ زیب نے دوبارہ رپورٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح ریگولیٹر متعلقہ حلقوں کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے باوجود ایندھن کی مطلوبہ مقدار حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ براہ راست نشر ہونے والے اس پروگرام کے دوران ایک مرحلے پر حماد اظہر نے میزبان کو پرسکون رہنے کا مشورہ بھی دیا لیکن جیسے جیسے پروگرام آگے بڑھتا گیا دونوں ہی فریقین ایک دوسرے کو سننے کے لیے آمادہ نظر نہ آئے اور دوسرے فریق کی بات سنے بغیر مستقل بولنے کا سلسلہ جاری رکھا اور یہ سلسلہ پروگرام کے اختتام تک جاری رہا۔
شو کے دوران حماد اظہر اور میزبان میں درپیش تکنیکی مشکلات پر بھی جھڑپ ہوئی جس پر وفاقی وزیر نے یہ تک کہہ دیا کہ شاہ زیب، آج آپ کے پروگرام کے طریقہ کار پر میں نہیں بلکہ ناظرین فیصلہ کریں گے۔ تاہم پروگرام کے دوران ہی صاف نظر آ رہا تھا کہ حماد اظہر کے پاس شازیب خانزادہ کے تابڑ توڑ سوالات کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔
پروگرام کے بعد ٹوئٹر صارفین کی جانب سے تبصروں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا جو ابھی تک جاری ہے۔ خاتون صحافی بے نظیر شاہ نے حقائق، تحقیق اور سرکاری اعداد و شمار کو بہترین انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ذاتی حملوں کا مؤثر طریقے سے جواب دینے پر شاہ زیب خانزادہ کو خوب سراہا۔
صحافی حمزہ اظہر سلام نے کہا کہ یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ حماد اظہر ذاتی حملے کرتے رہے اور نیپرا کی رپورٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا۔انہوں نے کہا کہ حماد اظہر میں صلاحیت ہے لیکن پی ٹی آئی حکومت کی ابتر معاشی کارکردگی کے باعث وہ ایک ابھرتے ہوئے ستارے سے محض معاون خصوصی بن کر رہ گئے ہیں جبکہ شاہ زیب خانزادہ ایک بہترین صحافی کے طور پر اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ وکیل مرزا معیز بیگ نے تبصرہ کیا کہ حکومت کی سوشل میڈیا ٹیم ایک ناکام پرفارمنس کے بعد لوگوں کو یہ باور کرانے کے لیے اوور ٹائم کام کر رہی ہے کہ حماد اظہر نے شاہ زیب خانزادہ کے شو میں اچھی طرح سے مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں اگر پروگرام کے لیے حماد اظہر کی تیاری نہیں تھی تو انہیں شازیب خانزادہ کو چیلنج نہیں دینا چاہیے تھا۔

Back to top button