حماس نے امریکی پٹھو اسرائیل کو ناکوں چنے کیسے چبوائے؟

خودکار آتشیں اسلحے، جدید جاسوسی ٹیکنالوجی اور جنگی مہارت کی کئی سالہ تربیت کے باوجود اسرائیلی فوج حماس کے غیر متوقع حملے کے سامنے حیران کن طور پر پسپا ہوگئی۔حماس نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ اسرائیل پر حملہ کیا جس سے پوری دنیا حیران رہ گئی۔ یہ حملہ اتنا اچانک اور سبک رفتاری سے کیا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔حماس کے حملے میں اسرائیل کے فوجیوں سمیت سینکڑوں یہودی آبادکار ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد اہلکاروں اور جنرلز کو حماس نے یرغمال بنالیا ہے۔ تاحال اسرائیلی فوج اپنے یرغمالیوں کو رہا کروانے میں ناکام رہی ہے۔حماس کے عسکریت پسندوں نے غزہ کے ارد گرد کھڑی کی گئی رکاوٹیں توڑ دیں اور مرضی سے علاقے میں گھومتے پھرتے رہے۔ حملہ آوروں کے ہاتھوں اسرائیلی قصبوں میں درجنوں شہری بھی مارے گئے۔

حماس کے اس حملے نے یہ سوال اُٹھایا دیا ہے کہ آخر جنگی مہارت اور جدید اسلحے سے لیس اسرائیلی فوج اپنا دفاع کرنے میں ناکام کیوں رہی اور کسی مزاحمت کے بغیر ہی حماس نے اسرائیلی فوج سے ہتھیار ڈلوادیئے۔اسرائیل کی عالمی شہرت یافتہ خفیہ ایجنسی موساد کے سابق سربراہ افرائیم ہیلیوی نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ غزہ کی پٹی اور اس کے ارد گرد اسرائیلی بستیوں پر حملہ اتنا اچانک ہوا کہ ہمیں کچھ اندازہ نہ ہوسکا یہ آخر ہو کیا رہا ہے۔افرائیم ہیلیوی نے مزید کہا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے ہورہی ہوگی لیکن ہماری خفیہ ایجنسی کو اس کی بھنک تک نہ پڑ سکی۔ ہمیں کوئی وارننگ ملی اور نہ ہم درست اداراک کرپائے۔

موساد کے سابق سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ حماس کا یہ حملہ سراسر حیران کن اور ناقابل یقین نہیں تھا جس میں محض 24 گھنٹے سے بھی کم عرصے میں 3 ہزار سے زائد راکٹس داغے گئے۔افرائیم ہیلیوی نے کہا کہ حماس کا یہ حملہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ حماس کے پاس اتنی تعداد میں راکٹس ہوں گے اور وہ ہمارے خلاف اتنے مؤثر بھی ثابت ہوں گے۔موساد کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ پہلی بار فلسطینیوں نے اسرائیل کے علاقوں میں کافی اندر تک داخل ہوکر متعدد دیہاتوں کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ ہم نے ان کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔

ادھر اسرائیلی ایلچی نے بھی حماس کے تمام جاسوسی نیٹ ورکز کے حصار کو توڑ کر اسرائیلی سرزمین پر حملے کو دوسرا نائن الیون قرار دیدیا جبکہ حکومتی سطح پر بھی اس کو انٹیلی جنس کی بدترین ناکامی کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عالمی جنگی ماہرین نے بھی اسرائیل کی اس شکست کو انٹیلی جنس کی ناکامی اور حد سے زیادہ خود اعتمادی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے اپنے دشمن کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا۔

خیال رہے کہ1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے 50 سال مکمل ہونے کے ایک دن بعد ہونے والے اچانک حملے پر اسرائیلی فوج ایک بار پھر حیران رہ گئی۔ عرب اسرائیل جنگ کے آغاز پر شامی اور مصری ٹینکوں کی قطاروں نے اسرائیل کو حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سابق سربراہ ریٹائرڈ جنرل جیورا ایلاند نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ’یہ حملہ اس وقت کے واقعات سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اسرائیل بہت منظم حملے پر مکمل طور پر حیران رہ گیا۔‘

حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیلی دفاعی سربراہوں کو ان بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ یہ تباہی کیسے ہوئی؟اسرائیل کے قومی سلامتی کے سابق مشیر ایال حلاتا کا کہنا ہے کہ ’حماس طویل عرصے سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت مربوط حملہ ہے اور بدقسمتی سے وہ ہمیں حکمت عملی کے لحاظ سے حیران کرنے اور تباہ کن نقصان پہنچانے میں کامیاب رہے۔‘

Back to top button