حکومتی فیصلے سے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی میں اضافے کا خطرہ


ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ روکنے کے لئے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اسکی خریداری پر حد مقرر کرنے کے فیصلے کے بعد اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ڈالر کی ذخیرہ اندوزی میں کمی کی بجائے الٹا اضافہ ہوسکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسے نمائشی اقدامات کی بجائے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کے پیچھے موجود اصل محرکات قابو میں لانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئں۔
سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو امریکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی روکنے کا اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر کی وجہ سے اس کی ذخیرہ اندوزی ہو رہی ہے اور افواہ سازی کی بنیاد پر اس کی قدر میں اضافے کے امکان کی وجہ سے سرمایہ کار اسے خرید کر ذخیرہ کر رہے ہیں جس کی روک تھام ضروری ہے۔ لیکن معاشی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ڈالر کی بڑھتی قیمت پر کوئی فوری اثر نہیں پڑے گا۔ انکا۔کہنا ہے کہ مرکزی بینک کو دراصل درآمدات کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے جو کہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔
خیال رہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے ملک میں کام کرنے والی ایکسچینج کمپنیوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی شخص یومیہ دس ہزار امریکی ڈالر اور سالانہ ایک لاکھ ڈالر نقد یا ترسیلات زر کی صورت میں خریداری نہ کرے۔ مرکزی بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری پر ایک خاص حد سے زیادہ خریداری پر پابندی تب لگائی گئی ہے جب ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ روپے کی قدر میں یہ کمی موجودگی سال مئی میں شروع ہوئی جس میں گراوٹ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس وقت انٹر بینک میں ایک ڈالر کی پاکستانی روپے میں قیمت 178 روپے سے تجاوز کر چکی ہے اور اوپن مارکیٹ میں یک ڈالر 181 پاکستانی روپوں میں فروخت ہو رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب جاری کیے جانے والے اعلامیے کے مطابق بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کی جانب سے افراد کو زرمبادلہ کی فروخت کا نظم و نسق چلانے والے ضوابط میں ترمیم کی ہے جس کے تحت کوئی بھی شخص یومیہ نقد یا بیرونی ترسیلات زر کی شکل میں 10,000 امریکی ڈالر اور کیلنڈر سال میں 100,000 امریکی ڈالر یا دیگر کرنسیوں میں اس کے مساوی سے زائد کی خریداری نہیں کرے گا۔ بینک کے مطابق خریداری کی یہ حد زرمبادلہ کے لیے فرد کی ذاتی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق یہ اقدام ڈالر کی خریداری کو دستاویزی اور اس میں شفافیت بڑھانے اور زرمبادلہ کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسچینج کمپنیاں 1,000 امریکی ڈالر یا دیگر کرنسیوں میں مساوی سے زائد کی فروخت پر سپورٹنگ دستاویزات حاصل کریں گی جس سے لین دین کا مقصد کا ظاہر ہو اور کمپنیاں اتھارٹی لیٹرز پرلین دین نہیں کریں گی۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی ایک مقررہ حد سے زیادہ خریداری پر پابندی کے اقدام کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ مرکزی بینک کی جانب سے ایکسچینج کمپنیوں پر سٹے بازی کی بات ناقابل فہم ہے کیونکہ کمپنیوں کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ڈالر نہیں ہوتے کہ وہاں سے خریداری کر کے امریکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی کی جائے۔ انھوں نے بتایا کمرشل بینکوں کے پاس ڈالر زیادہ ہوتے ہیں۔ ظفر پراچہ نے بتایا کہ افغانستان میں طالبان کے آنے سے پہلے دس سے پندرہ لاکھ امریکی ڈالر یومیہ جا رہے تھے تاہم پھر اس میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا جب ایک کروڑ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر افغانستان سمگل ہونا شروع ہوگئے تھے۔
تاہم سٹیٹ بینک کی جانب سے ڈالر کی خریداری کے لیے بائیو میٹرک کی شرط لاگو ہونے کے بعد ڈالر کی سمگلنگ میں کمی آئی ہے۔ انھوں نے کہا ڈالر کی خریداری پر حد مقرر کرنے سے اسکی سمگلنگ میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔ پراچہ کے بقول سٹیٹ بینک کے تازہ ترین اقدام ڈالر کی قیمت پر فوری طور پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔ انھوں نے کہا ڈالر کی قیمت کا تعین انٹر بینک کا ریٹ ہے کرتا ہے جہا ں سے امپورٹ کے لیے ادائیگی ہوتی ہے اور اسی پر اوپن مارکیٹ میں بھی ریٹ میں ردو بدل ہوتا ہے۔
ڈارسن سکیورٹیز میں معاشی امور کے تجزیہ کار یوسف سعید نے کہا کہ حکومتی فیصلے سے ڈالر کی گرے مارکیٹ کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوگا۔ گرے مارکیٹ حوالہ اور ہنڈی کی مارکیٹ ہے کیونکہ جب خریدار ایک حد سے زیادہ ڈالر قانونی چینل سے نہیں خرید پائیں گے تو گرے مارکیٹ کی جانب جائیں گے۔ انھوں نے کہا اس وقت بھی گرے مارکیٹ میں ڈالر کا ریٹ انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں زیادہ ہے اب تازہ ترین حکومتی فیصلے سے اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

Back to top button