پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جنسی بھیڑیے بڑھنے لگے


پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جنسی بھیڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ پچھلے برس پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر ایک خاتون کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزامات لگانے کے بعد اب ٹیم کے لیگ سپنر یاسر شاہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے ایک ایسے دوست کی مدد کی جس نے ایک 14 برس کی لڑکی کا ریپ کیا ہے۔ تاہم کرکٹ بورڈ حکام نے کہا ہے کہ جب تک مکمل حقائق سامنے نہیں آجاتے وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
یاد رہے کہ 19 دسمبر کو اسلام آباد کے شالیمار تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے مطابق یاسر شاہ کے فرحان نامی ایک دوست پر 14 برس کی لڑکی کے ساتھ ریپ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمہ لڑکی کی خالہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ درخواست کے مطابق جب لڑکی ٹیوشن کے لیے جارہی تھی، تو فرحان نے اسے ٹیکسی میں بٹھایا اور اسلام آباد کے ایف الیون سیکٹر کے ایک اپارٹمنٹ پر لے گیا، جہاں مبینہ طور پر فرحان نے گن پوائنٹ پرجنسی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔ ایف آئی آر کے مطابق یاسر شاہ نے لڑکی کو یہ دھمکی دی کہ اگر اس نے کسی کو شکایت کی تو وہ اسے اپنے اثرورسوخ کے ذریعے کسی بھی مقدمے میں پھنسا سکتا ہے۔
تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او ٹیپو سلطان نے بتایا کہ کرکٹر یاسر شاہ پر کوئی براہ راست الزام عائد نہیں کیا گیا ہے جس وجہ سے ابھی فوری طور پر پولیس ان سے تفتیش یا گرفتاری سے متعلق غور نہیں کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ایف آئی آر کے اندراج کے باوجود ابھی پولیس متحاط انداز میں یاسر شاہ کے مبینہ دوست کے کردار سے متعلق تفتیش کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ایف آئی آر میں یاسر شاہ پر ہراسانی اور ریپ میں معاونت جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہمارے علم میں آیا ہے کہ ہمارے سینٹرل کنٹریکٹ یافتہ ایک کھلاڑی پر چند الزامات عائد کیے گئے ہیں. پی سی بی فی الحال اس حوالے سے معلومات اکٹھی کررہا ہے اور جب تک اس سلسلے میں مکمل حقائق سامنے نہیں آجائے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا‘۔ یاسر شاہ کے خلاف الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس خبر کو کرکٹ کے مشہور اکاؤنٹس سے بھی شیئر کیا گیا ہے۔
صارف مہوش بھٹی یاسر شاہ پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ اس خبر کے آنے کے بعد کئی لوگوں نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ 14 سالہ لڑکی صرف شہرت اور دولت کی خاطر خود کو ریپ کروا لے گی۔ اور یہ وہی ملک ہے جہاں ایک لڑکی جس کا سر قلم کر دیا گیا، اسے بھی اس کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور یہ کہا گیا کہ وہ اُس لڑکے کے گھر گئی ہی کیوں۔‘ صارف ازما صدیقی نے لکھا ہے کہ یاسر شاہ اور ان کے دوست کے خلاف ریپ کے الزامات پر ایف آئی آر درج ہو گئی ہے۔ انھوں نے اسے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مزید تفصیلات اور یاسر شاہ کے بیان کا انتظار کرنا چائیے۔
صارف مروہ خان نے لکھا کہ انھیں نہیں لگتا کہ یاسر شاہ نے ایسا کیا ہو گا۔ تاہم اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو یہ بات ہمیں یاسر شاہ کے مداحوں کے طور پر تکلیف دے گی۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ مگر جو بھی متاثرہ ثابت ہوتا ہے، اسے ہر صورت انصاف ملنا چائیے۔
ارفہ فیروز ذکی کے مطابق یہ مقدمہ ابھی زیر تفتیش ہے اور یہ معاملہ جلد فارنزک حقائق کی روشنی میں حل کر لیا جائے گا۔
صارف تیمور زمان لکھتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو یاسر شاہ کے معاملے پر واضح موقف لینا ہوگا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کرکٹ بورڈ ایک واضح پالیسی مرتب کرے تاکہ وہ مستقبل میں ایک مثال بن سکے۔ ’کوور ڈرائیو کرک‘ کے نام سے ٹوئٹر پر ایک صارف نے اس خبر تبصرہ کرتے ہوئہ کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو نہ صرف یہ بہت ہی قابل کراہت بات ہے بکہ ہماری معاشرتی برائیوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ انھوں نے بھی پی سی بی پر زور دیا کہ وہ ایسا نظام بنائیں تاکہ کھلاڑیوں کی نگرانی کی جا سکے۔

Back to top button