حکومت توشہ خانہ کی تفصیلات سامنے لانے پر کیوں مجبور ہوئی؟

ماضی میں جب بھی کسی نے توشہ خانہ کے تحائف بارے معلومات کے حصول کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا تو اسے یہ کہہ کر خاموش کروا دیا گیا کہ تحائف بارے معلومات افشاء کرنے سے برادر ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے اور یہ معلومات قومی راز ہیں جو سامنے نہیں لائے جا سکتے۔ تاہم اب 446 صفحات پر مشتمل توشہ خانہ کا ڈیٹا سامنے آ چکا ہے اور خاموشی سے توشہ خانہ کے تحائف پر ہاتھ صاف کرنے والے کئی گوشہ نشین بے نقاب ہو چکے ہیں تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ حکومت اپنی مرضی سے تمام معلومات سامنے لے کر آئی ہے یا کس بات نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے؟
روزنامہ جنگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ماضی کی طرح موجودہ اتحادی حکومت بھی توشہ خانہ کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ کے احکامات نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا۔حکومت کے ایک باخبر سرکاری ذریعے نے بتایا کہ توشہ خانہ کے انکشافات کا سارا کریڈٹ جسٹس عاصم حفیظ کو جاتا ہے۔ ہائی کورٹ کے معزز جج نے توشہ خانہ کے ریکارڈ کو منظر عام پر لانے تک حکومت کو کھسکنے نہیں دیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کے قواعد و ضوابط کی پالیسی کے مطابق ریکارڈ کو ظاہر کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالتے ہوئے موجودہ حکومت کے خلاف یکے بعد دیگرے پانچ فیصلے دئیے۔
معزز جج عاصم حفیظ نے اپنا پہلا حکم 19 دسمبر 2022 کو دیا۔ جاری کردہ حکم میں معزز جج نے اصرار کیا کہ آزادی کے بعد سے اب تک وزرائے اعظم / صدور کو موصول ہونے والے سرکاری تحائف سے متعلق معلومات کو فوری طور پر عام کیا جائے۔
توشہ خانہ کا ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے مختلف افراد کی جانب سے کابینہ ڈویژن کو متعدد درخواستوں کا ذکر کرتے ہوئے اور حکومت کی جانب سے ریکارڈ کو روکنے کی وجوہات پر غور کرتے ہوئے معزز جج نے کہا کہ فاضل کونسل عدالتی نظرثانی کے دائرہ کار میں توشہ خانہ کے ریکارڈ کو ظاہر کرنے کا حکم دے سکتی ہے اور عدالت ایکٹ 2017 کے حوالہ شدہ سیکشنز کی تشریح کرتے ہوئے مراعات یافتہ دستاویزات کی درخواست میں دخل دے سکتی ہے۔
عدالت نے حکومت کو ریکارڈ اکٹھا کرکے تحائف کے عدم انکشاف سے استحقاق اور استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کی وجوہات پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتےہوئے کہا کہ اس کی وضاحت کی جائے یہ کس طرح عوامی مفاد کو نقصان پہنچائے گا اور متعلقہ قانون کے تناظر میں ملک کے بین الاقوامی تعلقات کو خراب کرے گا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے اگلا حکم ایک ماہ کی مدت کے بعد 19 جنوری 2023 کو دیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ کابینہ ڈویژن دستاویزات پیش کرنے اور عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی۔لہٰذا حکومت کو معلومات اور دفاع کی تیاری کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا تھا کہ ریکارڈ کو خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے؟
دو ہفتوں کے بعد 7 فروری 2023 کوحکومت نے ایک بار پھر یہ کہتے ہوئے کچھ وقت کی درخواست کی کہ وزارتی کمیٹی توشہ خانہ کے پورے ریکارڈ کو ڈی کلاسیفائی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اس پر معزز جج نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کچھ بھی ہو، اس عدالت کے حکم کی تعمیل کی جائے ورنہ ظاہری ناکامی کو عدالتی کارروائی کی پیش رفت میں جان بوجھ کر نافرمانی اور رکاوٹ قرار دیا جائے گا۔ جس کے بعد بالآخر حکومت توشہ خانہ کا ریکارڈ سامنے لے آئی۔
خیال رہے کہ سامنےآنے والی تازہ حکومتی فہرست کے مطابق پچھلے اکیس سالوں میں توشہ خانہ سے سرکاری تحائف وصول کرنے والی بااثر شخصیات میں کئی سابق صدور، وزرائے اعظم، سیاستدان، سابق فوجی جرنیل، جج اور صحافی شامل تھے۔ مختلف سیاسی، عسکری، صحافتی شخصیات اور بیوروکریٹس کی جانب سے توشہ خانے میں بلاتفریق لوٹ مار کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔
وفاقی حکومت کی طرف سے سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی جانے والی چار سو چھیالیس صفحات پر مبنی فہرست کے مطابق اس عرصے کے دوران پاکستان کے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کو 181‘ پاکستان مسلم لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم نوازشریف کو 55‘ شاہد خاقان عباسی کو27‘عمران خان کو 112اورپرویز مشرف کو 126تحائف ملے۔
یاد رہے، توشہ خانہ ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران مہمان شخصیات کو ملنے والے تحائف کا وزارتِ خارجہ کے اہلکاراندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے۔ یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انہیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے کم مالیت کا ہے تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اسے مفت میں اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ جن تحائف کی قیمت 30 ہزار سے زائد ہوتی ہے، انہیں مقررہ قیمت کا 50 فیصد جمع کروا کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سن 2020 سے قبل یہ قیمت 20 فیصد تھی تاہم تحریک انصاف کے دور میں اسے 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا تھا۔
کئی سیاسی مبصرین کے مطابق ریاست پاکستان کو ملنے والے بیش قیمت تحائف کو اشرافیہ کے مفاد میں بنائے گئے قوانین کے ذریعے کوڑیوں کے مول ہتھیا لیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان میں توشہ خانہ کے قوانین کے مطابق کم قیمت اشیا کو بغیر کسی قیمت کی ادائیگی کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
توشہ خانہ کے حوالے سے منظر عام پر آنے والی تفصیلات کےمطابق بہت سی امیر اوربا اثر حکومتی شخصیات پچھلے دو عشروں کے دوران بغیر کوئی پیسہ ادا کئے کم قیمت اشیا حاصل کرتی رہی ہیں۔
حیرت انگیز طور پر قانون کے مطابق فری تحائف وصول کرنے والوں میں سابق وفاقی محتسب، ایڈیٹر جنرل پاکستان،سابق ججز، کئی فیڈرل سیکریٹری اور ان ادوار کے وفاقی وزرا بھی شامل ہیں۔ توشہ خانے کی بہتی گنگا سے فیض یاب ہونے والوں میں پاکستان کے صدر، چیف ایگزیکیٹو اور وزرائے اعظم کے سٹاف کے لوگ بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی افیسرز، سینئر اور جونئیر کلرک، گن مین، ملٹری سیکرٹری اور پروٹوکول کے ارکان تک اس فہرست کا حصہ ہیں۔
