آزاد کشمیر کی 12 سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ غیر آئینی کیوں؟

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے کو آئینی اور قانونی مؤقف کے مطابق اصلاحات نہیں بلکہ ایک آئینی طور پر تسلیم شدہ طبقے کے حقِ نمائندگی سے محرومی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ نشستیں آئین کی دفعات 22، 15 اور 4 کے تحت ریاستی شہریوں کے بنیادی سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ نشستیں آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین کی دفعہ 22 کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر سے بے گھر ہونے والے ریاستی شہریوں کے لیے مخصوص کی گئی ہیں، جبکہ دفعہ 15 تمام ریاستی شہریوں کو قانون کے سامنے برابری کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ اسی تناظر میں آئینی ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں آئینی ڈھانچے کا لازمی حصہ ہیں اور انہیں ختم کرنا آئین کی روح اور مساوات کے اصول کے منافی ہوگا۔اگرچہ دفعہ 33 آئینی ترمیم کی گنجائش فراہم کرتی ہے، تاہم مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنا آئین کے بنیادی تصور، مساوات کے اصول اور کشمیر کے غیر منقسم سیاسی دعوے کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

اس حوالے سے بعض تقابلی دلائل، جن میں خیبرپختونخوا کے عارضی طور پر بے گھر افراد (ٹی ڈی پیز) یا ملک کے دیگر علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کا حوالہ دیا جاتا ہے، قانونی طور پر درست نہیں سمجھے جاتے۔ قانونی ماہرین کے بقول ٹی ڈی پیز پاکستان کے اندرونی شہری ہیں جو ایک آئینی ریاست کے اندر بے گھر ہوئے، جبکہ کشمیری مہاجرین ایک متنازع ریاست جموں و کشمیر کے ریاستی شہری ہیں، جن کی سیاسی شناخت اور نمائندگی مسئلہ کشمیر کے حل تک برقرار رہتی ہے۔

اسی طرح لاہور یا کراچی میں رہنے والے کسی بھی طبقے کے لیے علیحدہ نشستوں کا مطالبہ اس صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ وہ پاکستان کے برابر شہری ہیں اور اپنے متعلقہ حلقوں میں ووٹ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، مہاجرین کی نشستیں نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ سیاسی تسلسل کی نمائندگی (Continuity Representation) کی علامت ہیں، جو انہیں اپنے آبائی وطن کے سیاسی مستقبل سے جوڑے رکھتی ہیں۔اگر اس نظام میں جعلی سرٹیفکیٹس، ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں یا انتخابی عمل سے متعلق تحفظات موجود ہوں تو ان کا حل نشستوں کے خاتمے میں نہیں بلکہ سخت تصدیقی نظام، شفاف ووٹر فہرستوں اور ادارہ جاتی اصلاحات میں مضمر ہے۔ اس مقصد کے لیے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کسی سیاسی جماعت کے لیے فائدے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بے گھر سیاسی کمیونٹی کو ریاستی سیاسی عمل سے منسلک رکھنے کا وسیلہ ہیں۔ ان نشستوں کا مقصد کسی کو اضافی سیاسی برتری دینا نہیں بلکہ انہیں اس وقت تک نمائندگی فراہم کرنا ہے جب تک جموں و کشمیر کے تنازع کا حتمی حل سامنے نہیں آ جاتا۔آئینی طور پر دفعہ 22 مہاجرین کی نمائندگی کو تسلیم کرتی ہے، دفعہ 15 تمام ریاستی شہریوں کی برابری کو یقینی بناتی ہے، دفعہ 4 بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی کو کالعدم قرار دیتی ہے، جبکہ دفعہ 3-E تعصب اور تفرقہ انگیزی کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس تناظر میں مہاجرین کی 12 نشستوں کا خاتمہ نہ صرف آئینی طور پر متنازع قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے شمولیتی سیاسی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے اور مسئلہ کشمیر کے بنیادی بیانیے کے کمزور ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ان نشستوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں مزید شفاف، منظم اور مؤثر بنایا جائے تاکہ تمام ریاستی شہریوں کے حقوق اور نمائندگی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Back to top button