قومی سلامتی یا مفاہمت؟ پاکستان کس راستے کا انتخاب کرے گا؟

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کوئی بھی بیرونی دشمن اندرونی تعاون کے بغیر اپنے مقاصد میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ مسلم دنیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں اس تلخ حقیقت کا بارہا مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ عسکریت پسند تنظیمیں، خواہ وہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور بی ایل ایف ہوں یا ان کے مبینہ سیاسی و نظریاتی محاذ، ہمدرد سیاسی عناصر، سہولت کاروں، مالی معاونت، خفیہ معلومات اور محفوظ پناہ گاہوں کے بغیر مؤثر انداز میں سرگرم نہیں رہ سکتیں۔ دہشت گرد نیٹ ورک کبھی تنہائی میں کام نہیں کرتے بلکہ انہیں مختلف ذرائع سے وسائل، معلومات اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنے تزویراتی مقاصد کے حصول کے لیے انہیں پراکسی کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی، پراکسی جنگوں اور خفیہ سازشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ریاستی سطح پر بارہا مفاہمت اور خوش رکھنے کی پالیسیوں کو ترجیح دینا اور قوانین کے بلا امتیاز نفاذ میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرنا رہی ہے۔ مختلف ادوار میں حکومتوں کی ترجیحات میں بعض اوقات قومی مفادات اور خود مختاری کے تقاضے پس منظر میں چلے گئے، جس کا فائدہ مخالف قوتوں نے بھرپور انداز میں اٹھایا۔
تاہم موجودہ حالات میں ایک مضبوط ریاستی تصور ابھر کر سامنے آ رہا ہے، جسے بعض حلقے "ہارڈ اسٹیٹ” کا نام دیتے ہیں۔ اس تصور کے مطابق ریاست کو اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور آئینی حدود کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی رٹ قائم رکھنی چاہیے۔ اس نقطۂ نظر کے حامیوں کا خیال ہے کہ کمزور ریاستیں داخلی اور خارجی خطرات کا مؤثر مقابلہ نہیں کر سکتیں، جبکہ مضبوط ریاست ہی قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایسے حلقے بھی موجود ہیں جو مفاہمت اور سیاسی لچک کو قومی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمہ اور مصالحت دیرپا حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ تاہم اس بحث کے دوران یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ ریاست اپنی خودمختاری اور قانون کی بالادستی کو کس حد تک برقرار رکھتے ہوئے سیاسی اختلافات کو برداشت کر سکتی ہے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان نے ماضی میں "ڈو مور” جیسی بیرونی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے بھاری قیمت ادا کی اور ایک ایسی جنگ کے اثرات سہے جس نے ملک کو جانی، مالی اور سماجی لحاظ سے شدید نقصان پہنچایا۔ اس تناظر میں ان کا مؤقف ہے کہ اگر قربانیاں ناگزیر ہوں تو وہ قومی خودمختاری، سلامتی اور دشمن کے پراکسی نیٹ ورکس کے خلاف جدوجہد کے لیے ہونی چاہییں، کیونکہ قومی وقار کا تقاضا بھی یہی ہے۔ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو ریاستی رٹ اور قومی یکجہتی کے امتحان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ حالیہ احتجاجی سرگرمیاں محض عوامی ردعمل نہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک منظم اور گہری منصوبہ بندی کارفرما ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق شناختی دستاویزات اور آزادی کے نعروں کی آڑ میں بعض عناصر کشمیری عوام کو ایسے راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خطے کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
مبصرین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ ریاست آخر کب تک ایسے عناصر کے سامنے خاموش رہے گی جو اس کے بقول ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر آج اس طرز کی سرگرمیوں کو مکمل آزادی دی گئی تو مستقبل میں ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی نوعیت کے رجحانات جنم لے سکتے ہیں، جو بالآخر قومی وحدت اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ان کے مطابق ریاست کے سامنے دو راستے موجود ہیں۔ ایک راستہ یہ ہے کہ علیحدگی پسندانہ خیالات اور سرگرمیوں کو مکمل آزادی دے دی جائے، جو ان کے خیال میں ریاستی بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاست اپنی رٹ اور خودمختاری کو مؤثر انداز میں نافذ کرے تاکہ قومی سالمیت اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
سیاسی تجزیہ کار بھارت کی موجودہ سیاسی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کو مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق بعض دشمن قوتیں کشمیر، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مسائل کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں۔ اسی تناظر میں وہ آزاد کشمیر کی صورتحال کو بھی وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔مبصرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ریاست کو قومی سلامتی، یکجہتی اور آئینی بالادستی کے تحفظ کے لیے واضح اور دوٹوک پالیسی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کو محض سیاسی اختلاف یا وقتی بحران سمجھنے کے بجائے ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جس کا تعلق پاکستان کی طویل المدتی سلامتی، استحکام اور بقا سے ہے
