بجٹ میں امیروں کو ریلیف دیا گیا ہے : اپوزیشن لیڈر سینیٹ

سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ بجٹ میں امیروں کو ریلیف دیا گیا ہے،یہ بجٹ کیا پاکستان کے عوام کے حق میں پیش کیاگیا ہے؟، یہ بجٹ عوام کو مہنگائی سے نکالنے کے بجائے مزید اس میں داخل کررہا ہے۔
قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ کیا یہ بجٹ معاشی آزادی لے کر آیا ہے؟یہ بجٹ ہمیں مزید غلام بنارہا ہے،بجٹ نے پاکستان کے عوام کو سامنے نہیں رکھا،عوام غیرمتعلقہ ہیں۔
راجہ ناصر عباس نے کہا کہ شہباز شریف پانچواں بجٹ دے رہے ہیں،ہر سال قرض میں اضافہ ہوا ہے،جب سے انہوں نے حکومت سنبھالی ہے اس سے 100 گنا قرض زیادہ بڑھ گیا،اگر آپ کا گھر چلانے والا قرض بڑھتاجائے تو کیا گھر کا سربراہ اہل ہے؟ آپ پھر کہتے ہیں کہ گھر میں تبدیلی لےکر آؤ۔
اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ قرض اتنا بڑھ رہا ہےکہ ملک ناکام ریاست کی طرف جارہا ہے، اپوزیشن بات کرتی ہےتو آپ کہتے ہیں کہ یہ اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کےخلاف ہے،ہم اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کےخلاف نہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ بجٹ میں امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، کسی صوبے کے پاس گندم سٹاک میں نہیں،فوڈ سکیورٹی کےسٹریٹجک اثاثے ختم ہورہے ہیں،موٹرسائیکل میں پیٹرول ڈالنےوالے غریب نوجوان سے آپ لیوی لےرہے ہیں۔
امریکا-ایران معاہدہ : پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا، خواجہ آصف
راجہ ناصر عباس نے کہاکہ غریب کا پیٹ پھاڑ کر پیسہ لیا جارہا ہے،وہ کہاں خرچ کیا جارہا ہے؟ آپ اپنے اخراجات کم نہیں کررہے،ملک میں تعلیم کےلیے کیا خرچ ہورہا ہے؟اگر پاکستان بہترین ہے تو ہمارے حکمرانوں نے باہر سرمایہ کاری کیوں کی ہے؟
