سکینڈلز کے شکار اراکینِ پنجاب اسمبلی کی مشکلات کیوں بڑھ گئیں؟

سکینڈلز کے شکار اراکینِ پنجاب اسمبلی کی مشکلات کیوں بڑھ گئیں؟

پنجاب اسمبلی کے بعض اراکین کے گرد گھومنے والے تنازعات اور قانونی مقدمات نے صوبائی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان معاملات میں حکومتی اور اپوزیشن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین شامل ہیں، جبکہ ان میں سے بعض الزامات خواتین سے متعلق نوعیت رکھتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز خواتین کے خلاف جرائم کو اپنی "ریڈ لائن” قرار دے چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود تاحال ان اراکین کے خلاف کسی واضح سیاسی یا انتظامی کارروائی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

مبصرین کے مطابق اس حوالے سے سب سے پہلے پنجاب کابینہ میں شامل پارلیمانی سیکرٹری ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع منظرِ عام پر آیا۔ اداکارہ کی جانب سے سنگین الزامات عائد کیے گئے، جبکہ جواباً ثاقب چدھڑ کی جانب سے بھی قانونی کارروائی کی گئی۔ یہ معاملہ نہ صرف تھانوں اور عدالتوں تک پہنچا بلکہ پنجاب بار کونسل میں بھی زیرِ بحث رہا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس وقت مؤقف اختیار کیا گیا کہ معاملہ ذاتی نوعیت کا ہے اور عدالتی فیصلے تک کسی ممکنہ کارروائی کو مؤخر رکھا جائے گا۔

اسی دوران ثاقب چدھڑ کے خلاف لاہور کے تھانہ ڈیفنس اے میں فراڈ کے دو مقدمات درج کیے گئے۔ شکایت کنندہ ماہ رخ عارف نامی ایک بزرگ بیوہ خاتون ہیں، جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق انہوں نے ڈیوس روڈ پر واقع اپنی تقریباً چودہ کنال سے زائد اراضی علاج کی غرض سے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ سودا 66 کروڑ روپے میں طے پایا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ابتدائی رقم کی ادائیگی کے بعد بقایا ادائیگی کے لیے دیے گئے چیکوں میں سے ایک نو کروڑ روپے مالیت کا چیک بینک سے ڈس آنر ہو گیا۔شکایت کنندہ کے مطابق ان کی بیماری اور بڑھاپے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں مبینہ طور پر جھانسہ دیا گیا اور بعد ازاں بقایا رقم کی ادائیگی سے انکار کر دیا گیا۔ تاہم پولیس نے فراڈ کی دفعات کے بجائے چیک ڈس آنر ہونے کی بنیاد پر ضابطہ فوجداری کی دفعہ 489-ایف کے تحت مقدمہ درج کیا۔ مقدمے میں ثاقب چدھڑ اور ان کے ایک ساتھی کے خلاف کارروائی کی درخواست کی گئی ہے، تاہم اب تک کسی گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ماہ رخ عارف کا کہنا ہے کہ وہ اس جائیداد کو فروخت کر کے اپنا علاج کرانا چاہتی تھیں اور چونکہ مکان کا قبضہ خریدار کو منتقل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے انہیں امید ہے کہ قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف حاصل ہو سکے گا۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے اب تک مناسب تعاون کیا جا رہا ہے اور فی الحال انہیں حکومت کی اعلیٰ شخصیات سے مداخلت کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

دوسری جانب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی سلمان شاہد بھی ایک خاتون کے ساتھ مبینہ نازیبا ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد تنازع کا شکار ہیں۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے اور اپوزیشن کے لیے بھی یہ ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔

ادھر پنجاب کابینہ کے رکن اور وزیر برائے سماجی بہبود سہیل شوکت بٹ بھی ایک الگ نوعیت کے تنازع میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کے آبائی گاؤں میں محکمہ انسدادِ منشیات کی جانب سے ان کی بہن کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جس کے دوران مبینہ طور پر وزیر اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ اس واقعے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ اطلاعات کے مطابق چھاپے کے دوران منشیات اور ڈرون برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور مقدمہ بھی درج کیا گیا، تاہم بتایا جاتا ہے کہ ایف آئی آر گھریلو ملازمین کے خلاف درج ہوئی۔ اس معاملے میں حکومتی سطح پر تاحال خاموشی برقرار ہے اور متعلقہ دستاویزات بھی عوامی سطح پر سامنے نہیں لائی گئیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ان واقعات نے پنجاب اسمبلی کے اراکین کے طرزِ عمل، احتساب کے معیار اور حکومتی ردعمل کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب خواتین کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہو، ان مقدمات کے نتائج اور ان پر ہونے والی کارروائی مستقبل میں حکومت کی پالیسیوں کے عملی اظہار کا اہم پیمانہ ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کے بقول یہ تمام معاملات اس وقت مختلف مراحل میں قانونی کارروائی کے تحت زیرِ غور ہیں، لہٰذا متعلقہ شخصیات کے خلاف عائد الزامات کو عدالتوں میں ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔ حتمی قانونی فیصلے آنے تک تمام فریقین قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔

Back to top button