PTI خیبرپختونخوا میں بغاوت، 3درجن اراکین اسمبلی الگ ہو گئے

پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا ایک نئے سیاسی بحران کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب صوبائی قیادت نے ناراض اراکین سے رابطوں پر پابندی عائد کرنے کا ہدایت نامہ جاریکر دیا۔ اس فیصلے نے نہ صرف پارٹی کے اندر نئی بحث چھیڑ دی بلکہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے پارٹی قیادت کو ڈکٹیٹرز قرار دیتے ہوئے کھلی تنقید شروع کر دی۔ دوسری جانب عمران خان کی رہائی کے نام پر متحرک ہونے والے ناراض اراکین نے قیادت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے بعد صوبائی صدر سہیل آفریدی کے لیے سیاسی چیلنجز مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اندرونی اختلافات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر خان کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں پارلیمانی اور سیاسی رابطہ کمیٹی کے اراکین کو ایسے افراد سے رابطے سے روک دیا گیا ہے جو پارٹی کے اندرونی معاملات کو میڈیا میں لے جانے، قیادت پر دباؤ ڈالنے یا نظم و ضبط کو نقصان پہنچانے کے مرتکب قرار دیے جا رہے ہیں۔یہ ہدایت نامہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پارٹی کے متعدد منتخب نمائندے عمران خان کی رہائی کے حوالے سے موجودہ قیادت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس کے باعث انہوں نے ایک ہم خیال گروپ تشکیل دیا ہے۔ اس گروپ نے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو خط بھی ارسال کیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ ان اختلافات میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ آڈیو میں انہیں پارٹی قیادت کے فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں آمریت کے انداز میں نہیں چل سکتیں اور اس قسم کے اقدامات پارٹی کو مزید تقسیم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں موجودہ قیادت کے بعض افراد خود پارٹی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق علی امین گنڈاپور کی جانب سے ناراض اراکین کی حمایت نے پارٹی کے اندر طاقت کے توازن کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی ان کے اور سہیل آفریدی کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس مرتبہ ان کی واضح پوزیشن نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ ناراض گروپ کو اعلیٰ سطح کی سیاسی پشت پناہی حاصل ہے۔

دوسری جانب ناراض اراکین کا اصرار ہے کہ ان کی جدوجہد کا مقصد کسی عہدے یا ذاتی مفاد کا حصول نہیں بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر حکمت عملی کی تشکیل ہے۔ سابق اسپیکر مشتاق احمد غنی اور دیگر رہنماؤں نے بھی موجودہ قیادت سے سوال کیا ہے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کر چکی ہے۔

تاہم بعض سیاسی تجزیہ کار اس تمام صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل تنازع عمران خان کی رہائی نہیں بلکہ صوبائی حکومت میں اختیارات، سیاسی اثر و رسوخ اور کابینہ میں نمائندگی کا مسئلہ ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بجٹ کی منظوری کے حساس مرحلے پر ناراض اراکین کی جانب سے دباؤ میں اضافہ سہیل آفریدی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ مبصرین کے بقول اگر واقعی ناراض اراکین کی تعداد تین درجن کے قریب ہے تو نہ صرف پارٹی کی اندرونی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ صوبائی حکومت کے لیے قانون سازی اور بجٹ کی منظوری جیسے اہم معاملات بھی پیچیدہ صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے میں سہیل آفریدی کے لیے سب سے بڑا چیلنج پارٹی کے اندر اعتماد کی بحالی اور اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں جاری یہ کشمکش اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں پارٹی کے اندر قیادت، حکمت عملی اور اختیارات کے حوالے سے سوالات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ اختلافات وقتی دباؤ ثابت ہوتے ہیں یا کسی بڑے سیاسی بحران کی شکل اختیار کرتے ہیں، اس کا انحصار پارٹی قیادت کی آئندہ حکمت عملی پر ہوگا۔

Back to top button