کوئی رعایت نہیں، ایکشن کمیٹی کی بھرپور دھلائی اور ٹھکائی کا فیصلہ

آزاد کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے حوالے سے ریاستی اداروں نے اس مرتبہ سخت اور غیر لچکدار حکمت عملی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح پر طے کیے گئے اس فیصلے کے تحت  ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی بلکہ انھیں نشان عبرت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ کسی کو ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی جرات نہ ہو۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی پر پابندی لگانے کا فیصلہ جذباتی ردعمل کے تحت نہیں بلکہ مبینہ طور پر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔ ان شواہد میں ٹریس ہونے والی ٹیلیفون کالز، ضبط شدہ لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک آلات سے حاصل ہونے والا مبینہ ریاست مخالف مواد شامل ہے۔ ان اطلاعات کے بعد متعلقہ ادارے اس نتیجے پر پہنچے کہ عوامی مفاد کے نام پر چلنے والی اس تحریک کے بعض عناصر کے مقاصد محض احتجاج تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے پیچھے بیرونی اثر و رسوخ بھی موجود ہو سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کے ہاتھ لگنے والی بعض مبینہ آڈیوز اور دستاویزات میں کشمیری مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے خاتمے اور پاکستان سے الحاق کے آئینی حلف نامے میں تبدیلی جیسے مطالبات کا ذکر سامنے آیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ مطالبات ریاستی مفادات سے متصادم تھے اور انہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہی نکات کو بنیاد بنا کر آزاد کشمیر میں کشیدگی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

اس حوالے سے مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض مبینہ آڈیو کالز میں جلاؤ گھیراؤ، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور راولاکوٹ سے مسلح پیش قدمی جیسے منصوبوں پر گفتگو کی گئی۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم ریاستی اداروں کا کہنا ہے کہ انہی شواہد کی روشنی میں عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق جب کمیٹی کی جانب سے دس جون کو مظفرآباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا گیا تو بھارتی ذرائع ابلاغ نے اس کی مسلسل کوریج شروع کر دی اور اسے مختلف نام دیے گئے۔ ریاستی حلقوں کا مؤقف ہے کہ اس صورتحال کو بین الاقوامی سطح پر ایک خاص تاثر دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ تاہم پندرہ جون تک یہ مارچ اپنے اعلان کردہ مقاصد حاصل نہ کر سکا اور مظفرآباد تک پہنچنے میں ناکام رہا۔

 ذرائع کے مطابق اس مرتبہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ کسی بھی ایسے گروہ کو دارالحکومت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اہم شاہراہوں اور پاکستان سے ملانے والے راستوں کی بندش کا ارادہ رکھتا ہو۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کو واضح ہدایات دی گئیں کہ جتھوں کو ہر صورت مظفرآباد پہنچنے سے روکا جائے۔ اسی حکمت عملی کے تحت راولاکوٹ کے قریب احتجاجی قافلوں کا راستہ روک دیا گیا اور انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں حکومت نے ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات تسلیم کیے تھے، جسے بعض حلقے ریاستی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مرتبہ حکومتی حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل دباؤ اور بلیک میلنگ کے تاثر کو ختم کرنے کے لیے سخت مؤقف اختیار کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔

اطلاعات کے مطابق احتجاجی شرکا کی تعداد وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتی گئی اور متعدد افراد منتشر ہو گئے۔ بعض رپورٹس کے مطابق کچھ مقامات پر محدود تعداد میں مظاہرین اب بھی موجود تھے، تاہم مجموعی طور پر احتجاج اپنی ابتدائی شدت برقرار نہ رکھ سکا۔ دوسری جانب ایکشن کمیٹی کے کئی رہنماؤں کے منظر عام سے غائب ہونے کے باعث قیادت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ریاستی ادارے اب احتجاج کے دوران مبینہ طور پر قانون شکنی میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ جیو فینسنگ، ویڈیو شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع کی مدد سے شناخت کیے جانے والے افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا سکتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی اور بعض افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے جیسے اقدامات زیر غور ہیں۔حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ریاست کی رٹ قائم رکھنا اور امن و استحکام کو یقینی بنانا اولین ترجیح ہے، جبکہ ناقدین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی کارروائی کے دوران قانونی تقاضوں، بنیادی حقوق اور شفاف عدالتی عمل کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یہی توازن مستقبل میں آزاد کشمیر کی سیاسی اور سماجی فضا پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔

Back to top button