امریکا ایران امن معاہدہ، جنگ بندی کے باوجود خطرات برقرار کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد طے پانے والے امن معاہدے نے جہاں مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ استحکام کی نئی امید پیدا کی ہے، وہیں اس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے کو اپنی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ معاہدے کی اصل آزمائش اس کے نفاذ، فریقین کے باہمی اعتماد اور خطے میں موجود دیگر طاقتوں کے رویے سے مشروط ہوگی۔

معاہدے کے اعلان کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی اور امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔ انہوں نے تیل کی آزادانہ ترسیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے لکھا، "تیل کو بہنے دیں۔” ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف خطے میں امن اور سلامتی لائے گا بلکہ ماضی کی امریکی حکومتوں کی ناکامیوں کے برعکس ایک پائیدار سفارتی کامیابی ثابت ہوگا۔

یاد رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔

مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے اس معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دینا حیران کن نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی وہ بین الاقوامی معاہدوں اور جنگ بندیوں کو غیر معمولی سفارتی فتوحات کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے معاہدوں کی کامیابی کا انحصار تفصیلات پر ہوتا ہے، جبکہ موجودہ معاہدے کی کئی اہم شقیں ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا فوکس نیوز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہنا ہے کہ ایران کا کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنا اس معاہدے کا بنیادی جزو ہے اور امریکہ اس بات کی تصدیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ ایران اپنی ذمہ داریوں پر عمل کر رہا ہے۔ تاہم گزشتہ کئی دہائیوں کی سفارتی کوششوں کو دیکھتے ہوئے یہ یقین دہانی آسان نہیں کہ ایران اپنے جوہری عزائم سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے گا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے بھی ایک محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک دوسرا فریق اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کرتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جو مستقبل میں اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرے گا، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے اقدامات کو بغور دیکھ رہے ہیں۔

معاہدے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی محتاط امید پیدا ہوئی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بحالی کے اعلان کے بعد۔ تاہم توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی ترسیل فوری طور پر معمول پر نہیں آ سکے گی۔ ان کے مطابق جنگ کے دوران متاثر ہونے والے بحری راستوں کی بحالی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور ٹینکرز کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول اس تمام صورتحال میں ایک ایسا عنصر بھی موجود ہے جو معاہدے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے، اور وہ اسرائیل ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ تنازع شروع ہی سے ایک سہ فریقی نوعیت اختیار کر چکا تھا، جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر شامل رہے۔ صدر ٹرمپ نے وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ اقدامات پر شدید ناراض تھے کیونکہ لبنان پر حملوں سے ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیل لبنان میں دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرتا ہے تو ایران ردعمل کے طور پر آبنائے ہرمز بند کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگ بندی کے باوجود خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے بھی اعتراف کیا کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام کو مشکلات سے دوچار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امید ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور عام امریکیوں کو معاشی ریلیف ملے گا۔ تاہم یہ ریلیف کس حد تک اور کتنی جلدی عوام تک پہنچتا ہے، یہ بھی آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔ ناقدین کے بقول امریکہ کے اندرونی سیاسی منظرنامے پر بھی اس معاہدے کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حالیہ سرویز کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی شہری معاشی صورتحال سے غیر مطمئن ہیں اور صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ یوگَو کے ایک جائزے کے مطابق 63 فیصد امریکی معاشی معاملات سنبھالنے کے حکومتی انداز سے ناخوش ہیں جبکہ 57 فیصد کا خیال ہے کہ ملکی معیشت مزید خراب ہو رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امن معاہدے کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آتی ہے اور معاشی دباؤ کم ہوتا ہے تو اس کا فائدہ ٹرمپ اور ان کی جماعت کو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ سفارتی کامیابی بھی اندرونی سیاسی مشکلات کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکے گی۔ تجزیہ کاروں کا مانناہے کہ فی الحال یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک امید کی کرن ضرور ثابت ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ کئی غیر یقینی عوامل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات، اسرائیل کا ممکنہ کردار، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان ایسے عناصر ہیں جو اس معاہدے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ خطے میں امن کے حوالے سے پُرامید ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ امن ابھی نازک بنیادوں پر قائم ہے اور کسی بھی غیر متوقع پیش رفت سے دوبارہ خطرات جنم لے سکتے ہیں۔

Back to top button