سوشل میڈیا سے ڈالرز کمانے والے حکومتی نشانے پر کیسے آئے؟

پاکستان میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوانوں کے لیے روزگار اور آمدن کے نئے ذرائع کے طور پر تیزی سے ابھر رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں یوٹیوب، فیس بک اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز نے کانٹینٹ کریئیٹرز میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے، جبکہ دوسری جانب کانٹینٹ بنانے والے افراد اسے ابھرتی ہوئی صنعت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق بینک اور دیگر مالیاتی ادارے، جن کے ذریعے یوٹیوب یا دیگر پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پاکستان منتقل ہوتی ہے، پانچ فیصد ٹیکس کاٹنے کے بعد باقی رقم صارف کو ادا کریں گے۔ یہ طریقہ کار کسی تنخواہ دار ملازم کی آمدن سے ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کے نظام سے مشابہ ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں صرف آمدن پر ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے تاکہ ڈیجیٹل معیشت کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔
مبصرین کے بقول پاکستان میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فونز کی بڑھتی ہوئی رسائی نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو ایک بڑی معاشی قوت میں تبدیل کر دیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق ملک کی تقریباً 25 کروڑ آبادی میں سے 15 کروڑ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ ڈیٹا ریپورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً سات کروڑ 99 لاکھ افراد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ یوٹیوب کے صارفین کی تعداد پانچ کروڑ 59 لاکھ اور فیس بک صارفین کی تعداد چار کروڑ 94 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس شعبے کی وسعت کا واضح ثبوت ہے۔
خیال رہے کہ یوٹیوب پاکستان میں کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے سب سے بڑا آمدنی کا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ مانیٹائزیشن کے لیے کسی چینل پر ایک ہزار سبسکرائبرز اور چار ہزار گھنٹے واچ ٹائم کی شرط پوری کرنا ضروری ہوتا ہے۔ گوگل پاکستان کے مطابق ملک میں ایک ہزار ایسے یوٹیوب چینلز موجود ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد سبسکرائبرز رکھنے والے چینلز کی تعداد 13 ہزار ہے۔ اس کے علاوہ 95 ہزار چینلز ایسے ہیں جن کے سبسکرائبرز دس ہزار سے زیادہ ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا سٹریٹیجسٹ عمران احمد کے مطابق پاکستان میں یوٹیوب ہی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں سے براہ راست آمدن حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں یوٹیوب کا اوسط آر پی ایم ایک ہزار ویوز پر چھ امریکی سینٹ ہے، یعنی اگر کسی ویڈیو کو دس لاکھ مرتبہ دیکھا جائے تو تقریباً 600 ڈالر کی آمدن ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ شرح مواد کی نوعیت کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ٹیکنالوجی، تعلیم اور مالیاتی موضوعات پر بننے والی ویڈیوز کا ریونیو نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔
اگرچہ حکومت اس شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی خواہاں ہے، لیکن عملی سطح پر اس پالیسی کے نفاذ میں کئی چیلنجز موجود ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کے مطابق پاکستان کے متعدد بڑے کانٹینٹ کریئیٹرز کے اکاؤنٹس بیرونِ ملک رجسٹرڈ ہیں اور ان کی آمدن براہِ راست پاکستانی بینکوں میں منتقل ہونے کے بجائے ڈیجیٹل والٹس یا غیر ملکی اکاؤنٹس میں جاتی ہے۔ ایف بی آر کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ کئی افراد اپنی آمدن بیرونِ ملک وصول کرتے ہیں اور بعد ازاں اسے ترسیلاتِ زر کی صورت میں پاکستان منتقل کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں ٹیکس نیٹ میں لانا مشکل ہو جاتا ہے۔
یوٹیوبر اور پوڈکاسٹر شہزاد غیاث شیخ کے مطابق پاکستانی کانٹینٹ انڈسٹری کا حجم تقریباً دس کروڑ ڈالر کے برابر ہو سکتا ہے، تاہم پانچ فیصد ٹیکس سے حکومت کو حاصل ہونے والی آمدن بہت زیادہ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس خالص منافع کے بجائے مجموعی آمدن پر عائد کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی یوٹیوبر کی ماہانہ آمدن دس لاکھ روپے ہو لیکن اس کے اخراجات نو لاکھ روپے ہوں، تو اس کی حقیقی کمائی صرف ایک لاکھ روپے بنتی ہے۔ ایسے میں دس لاکھ روپے پر پانچ فیصد ٹیکس کاٹنا غیر متناسب بوجھ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس شعبے سے ریونیو حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ترقی کے لیے بھی اقدامات کرنے چاہییں۔ گلوبل فری لانسرز ایسوسی ایشن کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق حکومت کو پہلے مرحلے میں انفلوئنسرز اور کانٹینٹ کریئیٹرز کی رجسٹریشن، تربیت اور سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق دبئی سمیت کئی ممالک نے پہلے تخلیق کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا، انہیں قانونی تحفظ اور مراعات فراہم کیں اور بعد میں ٹیکس اور لائسنسنگ کا نظام متعارف کرایا۔ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور آنے والے برسوں میں یہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے اہم ترین ذرائع میں شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم اس شعبے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں میں توازن، مشاورت اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر یہ خدشہ موجود ہے کہ کانٹینٹ کریئیٹرز اپنی آمدن بیرونِ ملک منتقل کرنے کو ترجیح دیں گے، جس سے نہ صرف حکومت کے متوقع ٹیکس اہداف متاثر ہوں گے بلکہ مقامی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی بھی سست پڑ سکتی ہے۔ ناقدین کے بقول یہ بحث دراصل صرف ٹیکس کی نہیں بلکہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل کی ہے۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ ریونیو اکٹھا کرنے اور نوجوان تخلیق کاروں کی حوصلہ افزائی کے درمیان ایسا توازن قائم کرے جس سے یہ صنعت مزید مضبوط ہو اور ملکی معیشت میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔
