حکومت ریکوڈک کا نیا معاہدہ کن شرائط پر کرنے والی ہے

ریکوڈک کا نیا معاہدہ


اس وقت بلوچستان کی تمام بڑی جماعتیں وفاقی حکومت کی جانب سے ریکوڈیک میں سونے اور تانبے کے ذخائر کا نیا معاہدہ خفیہ رکھنے پر سراپا احتجاج ہیں، حالانکہ ابھی معاہدہ ہوا نہیں لیکن حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ وہ چھ ارب ڈالرز کے بھاری جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ٹھیتیان کاپر کمپنی کے دو شراکت داروں میں سے ایک سے معاہدہ کرنے جا رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم عمران خان نے 28 دسنبر کی شب ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ ’حکومت بلوچستان کی خاطر وفاقی حکومت ریکوڈک پراجیکٹ پر اٹھنے والا تمام مالی بوجھ اٹھائے گی۔‘ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ ٹوئٹر پر بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کا مالی بوجھ اٹھانے کا اعلان تاریخی ہے۔ یہ فیصلہ بلوچستان کے عوام کے لیے امن، خوشحالی اور استحکام کا آغاز ثابت ہو گا۔‘ تاہم بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ ریکوڈیک کا منسوخ ہونے والا پہلا معاہدہ بھی انہیں اندھیرے میں رکھ کر کیا گیا تھا اور اب یہ عمل دوبارہ دہرایا جا رہا ہے جس سے معاہدے کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس وقت ریکو ڈیک منصوبہ بلوچستان میں زیرِ بحث ہے جسکی وجہ 27 دسمبر کو ہونے والا صوبائی اسمبلی کا وہ ’اِن کیمرا اجلاس‘ تھا جس میں اراکین اسمبلی کو اس پراجیکٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس اجلاس میں شامل بلوچستان اسمبلی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بلوچستان اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کو چھ ارب ڈالرز کی ادائیگی سے بچانے کے لیے اس منصوبے کے ایک شراکت دار سے معاہدے کا امکان ہے۔ اس رکن اسمبلی کے مطابق صوبے میں سونے اور تانبے کے سب سے بڑے ذخائر ریکوڈک منصوبے میں چھ ارب ڈالرز کے جرمانے کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ٹھیتیان کاپر کمپنی کے دو شراکت داروں میں سے ایک سے دوبارہ معاہدہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس سے پہلے اراکین بلوچستان اسمبلی اور بالخصوص حزب اختلاف کے مطالبے پر بلوچستان اسمبلی کے اراکین کو اسی مجوزہ معاہدے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی مگر اسے خفیہ رکھا گیا تھا جو کہ بلوچستان اسمبلی کی تاریخ میں پہلی بار ہوا تھا۔
ایک حکومتی رکن نے مجوزہ معاہدے کے نکات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انھیں آگاہ کیا گیا ہے کہ ٹی سی سی کے ایک شراکت دار نے مشروط کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ رکن اسمبلی نے مجوزہ معاہدے کو اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف فیصلہ آ گیا تھا۔ چھ ارب ڈالرز جرمانے کی رقم کوئی معمولی بات نہیں۔ ان میں سے کم از کم تین ارب ڈالرز یا اس سے زائد کی ادائیگی بلوچستان کو کرنی تھی۔ اگر جرمانے کی ادائیگی نہیں کرتے تو روزانہ کی بنیاد پر سود کی مد میں کروڑوں روپے کی ادائیگی کرنی پڑتی۔ رکن اسمبلی نے بتایا کہ چونکہ ہمارے خلاف جرمانے کی بڑی رقم ہے جس کو ہم ادا نہیں کر سکتے اس وجہ سے شاید مجوزہ معاہدہ 100 فیصد ہماری شرائط کے مطابق نہ ہو۔
تاہم ریکوڈک کے مجوزہ معاہدے اور اس کے حوالے سے اراکین اسمبلی کو دی گئی بریفنگ کو خفیہ رکھنے پر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ وکلا کی تنظیموں نے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی نے ایک ٹویٹ میں پوچھا ہے کہ ریکوڈک پر بحث ان کیمرہ کرنے کا مقصد میڈیا اور عوام سے کیا چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے استفسار کہ ’کیا ریکوڈک بھی اب قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے؟‘ ان کا کہنا تھا کہا کہ عوام براہ راست سننا اور دیکھنا چاہتی ہے کہ بلوچستان کی قومی دولت کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اور اس مرتبہ معاہدے میں کون کھانچا لگانے جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا ریکوڈک پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کے بجائے دو ٹوک مؤقف اپنایا جائے۔
جان محمد بلیدی کا کہنا تھا کہ ریکوڈک بلوچستان کے عوام کی ملکیت ہے اور منصوبہ بندی کے تحت پراجیکٹ کو متنازع بنایا گیا۔ ان کے بقول وفاق روز اول سے ریکوڈک پر قبضہ کرنے کا سوچ رہا ہے اور وفاق کی دانستہ غلط حکمت عملی کے پیش نظر جرمانہ کا سامنا کر رہا ہے۔ ادھر بلوچستان بار کونسل نے کہا ہے کہ اگر معاہدہ بلوچستان اور اس کے عوام کے مفاد کے منافی ہوا تو اس کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے نواب اسلم رئیسانی کے دور حکومت یعنی 2008 سے 2013 میں مائننگ کا لائسنس نہ ملنے پر ٹھیتیان یا ٹی سی سی نے ثالثی کے دو بین الاقوامی فورمز سے رجوع کیا تھا جن میں سے انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انسویٹمنٹ ڈسپیوٹس نے کمپنی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان پر چھ ارب ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
حکومت کا موقف ہے کہ چونکہ اس خطیر رقم کی ادائیگی پاکستان کی موجودہ معاشی حالات میں کسی طرح ممکن نہیں اس لیے حکومت نے ٹی سی سی کے شراکت داروں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا یے کہ ان مذاکرات کے دوران شراکت داروں میں سے بیرک گولڈ بعض شرائط کے تحت دوبارہ منصوبے پر کام کرنے کے لیے آمادہ ہوا جبکہ دوسری کمپنی اس کے لیے تیار نہیں۔
بلوچستان کے ممبران اسمبلی کو دی گئی بریفنگ کے مطابق جرمانے کے چھ ارب ڈالرز میں سے تین، تین ارب ڈالرز دونوں شراکت داروں کے حصے میں آنے تھے۔ انٹا فوگسٹا کمپنی چاہتی ہے کہ اسے اس کے جرمانے کی رقم کی ادائیگی کی جائے لیخن چونکہ اس رقم کی ادائیگی بھی ممکن نہیں لہذا دوسری کمپنی بیرک گولڈ سے کہا گیا کہ وہ نئے معاہدے کے تحت دوسرے شراکت دار کے حصے کی رقم کی ادائیگی اپنے ذمہ لے۔ اسکے علاوہ بیرک گولڈ اپنے حصے کی جرمانے کی رقم نہیں مانگے گی۔ تاہم اس کے نتیجے میں پاکستان سے ٹیکسوں کی مد میں رعایتیں مانگی گئی ہیں۔
بیرک گولڈ نے شرط رکھی ہے کہ وفاقی حکومت کے جو ٹیکسز بنتے ہیں ان میں اسے رعایت دی جائے گی۔ مجوزہ معاہدے کے مطابق پچاس فیصد سرمایہ کاری کی بنیاد پر منافع میں سے پچاس فیصد بیرک گولڈ کو ملے گا۔ اگر حکومت بلوچستان سرمایہ کاری کا بقیہ پچاس فیصد دینے پر آمادہ ہوئی تو منافع کا بقیہ پچاس فیصد حکومت بلوچستان کا ہو گا۔ اگر حکومت بلوچستان کے لیے سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوئی تو بقیہ پچاس فیصد کی سرمایہ کاری وفاقی حکومت کرے گی۔ دوسری صورت میں کسی سرمایہ کاری کے بغیر بقیہ پچاس فیصد منافع میں سے 25 فیصد بلوچستان اور 25 فیصد حصہ وفاقی حکومت کا ہو گا۔
اب سوال یہ ہے کہ نئے معاہدے کے تحت بلوچستان کو ریکوڈک سے مجموعی طور پر کتنی آمدن ملنے کی توقع ہے؟ ذرائع کا کہنا یے کہ جہاں بلوچستان کو منافع میں سے 25 فیصد ملے گا وہاں اس کے علاوہ بلوچستان کو رائلٹی کی مد میں پانچ سے چھ فیصد ملنے کی توقع ہے۔ مقامی کمیونٹی کو سہولیات کی فراہمی کی مد میں آمدن میں سے ساڑھے تین فیصد ملے گا جبکہ بلوچستان ریونیو اتھارٹی بھی مختلف مد میں چھ فیصد تک آمدن اکٹھا کر کے دے گی۔ اگر ان سب کو ملایا جائے تو بلوچستان کی مجموعی آمدنی 39 فیصد تک ہو گی۔
دوسری جانب بلوچستان کے اراکین اسمبلی کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ حتمی معاہدے سے پہلے بلوچستان اسمبلی سے اس کی توثیق کرائی جائے۔ اراکین اسمبلی کی جانب سے کہا گیا کہ حتمی معاہدے کو توثیق کے لیے بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے اور جب اسے توثیق کے لیے پیش کیا جائے تو خفیہ اجلاس نہ ہو بلکہ اسے اوپن اجلاس میں بحث کے لیے پیش کیا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت بلوچستان اسمبلی کے اراکین کا یہ مطالبہ تسلیم کرتی ہے یا نہیں کیونکہ اگر یہ معاہدہ اسمبلی سے مسترد ہو گیا تو حکومت بری طرح پھنس جائے گی۔

Back to top button