حکومت عمران کو اینٹ کا جواب پتھر سے دے گی تو بچے گی

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن نے جو فرماں بردرانہ رویہ اپنایا ہے اسے ترک کرنا ہو گا کیونکہ اس سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے۔ اس وقت حکومت کے ایک جانب کنواں ہے تو دوسری طرف کھائی ہے۔ ان دونوں کو ایک جست میں عبور کر کے بات بن سکتی ہے۔ جرات، ہمت، اور طاقت کا مظاہرہ ہی حکومت کو اس صورت حال سے نکال سکتا ہے۔ سر جھکا کر چلنے کی قبیح روایت کو توڑنا ہو گا اور سر اٹھا کر چلنا سیکھنا ہو گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ اس بات پر اب بحث کا کوئی فائدہ نہیں کہ پی ڈی ایم نے ان حالات میں حکومت کیوں قبول کی اور ایک منہ کے بل گرتی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیوں لائے گئی؟ عمران خان کی گرتی پڑتی ساکھ کو کیوں بحال ہونے کا موقع دیا گیا؟ یہ سب اب قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ اب تحریک عدم اعتماد لائی جا چکی ہے، اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر حکومت بنائی جا چکی ہے، عمران خان رخصت ہو چکا اور بزدار حکومت بھی جا چکی ہے۔
اب شہباز شریف وزیر اعظم بن چکے ہیں، حمزہ شہباز پنجاب میں ایک لڑکھڑاتی حکومت کے وزیراعلٰی منتخب ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب حیرت کی بات یہ ہے کہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ جیسے گذشتہ چار سال میں کچھ ہوا ہی نہیں۔ نہ کوئی انتقامی کارروائی ہوئی، نہ کال کوٹھڑیوں میں سیاستدانوں کو رکھا گیا۔ نہ نیب کی طرف سے کارروائیاں ہوئیں۔ نہ نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا۔ نہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی۔ نہ احسن اقبال کو گولی ماری گئی۔ نہ شاہد خاقان عباسی کو قید کیا گیا۔ نہ نواز شریف کو مسلم لیگ ن کے بقول جیل میں قتل کرنے کی سازش کی گئی۔ نہ مریم نواز کو کال کوٹھڑی میں رکھا گیا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ پہلے اس بات کو تسلیم کریں کہ عمران نے عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جو مہم جوئی کی اس کا اثر ہمیں محسوس ہو رہا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ عمران سچ کہہ رہے ہیں کہ جھوٹ، بہتان لگا رہے ہیں یا الزام، انہوں نے ایک طبقے کو اپنا زیر اثر بنا لیا ہے۔ وہ کھلے عام لوگوں کے پاس جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آئین، قانون، عدلیہ، ایوان اور عوامی مینڈیٹ پر تنقید کر رہے ہیں۔ مگر ایک لاڈلا سیاست دان ان سب چیزوں سے مبرا ہے۔ وہ چاہے تو ہر قاعدے قانون کو توڑ دے۔ وہ آئین شکنی بھی کرے تو قانون خاموش رہتا ہے اور عدلیہ بھی توہین عدالت نہیں لگاتی۔
عمارکے بقول عمران خان نے ایک بیانہ بہرحال تشکیل دے دیا ہے۔ ایک طبقہ اپنا ہم آواز بنا لیا ہے۔ اسے درست کہیں یا غلط لیکن اسے تسلیم کریں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا توڑ اخبار کے اشتہارات نہیں ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا توڑ ٹھنڈی میٹھی پریس کانفرنسز نہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا جواب ڈوبتی معیشت کے اعداد و شمار نہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جس کا جواب اچھی پرفارمنس نہیں۔
مسلم لیگ ن کو اب مصلحت اور مصالحت کی سیاست سے نکلنا ہو گا۔ جھنڈے والی گاڑیوں کے آرام اور تعیش سے نکلنا ہو گا۔ اپنے لہجے کو بلند آہنگ کرنا ہو گا۔ اسی طرز سیاست کو مروج کرنا ہو گا جو نواز شریف نے شروع کی تھی۔ اسی انداز کو اپنانا ہو گا جس نے پنجاب کو شعور دیا۔ اسی بیانیے کو اپنانا ہو گا جس نے ’ووٹ کی عزت‘ کا مطالبہ زباں زد عام کیا۔ عمران کے مصنوعی بیانیے کا حل نرمی خوئی نہیں رہی۔ عمران کے انتشار پسند بیانیے کا حل مصلحت نہیں رہی۔ اس کے جواب میں اب کھل کر کھیلنا ہو گا۔ اب دبنگ لہجے میں بات کرنی ہو گی۔ اب ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔
اب اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہو گا ورنہ ساری محنت اکارت جائے گی اور ساری جدوجہد پر پانی پھر جائے گا۔ جو ذہنی شعور بیدار کیا ہے اس کو زنگ لگ جائے گا۔ جمہوری جذبے سے شرابور ووٹر مایوس ہو جائے گا۔ لہٰذا تحریک عدم اعتماد کے بعد مسلم لیگ ن نے جو فرماں بردرانہ رویہ اپنایا ہے اسے ترک کر دینا ہی مناسب ہے۔ اس سے مطلوبہ نتائج نہیں مل سکتے۔ جرات، ہمت اور طاقت کا مظاہرہ ہی اس صورت حال کا حل ہے۔ سر جھکا کر چلنے کی قبیح روایت کو توڑنا ہو گا۔ سر اٹھا کر چلنا سیکھنا ہو گا۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ ابھی تک نومنتخب حکومت کوئی مزاحمتی بیانیہ تخلیق کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک مریم نواز ہیں جو اس دور میں مزاحمت کا علم ہاتھ یں اٹھائے چل رہی ہیں۔ وہ عوام کے پاس جا رہی ہیں۔ تلخ لہجے میں بات کر رہی ہیں۔ بدتمیزوں کو سبق سکھا رہی ہیں۔ لیکن مسلم لیگ ن کے پاس ابھی ایک ترپ کا پتہ ہے۔ نواز شریف اس ساری صورت حال کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا ہاتھ عوام کی نبض پر ہوتا ہے۔ آنے والے چند دنوں میں نواز شریف کی بہت اہمیت ہے۔ وہ چاہیں گے تو خان صاحب کے مصنوعی بیانیے کی بساط ایک لمحے میں الٹ جائے گی۔ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ پھر راج کرے گی خلق خدا۔
