حکومت مہنگائی بڑھانے اور غریب مکانے کے منصوبے پر گامزن
برسرِ اقتدار آنے سے پہلے غربت اور مہنگائی ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اب مہنگائی بڑھانے اور غریب مکانے کے منصوبے پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ نیا پاکستان بنانے کی دعویدار تحریک انصاف حکومت نے ایک ماہ کے اندر دوسری مرتبہ مہنگائی کی چکی میں پسی عوام پر پٹرول بم گرا دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دوبارہ اضافے کے بعد اب پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایک ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 9 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے.
عوام دشمن کپتان حکومت کی طرف سے 30 ستمبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 4 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے جسکے بعد اس کی نئی قیمت 127 روپے 30 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے، اب ڈیزل کی قیمت 122 روپے 4 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ اُدھر لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 82 پیسے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد اسکی قیمت 99 روپے 51 پیسے قیمت ہو گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت 7 روپے 2 پیسے فی لٹر بڑھا دی گئی جس کے بعد اس کی نئی قیمت 99 روپے 31 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تفصیل کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اوگرا نے قیمتوں میں زیادہ اضافے کی کوشش کی تاہم وزیراعظم نے تجویز کے برخلاف کم سے کم اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے 15 روز قبل اوگرا کی طرف سے وزارت خزانہ کو بھیجی گئی سمری کے برعکس حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا تھا، 15 ستمبر کو پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت پٹرول کی نئی قیمت 123 روپے 30 پیسے ہو گئی تھی۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 1 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا رھا اور نئی قیمت ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 120روپے 4 پیسےفی لٹر ہو گئی تھی۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 5 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ ہوا تھا۔ جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 90 روپے 69 پیسے ہو گئی تھی۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 5 روپے 42 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا تھا اور اس کی نئی قیمت 92 روپے 26 پیسے فی لٹر ہو گئی تھی۔
تیس دنوں میں دو مرتبہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد عوام پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا ہے اور غریب عوام حکومت کو بد دعائیں دے رہے ہیں کیونکہ اس سے ملک بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ لیکن شاید اتنا کچھ کر کے بھی حکومت کی تسلی نہیں ہوئی تھی چنانچہ اس نے عوام پر ایک اور پہاڑ توڑتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت میں فی کلو قیمت میں بھی 29 روپے 10 پیسے کا اضافہ کردیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کا 11.8 کلو کا گھریلو سلنڈر 343 روپے مہنگا ہوگیا ہے ۔ایل پی جی کی نئی قیمتوں کا اطلاق اکتوبر 2021 کیلئے ہوگا، اب ایل پی جی کی نئی قیمت 203 روپے 69 پیسے فی کلو مقرر کردی گئی ہے۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کیلئے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 174 روپے 58 پیسے مقرر تھی۔ اب گھریلو سلنڈر کی نئی قیمت 2403 روپے مقرر کردی گئی ہے جبکہ ستمبر کیلئے ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 2060 روپے 15 پیسے مقرر تھی۔ اس سے دو روز پہلے حکومت نے مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگاتے ہوئے ایل پی جی کی قیمت میں 20 روپے فی کلوگرام کا اضافہ کیا تھا جس کے بعد ایل پی جی 175روپے فی کلو سے بڑھ کر 195روپے فی کلو ہوگئی تھی۔ فی کلوگرام گیس کی قیمت میں اضافہ کے بعد گھریلو سلنڈر2060سے بڑھ کر 2300 ، کمرشل سلنڈر 7925روپے سے بڑھ کر 8853 روپے ہو گیا تھا۔ لیکن دو روز بعد ہی ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا گیس ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران تبدیلی سرکار کی جانب سے عوام پر نت نئے ٹیکس لگا کر ملک چلانے کی منفی روش کی وجہ سے مہنگائی قابو سے باہر ہوگئی ہے اور لوگوں کا جینا محال ہو گیا یے۔ تاہم مہنگائی کے مارے عوام زندہ رہنے کی جدوجہد میں اتنے مصروف ہیں کہ وہ بھی صرف دل ہی دل میں عمران خان کو کوس رہے ہیں اور سڑکوں پر آنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی اس معاملے میں موئثر انداز میں عوامی نمائندگی سے قاصر ہیں۔معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بعد مہنگائی کا طوفان ناگزیر ہے جس کے سارا بوجھ عوام کے کندھوں پر آجائے گا۔
