حکومت نے تحفظات دور نہ کیے تو ساتھ چلنا ناممکن ہو گا

مرکز میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سینئررہنماء چوہدری مونس الٰہی کا کہنا ہے کہ کئی بار وعدوں کے باوجود پی ٹی آئی نے ہمارے تحفظات دور نہیں کئیے اور اب دوبارہ یقین دھانیاں کروائی جا رہی ہیں، تاہم اگر اب بھی بھی حکومت نے ہمارے تحفظات دور نہ کیے تو پھر اکٹھے چلنا ناممکن ہو جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مونس الٰہی نے کہا کہ ہمارے عرصہ دراز سے چلتے آرہے تحفظات کو مسلسل وعدوں کے باوجود تاحال دور نہیں کیا گیا لیکن ہم خاموش رہے اور حکومت کا ساتھ دیتے رہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے۔ انہوں نے کہ ہمارا پی ٹی آئی کے ساتھ الیکشن سے پہلے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے اتحاد کافی بحث ومباحثے کے بعد ہوا، ہماری اور پی ٹی آئی کے درمیان ایک سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی، لیکن جو بات ہوئی تھی کہ بہاولپور میں ہمارے امیدوار طارق بشیر چیمہ کو سپورٹ کریں گے، لیکن الیکشن میں پی ٹی آئی نے ایک خاتون کو ٹکٹ دے دیا جو کہ اتحاد کی خلاف ورزی تھی لیکن ہم خاموش رہے، جبکہ وہ خاتون صرف 3ہزار ہی ووٹ لے سکی ۔
مونس الٰہی نے اپنے تحفظات کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا کہ جب حکومت سازی ہورہی تھی تو ہم تحریک انصاف کے ساتھ پھر اتحاد میں گئے، حکومت سازی کیلئے ہماری جو بات طے ہوئی اس کے تحت وفاق میں 2وزارتیں ، 2صوبے میں اور اسپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدہ ہمیں دیا جائے گا۔جس کے تحت انہوں نے طارق بشیر چیمہ کو وفاق میں لے لیا اور صوبے میں ایک وزارت دی۔ ہمارے دوسرے صوبائی وزیر سے حلف نہیں لے رہے، ہم ان کو باربار یاد ہانی کرواتے رہے، اسی طرح ہمارے صوبائی وزیر حافظ عمار کی وزارت میں مداخلت شروع کردی، پی ٹی آئی کے ہارے ہوئے امیدواروں کو وزارت کے محکموں میں لگانا شروع کردیا، سیکرٹری تبدیل کردیے۔حافظ عمار نے تنگ آکر استعفیٰ دے دیا، جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے دوبارہ چیزیں ٹھیک کروائیں۔
مونس الٰہی نے کہا کہ اب تحریک انصاف نے دوبارہ ہمارے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں گے اور تحفظات دور کریں گے، ہماری خواہش ہے کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے، کیونکہ ہم ان کی کشتی میں سوار ہیں، کیونکہ اگر یہ ڈوبتے ہیں تو ہم بھی ڈوب جائیں گے، اس بار لگتا ہے کہ پی ٹی آئی معاملے کو سنجیدگی سے لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ آئی تو ہم نے اپوزیشن کو جھیلا اور جب ہم نے پی ٹی آئی اتحاد قائم کیا تو ہمارا خیال تھا کہ اب ہم اپنے ووٹرز اور سپورٹرز کو ڈلیور کرسکیں گے۔
مونس الٰہی نے کہا کہ ہم نے حکومت کو ایک چیز سمجھائی تھی کہ سیاست اور بیوروکریسی میں توازن قائم کریں، جب سارا کچھ سیاستدانوں یا سارا کچھ بیوروکریٹ کو دے دیں گے تو کا م نہیں چلے گا۔چوہدری مونس الٰہی نے کہا کہ خان صاحب کو بتا دیاتھا کہ ہمیں اب مزید وزارت میں دلچسپی نہیں،اس لیے وزارت والا باب بے شک اب بند کردیں کیونکہ اگر ایک بندہ کابینہ کو جوائن کرتا ہے اور آپ اس کے ساتھ چلنے میں راضی نہیں تو پھر وزارت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم نے پیپلزپارٹی کے دور میں بھی کافی امیدواروں کو وزارتیں دی تھیں۔ مجھے وزارت میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو کبھی خود سے مشورہ نہیں دیا بلکہ جب یہ مشورہ مانگتے ہیں تو ہم مشورہ دیتے ہیں۔
