کیا PTI کا اقتدار 2020 کے پہلے 100 دن میں غروب ہو جائے گا؟

پاکستان کے سیاسی منظر نامے پرکپتان حکومت کے لیے حالات تیزی سے خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں اور اپوزیشن کے حلقے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کے اقتدار کا سورج 2020 کے پہلے 100 دن میں ہی غروب ہو جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے آرمی ترمیمی ایکٹ کی منظوری کے دس دن کے اندر حکومت کے تمام بڑے اتحادیوں کا وزیراعظم سے باری باری ناراض ہوجانا معنی خیز ہے۔
یاد رہے کہ مہاجر قومی موومنٹ، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور بلوچستان نیشنل پارٹی نے اپنے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر کھلم کھلا حکومت کو چارج شیٹ کر دیا یے لیکن اہم ترین واقعہ ایم کیو ایم کے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کے بعد حکومت کی سب سے اہم اتحادی قاف لیگ کی جانب سے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں عدم شرکت اور اظہار ناراضی ہے۔ قاف لیگ کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے وفاقی کابینہ کے 14 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں نہ صرف شرکت نہیں کی بلکہ میڈیا پر آ کر اپنی جماعت کے مطالبات کے حوالے سے بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
ان حالات میں ایک بات تو طے ہے کہ عمران خان کی حکومت کے لیے سب کچھ اچھا نہیں چل رہا اور کہیں نہ کہیں آگ لگی ہوئی ہے جس کا دھواں کبھی ادھر اٹھتا ہے اور کبھی اُدھر۔ متحدہ اور جی ڈی اے کے بعد اب ق لیگ نے بھی پی ٹی آئی حکومت کو بتادیا ہے کہ اگر اب وعدے پورے نہیں ہوئے تو پھر ہم بھی ایم کیو ایم کی طرح حکومتی عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ذرائع کے مطابق پس پردہ ق لیگ بڑی خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ اسمبلیوں میں تبدیلی لانے کے عمل کو عملی جامہ پہنانے کی تیاریوں میں ہے ۔
ق لیگ دراصل حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلئے اس لیے اہم ہے کہ اس کے ممبران موجودہ قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی میں تبدیلی لاسکتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس حوالے سے قاف لیگ، مولانافضل الرحمن کے ذریعے اپوزیشن سے بھی رابطے میں ہے۔ تاہم ق لیگ کھل کر سامنے اس لیے نہیں آ رہی کیونکہ اُسے ڈر ہے کہ کہیں وزیراعظم فوری طور پر اسمبلی توڑنے کا فیصلہ نہ کرلیں جس سے ق لیگ کو اگلے الیکشن میں سیٹیں حاصل کرنا فوری طور پر مشکل ہوجائے گا۔
اطلاعات کے مطابق مولانا بھی اس بات پر تیار ہوگئے ہیں کہ اگر عمران خان جاتے ہیں تو وہ اس اسمبلی کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر قدوس بزنجو نے گزشتہ ہفتے دو دفعہ چوہدری پرویز الہی سے ملاقات کی ۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ بزنجو بلوچستان میں ق لیگ کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کی مدد سے تبدیلی لانا چاہتے ہیں جس میں اُن کے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی کے ناراض ارکان بھی شامل ہیں جو کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی موجود ہیں۔
قدوس بزنجو کے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی کے سات ناراض ارکان جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے چار اور اسرار اللہ زھری گروپ کے تین ارکان حکومتی بینچوں سے شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کے بائیس ارکان ملاکر 65 کے ایوان میں 36 ممبران کی اکثریت سے صوبائی حکومت بدل سکتے ہیں۔
پنجاب اسمبلی میں ق لیگ خود وزارت اعلی کا عہدہ چاہتی ہے اور مولانا فضل الرحمن اس سلسلے میں نون لیگ کو تیار کرچکے ہیں۔ اگر مرکز میں نون لیگ کو وزارت عظمی ملتی ہے تاہم مریم نواز نے اس اسمبلی کے ذریعے نون لیگ کی وزارت عظمی لینے کی شدید مخالفت کی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ نئے الیکشن ہوں اور نون لیگ الیکشن جیتے۔ مگر لگتا ایسے ہی ہے کہ فی الحال نون لیگ مریم نواز سے زیادہ شہباز شریف کے فیصلوں پر آگے بڑھے گی. پیپلز پارٹی مرکز اور پنجاب میں بڑی وزارتوں کو حاصل کرسکتی ہے اور بلاول بھٹو اس کے لیے تیار ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بلاول بھٹو کوئی بھی وزارت نہ لیں اور پیپلز پارٹی بغیر کوئی شرط رکھے اس تبدیلی کی حمایت کردے تاکہ عوام کو باور کرایا جائے کہ ہم وزارتوں کے لالچی نہیں۔
پنجاب میں اس وقت 368 کے ایوان میں حکومت کے ساتھ ق لیگ کے دس ارکان اور چار آزاد ارکان ملاکر 195 ارکان شامل ہیں جبکہ اپوزیشن کے ساتھ 173 ارکان ہیں۔ اگر چوہدری پرویز الہی اپنے ساتھ دو آزاد ارکان اوکاڑہ سے جگنو محسن اور ملتان سے قاسم عباس بھی لے آتے ہیں تو سادہ اکثریت سے وزیر اعلی بننے میں کامیاب ہوجائیں گے جبکہ اطلاعات یہی ہیں کہ اُن کے ساتھ پی ٹی آئی کے چوبیس ناراض ارکان بھی ہیں جو کہ کسی بھی رائے شماری کے دن اسمبلی سے غیر حاضر ہوسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button