حکومت کو چیئرمین نیب کے تقرر پر ڈیڈلاک کیوں سوٹ کرتا ہے؟

چیئرمین نیب کے تقرر پر وزیر اعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے مابین ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے نیب آرڈیننس میں موجود سقم حال ہی میں متعارف کردہ دو ترمیمی آرڈیننسز کے ذریعے بھی دور نہیں کیا گیا جس کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر اس مسئلے کو لٹکا رہی ہے تا کہ سرکاری ٹٹو کا کردار ادا کرنے والے نیب چئیرمین جسٹس جاوید اقبال غیر معینہ مدت تک اس عہدے سے چمٹے رہیں۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں ڈیڈلاک پر صدر علوی کے جاری کردہ نیب ترمیمی آرڈیننسز بھی خاموش ہیں جس کا فائدہ موجودہ نیب چیئرمین کو ہے جن کے ذریعے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کا عمل ماضی کی طرح جاری و ساری رہے گا۔ بنیادی کنفیوژن یہ تھی کہ کہ اگر پارلیمانی کمیٹی وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی تجاویز پر مشتمل فہرست میں سے کسی کو نیب کے چیئرمین نامزد کرنے میں ناکام رہے تو پھر کیا ہوگا؟ اس پر 25 دن کے دوران جاری ہونے والے دونوں نئے صدارتی آرڈیننس خاموش ہیں۔ معروف آئینی ماہر اور تحریک انصاف کے سینیٹر سید علی ظفر بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان اور پھر پارلیمانی کمیٹی میں ڈیڈ لاک ہو تو اسے دور کرنے کے لیے نیب قانون میں حالیہ ترامیم نے کوئی حل پیش نہیں کیا۔ علی ظفر کے مطابق صدر بغیر اختیارات کے نیب چیئرمین کی تقرری کرتے ہوئے رسمی کام کریں گے۔ نیب کے سربراہ کے انتخاب میں پہلے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اور پھر پارلیمانی پینل کا اصل کردار ہوگا۔
ممتاز قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس رائے سے اتفاق کیا کہ نیب آرڈیننس میں حال ہی میں کی جانے والی ترامیم نے اس اہم ترین سوال کا جواب نہیں دیا کہ اگر وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ساتھ پارلیمانی فورم میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہو تو پھر کیا ہو گا۔ ایسے میں یہ بھی امکان ہے کہ معاملہ اعلیٰ عدالت میں چلا جائے جو یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ تقرری نہیں کر سکتی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہیے جب تک کہ کوئی راستہ نہ مل جائے۔ یعنی اس ضمن میں ایگزیکٹو کی ناکامی تیسرے فریق یعنی عدالت کی مداخلت کو دعوت دے گی۔ کامران مرتضی کا کہنا تھا کہ مروجہ پارلیمانی نظام میں اسطرح کے معاملات میں صدر کی شمولیت اسے رسمی سے زیادہ کردار دینے کے مترادف ہے۔ صدر، جو صرف ایک شخصیت ہیں، وزیر اعظم اور کابینہ سے بالاتر ہوں گے اور آئین میں دیئے گئے مینڈیٹ سے تجاوز کریں گے۔ کامران مرتضیٰ نے تسلیم کیا کہ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں لیکن ان کا کردار واضح طور پر ’مدر دستاویز‘ میں بیان کیا گیا ہے۔ ایک اور تضاد یہ ہے کہ اگرچہ صدر کو غیر جانبدار اور وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر سے ’اوپر‘ سمجھا جاتا ہے، جب وہ چیئرمین نیب کی نامزدگی کے لیے ان سے مشاورت کر رہے ہوں گے تو وہ اپنے عہدے کو گھٹادیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مشورہ کرنے والے دونوں یعنی وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کا ان کے خراب ترین تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر کسی بھی امیدوار پر اتفاق رائے کرنے کا امکان نہیں ہے جس کا فائدہ جسٹس جاوید اقبال اور حکومت کو ہوگا۔
