مسلح جتھوں سے پابندی ہٹانا قومی مفاد کیسے ہو گیا؟


معروف اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی نے ریاست کی جانب سے تحریک لبیک پر عائد پابندی ختم کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل طاقتور جتھوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو قابو کرنے کی اسٹیبلشمینٹ کی پالیسی وسیع تر قومی مفاد میں نہیں بلکہ پاکستان کے وسیع تر نقصان میں ہے۔ انکا کہنا ہے کہ جس طرح ہماری اسٹیبلشمینٹ کی جانب سے کالعدم جماعتوں کو ہمدم بنا کر یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ سیاسی نظام ناکام ہو رہا ہے، یہ اگر کوئی سوچی سمجھی سازش نہیں تو اور کیا ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ پہلے قومی مفاد میں تحریک لبیک کو کالعدم قرار دیا گیا اور اب وسیع تر قومی مفاد میں ہی تحریک لبیک کو بحال کر دیا گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نام نہاد قومی مفاد کے نام پر کئی پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کی ذمہ دار تنظیم کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور سیاسی طور پر متحرک کرنے کا فیصلہ بھی جاری کر دیا گیا ہے جو کہ واضح طور پر شدت پسندوں کے ہاتھوں ریاست پاکستان کی شکست ہے۔ تحریک لبیک کا معاہدہ ابھی سر چڑھا نہیں کہ تحریک طالبان پاکستان سے سیز فائر، مذاکرات کے آغاز اور ایک اور معاہدے کی شنوائی بھی ہے۔ ایک خُفیہ معاہدے میں ریاست کس حد تک پیچھے ہٹی نہیں معلوم، ایک اور خفیہ معاہدے میں کہاں کھڑی ہو گی، یہ بھی کوئی نہیں جانتا۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ ریاست کو خبر ہو یا نہ ہو مگر ہماری سیاسی جماعتوں کو ضرور پرواہ ہونی چاہیے کہ اس ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی نظریاتی اساس کے ساتھ انتہا پسندی کے خلاف اکٹھی ہو چکی ہیں مگر ان نمائندہ سیاسی جماعتوں کو اپنی فکری اساس بھی طے کرنا ہو گی تاکہ مستقبل میں بقا کی جنگ لڑ سکیں۔ یہ تو طے ہے کہ سیاست دانوں کو واضح اور روشن نظریے کے ساتھ سیاست کرنا ہو گی۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد تمام سیاسی اور عسکری قیادت نے ایک چھت تلے جو معاہدہ کیا تھا، وہ کیا ہوا؟ ایک ایسا سماجی معاہدہ جو اس سے پہلے پاکستان میں کبھی دیکھنے کو نہ ملا اور جس کا نتیجہ پاکستان میں امن کی صورت نکلا۔ عاصمہ سوال۔کرتی ہیں کہ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ وہ ’قومی ایکشن پلان‘ ان نئے معاہدات کے بعد دفن ہو گیا ہے؟ کیا ہم یہ سمجھ لیں کہ ریاست اپنی منہ زور طاقت کا استعمال صرف کمزروروں پر کرے گی؟
پاکستان میں اِس وقت نیکٹا کے مطابق کم و بیش ستر سے زائد تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے جبکہ ایک تنظیم کے کالعدم سے عدم ہوتے ہی کئی ایک نے خود پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے جس سے ایک نیا بحران سر اٹھانے جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ تنظیمیں بھی سڑکوں پر آجائیں اور مظاہرے شروع کر دیں تو کیا ان پر عائد پابندی بھی ختم کر دی جائے گی؟
بقول عاصمہ شیرازی، گذشتہ تین سالوں میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور قومی جماعتوں کو جس طرح مطعون کیا گیا اور جس طرح احتساب کے نام پر دیوار سے لگایا گیا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔ دوسری جانب جس طرح کالعدم جماعتوں کو ہمدم بنا کر یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ سیاسی نظام ناکام ہو رہا ہے، یہ اگر سوچی سمجھی ترکیب نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا اب حکومت انتہا پسند جماعتوں کی سہولت کاری کا کام سر انجام دے گی اور عوام سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے کی بجائے چند مخصوص ٹولوں کے مفادات کے نگہبان بنیں گے؟ کیا جمہوریت ملوکیت کو جنم دے گی؟
بقول عاصمہ، نئے سیاسی ڈھانچے کی تشکیل میں گروہوں اور جتھوں کو جگہ دینا دراصل جمہوریت کی نفی ہے۔ محمد علی جناح کا پاکستان جس فکری بنیاد پر کھڑا کیا گیا تھا، اُس بُنیاد کو توڑنے کی کوشش ہے۔ اسی ہزار جانوں نے جو نذرانے پیش کیے اُن کے لہو پر سودے بازی کے مترادف ہے اور یہی نہیں، چند افراد کے ذاتی ایجنڈے کی ترویج میں قومی مفاد کو دراصل زد پہنچانے کی کوشش ہے۔ انکا۔کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات سے قبل طاقتور جتھوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو قابو کرنے کی پالیسی وسیع تر مفاد میں نہیں بلکہ سنگین نقصان میں ہے۔ ایک جانب متحدہ قومی موومنٹ جیسی جماعت پر پابندی عائد کی گئی، محض ایک تقریر سُننے کے الزام میں کئی رہنماؤں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ جماعت آج بھی دباؤ کا شکار ہے۔ انکا سوال ہے کہ اگر تحریک طالبان سے بات ہو سکتی ہے تو بلوچوں سے بات کیوں نہیں ہو سکتی؟ ایک فرقہ ورانہ تنظیم بھی پابندی ہٹانے ورنہ طاقت کے استعمال کی دھمکی لگا رہی ہے، کیا ریاست وہاں بھی سمجھوتہ کر سکتی ہے؟ ہم کہاں جا رہے ہیں اور کیا چاہ رہے ہیں۔ کیا کسی نے سوچا بھی ہے؟
عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ نظریاتی، سیاسی اور مذہبی تقسیم کسی طور ملک کے جمہوری مستقبل کے لیے خوش آئند نہیں ہے۔ شخصیات کے مفادات کے تحفظ کی بجائے اداروں کو بھی ملکی مفاد میں سوچنے کی ضرورت ہے، ورنہ یونہی ہر دوسرے دن کوئی گروپ ریاست کو بلیک میل کرے گا لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عوامی رائے اور آئین کی عملداری میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے مناسب موقع کی تلاش کی بجائے اپنا کردار کب ادا کریں گی؟

Back to top button