حکومت کے لئے نواز شریف کو وطن واپس لانا ممکن کیوں نہیں؟

نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے حوالے سے حکومت کوششوں کی کامیابی کا اس لئے کوئی امکان نہیں کیونکہ ایک تو حکومت پاکستان نے خود انہیں علاج کے لئے برطانیہ جانے کی اجازت دی تھی اور دوسرا یہ کہ جب ڈاکٹر عمران فاروق کے مقدمہ قتل کا مرکزی ملزم الطاف حسین پچھلے پانچ برس کی کوششوں کے باوجود پاکستان نہیں لایا جا سکا تو نواز شریف پر تو پھر ایک معمولی کرپشن کا کیس ہے اور وہ بھی ان کی اپیل کا فیصلہ آنے پر ختم ہونے کا امکان ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہےکہ نواز شریف کو پاکستان لانے کے لیے حکومت کو ایک مخصوص طریقہ کار اپنانا پڑے گا اور یہ فیصلہ برطانوی ہوم سیکریٹری کی مرضی پر منحصر ہے۔اگر حکومت پاکستان برطانوی حکومت سے درخواست کرتی ہے کہ میاں محمد نواز شریف کو پاکستان بھیجا جائے تو اس کے لیے سب سے پہلے انھیں برطانوی ہوم سیکریٹری کی رضامندی درکار ہوگی جس کے بعد ہی برطانیہ میں نواز شریف کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کی جا سکے گی جبکہ اس کے بعد بھی برطانوی حکومت اپنے قانون کے مطابق اس بات کا جائزہ لے گی کہ اس شخص کو وہ نکالیں یا نہیں۔ برطانیہ کے حوالگی کے قانون 2003 کے مطابق برطانوی حکومت سب سے پہلے یہ دیکھتی ہے کہ جس ملک کی طرف سے حوالگی کی درخواست آئی ہے کیا اس ملک کے ساتھ برطانیہ کا دوطرفہ معاہدہ ہے یا نہیں۔ کچھ ممالک ایسے ہیں جن کے ساتھ برطانوی حکومت اپنے قانون اور معاہدے کے تحت مجرموں کا تبادلہ کرتی ہے اور بعض مخصوص کیسز میں یکطرفہ حوالگی بھی کی جاتی ہے لیکن پاکستان کے ساتھ برطانیہ کا کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہے۔اگر برطانوی ہوم سکریٹری پاکستان کی درخواست پر میاں محمد نواز شریف کا معاملہ آگے چلانے پر رضا مندی کا ظہار کر دیتے ہیں تو پھر انھیں مجسٹریٹ کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ پاکستانی حکومت کو برطانیہ میں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کس بنیاد پر نواز شریف کو پاکستان واپس لے جانا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ برطانوی کورٹ میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ میاں محمد نواز شریف کس کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ جبکہ انھیں اس کیس کے تمام شواہد بھی عدالت کے سامنے پیش کرنے ہوں گے۔اس کے بعد برطانوی کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ کیا جو درخواست یا اپیل کی گئی ہے، وہ درست بھی ہے یا نہیں۔ اگر فیصلہ کسی شخص کے خلاف آ بھی جاتا ہے تو بھی اس شخص کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتا ہے جس میں تقریباً کم از کم دو سال لگ ہی جاتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے علاوہ بھی برطانوی قانون میں دو اہم نکات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے جس میں انسانی حقوق اور سیاسی طور پر ظلم کا نشانہ بنایا جانا بھی شامل ہیں۔ اس طرح میاں محمد نواز شریف کیونکہ طبی بنیادوں پر عدالت سے ضمانت لے کر گئے تھے اس لیے برطانونی عدالت یہ پہلو بھی دیکھے گی کہ کیا ایک بیمار شخص کو وطن واپسی پر جیل میں تو نہیں ڈال دیا جائے گا جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ان تمام پہلوؤں کو دیکھا جائے تو صاف نظرآتا ہے کہ حکومت پاکستان نواز شریف کو پاکستان لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔
خیال رہے کہ حکومت پاکستان نے برطانیہ کی حکومت سے تیسری بار درخواست کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو پاکستانی جیل میں سزا پوری کرنے کے لیے واپس بھیجیں اور اس مرتبہ یہ خط ذاتی طور پر اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کو دیا گیا ہے۔ یہ خط نواز شریف کے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی تقریر کے تین ہفتوں بعد برطانوی سفارت کار کے حوالے کیا گیا جہاں مذکورہ تقریر میں انہوں نے سیاست میں اس کے مبینہ کردار پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔خط کے ذریعے حکومت پاکستان نے برطانوی حکام سے نواز شریف کے وزٹ ویزا کو منسوخ کرنے پر غور کرنے کو کہا ہے جس نے انہیں طبی بنیادوں پر نومبر سے لندن میں رہنے کی اجازت دے رکھی ہے۔اس خط میں 1974 کے برطانیہ کے اپنے امیگریشن قوانین کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص کو اگر چار سال سے زیادہ کی قید کی سزا سنائی جائے تو اسے برطانیہ سے ڈی پورٹ کردیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر کے مطابق حکومت پاکستان نے برطانیہ کے حکام کو نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے تین درخواستیں کی ہیں، آخری درخواست 5 اکتوبر کو کی گئی تھی۔ شہزاد اکبر نے اس خط میں لکھا کہ سابق وزیر اعظم ریاست سے لوٹ مار کرنے کے ذمہ دار تھے، مجھے یقین ہے کہ آپ بدعنوانی کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہماری کوششوں کے حامی ہوں گے۔پریتی پٹیل کو لکھے گئے خط میں برطانوی سیکریٹری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نواز شریف کو ملک بدر کرنے کے لیے اپنے "وسیع اختیارات” استعمال کریں۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ پچھلا خط اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے نواز شریف کی ضمانت منسوخ کرنے کے بعد گزشتہ ماہ بھیجا گیا تھا۔اپنے تازہ خط میں حکومت پاکستان نے سابق وزیر اعظم کی "مخصوص ملک بدری” کے ممکنہ طریقوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ گیند اب برطانوی حکومت کے کورٹ میں ہے۔
خیال رہے کہ نواز شریف نے ناصرف آل پارٹی کانفرنس میں بلکہ حال ہی میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے گوجرانوالہ جلسے میں بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے کے ایک دن بعد وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ٹائیگر فورس کے کنونشن سے خطاب کیا اور اعلان کیا کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ اور بھی سخت رویہ اپنائیں گے اور انہوں نے نواز شریف کو واپس لانے اور سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے لیے ہر ممکن کوششوں کا عزم ظاہر کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اب میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو واپس لاؤں اور آپ کو وی آئی پی کے بجائے ایک عام جیل میں رکھا جائے۔قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت پاکستان عمران فاروق قتل کیس میں سزا پانے والے الطاف حسین کو برطانیہ سے پاکستان واپس نہیں لاسکی تو پھر کرپشن کیسز میں سزا پانے والے نواز شریف کی واپسی سے برطانوی حکومت کو کیسے قائل کرسکتی ہے لہذا نواز شریف کی وطن واپسی کا کوئی امکان نہیں۔
