حکومت FATF قوانین سے کیسے اپوزیشن کا رگڑا نکالے گی؟

پاکستان کی بڑی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے تمام قواعد و ضوابط کو بلڈوز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف قوانین کی آڑ میں جو قانون سازی کی گئی ہے اس کا ایک بڑا مقصد اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف حکومتی شکنجہ مزید تنگ کرنا ہے تاکہ ان کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کرکے ضمانت کے بغیر زیادہ سے زیادہ عرصہ اندر رکھا جا سکے۔
بین الاقوامی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مطالبات پورے کرنے کے لئے 16 ستمبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیسن کے بائیکاٹ کے باوجود ہونے والی قانون سازی کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی صرف ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ عمران خان کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے بھی کی گئی ہے تاکہ ان کا زیادہ سے زیادہ رگڑا نکالا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا بھی یہی کہنا ہے اب یہ ایف اے ٹی ایف قوانین دوسروں کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور میڈیا مالکان کے خلاف بھی استعمال ہوں گے اور خصوصا اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کے مضمرات بہت جلد سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔ اس ضمن میں سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی کہتے ہیں کہ اصل میں ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی آڑ میں منی لانڈرنگ کا بل منظور کیا گیا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بل کی بعض شقوں پر تو حکومت نے حزب مخالف کی جماعتوں سے کسی حد تک مشاورت کی لیکن زیادہ تر ترامیم کو تو پارلیمنٹ، بلخصوص سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے سپرد ہی نہیں کیا گیا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ اقدام پارلیمان پر عدم اعتماد کا مظہر ہے اور ایسے اقدامات سے پارلیمنٹ کمزور تر ہو رہی ہے۔ سینیٹ کے سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں ہونے والی قانون سازی کا معاملہ اگلے ہفتے ہونے والی حزب مخالف کی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی اُٹھایا جائے گا کیونکہ اس قانون سازی کا ایک بڑا مقصد اپوزیشن رہنماؤں کا مزید رگڑا نکالنا ہے۔
پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر جاوید عباسی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے حزبِ مخالف کی جماعتیں قانون سازی کرنے کے لیے تیار تھیں لیکن حکومت نے اس کی آڑ میں ایسی قانون سازی بھی کر دی ہے جو کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔اُنھوں نے کہا کہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں سے تعاون مانگا تو ان جماعتوں نے ملکی مفاد کے پیش نظر یہ سب کیا لیکن وزیر اعظم کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ حزب مخالف کی جماعتیں ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر حکومت کو بلیک میل کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی کے لیے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے جو ترامیم پیش کی گئیں ان سب کو مسترد کر دیا گیا۔وزارت قانون اور انصاف سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جاوید عباسی کا کہنا ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق جو قانون سازی کی گئی اس کا مسودہ تک متعقلہ قائمہ کمیٹی کو نہیں بھجوایا گیا جس سے حکومت کی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ جس عجلت میں یہ قانون سازی کی جا رہی ہے اس کے نقصانات بھی سامنے آ سکتے ہیں جو کہ ملکی مفاد میں نہیں ہوں گے۔
صحافی اور تجزیہ نگار حامد میر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں تاہم اب یہ قوانین شدت پسندوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں اور میڈیا مالکان کے خلاف بھی استعمال ہوں گے۔اُنھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت نے بھی 1997 میں انسداد دہشت گردی ایکٹ بنایا تھا جس کا مقصد شدت پسندوں کے خلاف قانون کو سخت کرنا تھا لیکن آج بہت سی جماعتوں کے سربراہ اور کارکن اسی ایکٹ کا شکار بن چکے ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ عالمی دباؤ پر یہ قانون سازی تو ضرور کی گئی ہے تاہم اس مقصد کے لیے تمام ریاستی وسائل استمعال کیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اس قانون سازی میں حکومت کو صرف دس ووٹوں کی سبقت حاصل تھی۔حامد میر کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی میں کچھ ارکان پارلیمنٹ اسی طرح ’مینیج‘ ہوئے جس طرح سیینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے دوران سینیٹرز ’مینیجڈ‘ کیے گئے تھے۔اُنھوں نے کہا کہ حزب مخالف کی جماعتوں کی کمزوریاں ہی وزیر اعظم عمران خان کی طاقت ہیں اور جس دن حزب مخالف کی جماعتیں سنجیدگی کے ساتھ اکٹھی ہو گئیں تو اس کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت تو اپوزیشن رہنماؤں اور صحافیوں کو انتظار کرنا چاہیے کہ ایف اے ٹی ایف قوانین کی آڑ میں جو نئی قانون سازی کی گئی ہے اس کا ان کے خلاف استعمال کب شروع ہوتا ہے؟
