خاتون صحافی سے بدکلامی کرنے پر حسن نثار تنقید کی زد میں


سینئر صحافی اور تجزیہ نگار حسن نثار ایک مرتبہ پھر ایک لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران ایک خاتون صحافی کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرنے کے بعد سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں۔
سیاستدانوں سے نفرت کرنے اور فوجی آمروں کے قصیدے پڑھنے والے حسن نثار نے جیو ٹی وی کے پروگرام رپورٹ کارڈ کے دوران سیاستدانوں کا دفاع کرنے پر خاتون صحافی ریما عمر کو سطحی گفتگو کرنے والی عورت قرار دے دیا اور یہ بھی فرمایا کہ اسے نہ کسی بات کے سر کا پتہ ہے اور نہ ہی پیر کا۔ تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حسن نثار نے کسی لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران خاتون صحافی کے ساتھ بدتمیزی کی ہو۔ سال 2019 میں بھی ایک ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ میں تاخیر ہو جانے پر کیمرے کے سامنے بیٹھے حسن نثار نے خاتون کے بارے میں نہایت گندی گالیاں بکیں جو ریکارڈ ہو گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ تب بھی سوشل میڈیا صارفین نے حسن نثار پر شدید تنقید کی تھی اور جیو ٹی وی کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسے بد زبان شخص کو اپنے ٹی وی چینل پر بیٹھنے کی اجازت نہ دے۔ تاہم ایسا نہ ہوسکا اور اب ایک مرتبہ پھر حسن نثار نے لائیو شو کے دوران اپنی زبانی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس حوالے سے سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ جہاں دلیل ختم ہو جاتی ہے وہاں عموماً آواز اونچی اس لیے کی جاتی ہے اور بد تمیزی اس لیے کی جاتی ہے تاکہ اختلاف کرنے والے شخص پر حاوی ہوا جا سکے۔ وہ کہتی ییں کہ زیادہ تر یہ رویہ مردوں کی جانب سے عورتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کچھ ایسا ہی اس کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ پروگرام کا موضوع موروثی سیاست تھا۔۔اس وائرل کلپ میں اینکر علینہ فاروق کی جانب سے جب خاتون تجزیہ کار اور وکیل ریما عمر سے ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ موروثی سیاست نہ صرف ساؤتھ ایشیا میں چلتی ہے بلکہ یورپ اور امریکہ میں بھی۔ ویسے بھی جب عوام کسی جماعت یا اس کے لیڈر کو منتخب کر لیتے ہیں تو پھر موروثی سیاست کا سوال ختم ہوجاتا ہے اور عوامی چوائس کی بات آجاتی ہے اور یہی جمہوریت ہے۔ تاہم تجزیہ کار حسن نثار نے ان کی بات دوران انھیں بار بار ٹوکا اور منفی قسم کے لقمے دیتے رہے۔ ریما عمر نے جب حسن نثار سے اختلاف کیا تو انھوں نے تلخ انداز میں اور چیختے ہوئے غصے میں جواب دیا جو سوشل میڈیا کا موضوع بن گیا۔
اس معاملے پر جب بی بی سی کی جانب سے حسن نثار سے رابطہ کیا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک خاتون کے ساتھ بدتمیزی کرنے پر شرمندہ ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے ساتھ تھوڑا مسئلہ چل رہا ہے۔ میں اونچا سنتا ہوں اور جو اونچا سنتا ہے وہ بولتا بھی اونچا ہے۔’ ریما عمر کے ساتھ اختلاف رائے پر ان کا کہنا تھا کہ کچھ باتیں ریما اپنی گفتگو میں ایسے بیان کرتی ہیں کہ اُس وقت بندہ کہتا ہے کہ یہ میری بات کو میرے ہی سامنے غلط انداز میں لے رہی ہیں۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ اسی وقت ان باتوں کو درست انداز میں پیش کیا جائے۔ انھوں نے ریما عمر کے تجزیے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریما کا موقف تھا کہ پاکستانی سیاست دانوں نے قربانیاں دی ہی جبکہ میرے خیال میں 73 سال میں انہوں نے ملک برباد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میری کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ریما جان بوجھ کر اکثر اوقات چیزوں کو بگاڑ کر پیش کرتی ہیں، بلکہ مین یہ سمجھتا ہوں کہ ان کو ایشوز کی سمجھ نہیں ہے۔ وہ پڑھی لکھی ہیں لیکن اس ملک کے زمینی حقائق مختلف ہیں۔ وہ ایک مخصوص کلاس سے تعلق رکھتی ہیں جنھیں اصل باتوں کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ حسن نثار نے اپنے تلخ رویے اور انداز گفتگو کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہر بندے کا بات کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے اور وہ اپنے مزاج کے مطابق بات کرتا ہے۔ میں نے کچھ چیزیں ایسی اپنی زندگی میں اس ملک میں ہوتے دیکھی ہیں کہ جب کوئی سیاستدانوں کا دفاع کرتا ہے تو مجھے غصہ آ جاتا ہے۔ آمر مطق مشرف کو پاکستان کا بہترین اور کامیاب حکمران قرار دینے والے حسن نثار کہنا تھا کہ ریما عمر نے تعلیمی اداروں میں جو پڑھا ہے وہ ہم نے بھی پڑھا ہے لیکن جو ہمارا تجربہ ہے وہ ان کا نہیں ہے۔
جب اس نوعیت کے رویوں کے حوالے سے سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ سے سوال کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ یہ رویہ عموماً اس وقت دیکھا جاتا ہے جب کسی کے پاس کوئی مضبوط دلیل نہیں ہوتی ہے۔ ایسا شخص اپنی آواز بھی اونچی کرتا ہے اور بد تمیزی پر بھی اتر آتا ہے۔ ویسے تو دلیل کے بغیر اختلاف رکھنے والا ہر شخص یہی کرتا ہے لیکن ہمارے نشانہ برتری والے معاشرے میں زیادہ تر یہ دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ یہ رویہ زیادہ اپنایا جاتا ہے۔ طاہرہ کا کہنا تھا کہ مردوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ پہلے کی عورت ایسے رویے خآموشی سے برداشت کر لیتی تھی لیکن آج کی خواتین چپ نہیں رہتی ہیں۔ وہ اپنے شعور اور عقل کے مطابق اختلاف رائے بھی رکھتی ہیں اور یہی بات ہمیں بطور معاشرہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم عقل کُل نہیں ہیں اور ہماری رائے غلط بھی ہو سکتی ہے۔’ انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پاکستانی معاشرے میں نوجوان نسل اور پرانی نسل کے درمیان ‘جینریشن گیپ’ موجود ہے اور ہمارے پاس ایسی تربیت نہیں ہے کہ اخلاقیات کے ساتھ کسی سے اختلاف کیسے کیا جاتا ہے۔
ریما عمر کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہوئے حسن نثار کی کلپ کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا ردعمل کے مطابق زیادہ تر صارفین کی جانب سے یہ نکتہ اٹھایا جا رہا ہے کہ پڑھے لکھے جاپل لوگ خود کو درست ثابت کرنے کے لیے آواز اونچی کرنے کے علاوہ بدتمیزی کا سہارا کیون لیتے ہیں۔ بیشتر صارفین کی جانب سے ریما عمر کے رویے کو سراہا گیا اور حسن نثار کے غلط رویے کی مذمت کی گئی۔ صارف لئیق ہاشمی نے لکھا کہ حسن نثار کے پاس دلائل نہ ہونے کی وجہ کی وجہ سے وہ اونچی آواز میں بات کرتے ہیں اور میں ریما عمر کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے حسن نثار کو یہ کرنے سے روکا۔ صارف ماہین عثمان نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا کہ حسن نثار ہمارے جاہل معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ احترام کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح گفتگو کرنی ہے اور اختلاف رائے کیسے کیا جائے۔ کئی صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا اتنے غلط ٹمپرامنٹ کے حامل شخص کو ٹی وی پر لائیو پروگرام میں بیٹھنے کی اجازت ہونی چاہیے جہاں وہ کسی بھی وقت کوئی بھی بات کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے سینئیر صحافی مطیع اللہ جان نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حسن نثار کو بہتر ہوگا کہ جیو ٹی وی کی انتظامیہ گھر بٹھا کر ماہانہ وظیفہ دے دیا کرے ورنہ ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو لائیو پروگرام کے دوران کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حسن نثار کے حق میں بات کرتے ہوئے کچھ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ وہ ایک مخصوص انداز میں بات کرتے ہیں اور انھوں نے ویسے ہی بات کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button