خضدار میں آپریشن کے دوران داعش کے دو دہشت گرد ہلاک

ضلع خضدار کے علاقے سورگاز میں سی ٹی ڈی کی جانب سے انٹیلی جنس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں عسکریت پسند تنظیم داعش کے دو انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی بلوچستان کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، سورگاز کے پہاڑی علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر سی ٹی ڈی نے ایک ٹیم کو جائے وقوع پر روانہ کیا۔
اسی دوران سی ٹی ڈی کی ٹیم نے موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کو روکا جو خضدار میں ایک حساس تنصیب کو نشانہ بنانے کے لیے سندھ کے شہر شہداد کوٹ سے بلوچستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی اہلکاروں کو دیکھتے ہی مشتبہ دہشت گردوں نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے فائرنگ شروع کردی اور دستی بم بھی پھینکے جس کے جواب میں سی ٹی ڈی کی ٹیم نے بھی جوابی فائرنگ کی۔سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد مارے گئے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مزید 3 مسلح افراد رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ترجمان نے بتایا کہ ہلاک دہشت گردوں میں ایک عسکریت پسند کی شناخت مطیع اللہ عرف بسم اللہ کے نام سے ہوئی ہے جس کے سَر کی قیمت 1 لاکھ مقرر کی گئی ہے جبکہ اس کا نام ریڈ بُک میں شامل تھا۔
سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ دونوں دہشت گردوں کا تعلق کالعدم عسکریت پسند اسلامی تنظیم سے تھا جبکہ دیگر عسکریت پسندوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ان کا کہناتھا کہ دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے جن میں 34 راؤنڈز کے ساتھ ایک سب مشین گن، 12 راؤنڈز کے ساتھ ایک 9 ایم ایم پستول، 5 کلو گرام بارودی مواد، پانچ میٹر دھماکا کرنے والی ہڈی، ایک ریموٹ کنٹرول ڈیوائس اور ایک موٹر سائیکل شامل ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ خضدار کے سی ٹی ڈی تھانے میں واقعے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید فرار مسلح عسکریت پسندوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
