خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے ساجدگوندل کو رہا کردیا گیا

خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے ایس ای سی پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ساجد گوندل کو 5 روز بعد رہا کردیا گیا. جس کے بعد وہ بخیریت اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ساجد گوندل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ میں گھر واپس آ گیا ہوں اور محفوظ ہوں، میں اپنے ان تمام دوستوں کا شکر گزار ہوں جو میرے لیے فکرمند تھے۔


دوسری طرف اسلام آباد پولیس کے مطابق سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس سی سی پی) کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کو روات کے قریب سے بازیاب کرایاگیا ہے.ایس پی انویسٹیگیشن ملک نعیم کے مطابق گھر والوں کا ساجد گوندل سے رابطہ ہوا اور انہیں بتایا گیا ہے کہ ساجد گوندل کو روات کے قریب چھوڑا گیا ہے۔ جس کے بعد وہ خیریت سے گھر واپس پہنچ گئے ہیں.
ساجد گوندل ایس ای سی پی میں تعیناتی سے قبل صحافت کے پیشے سے منسلک تھے اور انگریزی اخبار ڈان میں بحیثیت رپورٹر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کے لاپتہ ہونے کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور سوشل میڈیا پر خصوصاً صحافیوں کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ان کی بازیابی کی خبر بھی فوراً پھیل گئی اور ٹوئٹر پر ساجد گوندل کو بازیابی پر مبارک باد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ‘وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا کہ لوگوں کا ‘لاپتہ’ ہونا ناقابل قبول ہے کیونکہ تمام جرائم سے نمٹنے کے لئے قوانین موجود ہیں۔ اس معاملے پر آئی جی اور وزارت داخلہ کو سخت احکامات دیے گئے تھے۔ ساجد گوندل کی محفوظ واپسی بہت اچھی بات ہے۔’


4ستمبر کو اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والے ساجد گوندل کی گاڑی چک شہزاد کے پارک روڈ واقع نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) کے سامنے سے ملی اور ان کے اہلخانہ کا کہنا تھا کہ ان کا جوائنٹ ڈائریکٹر سے رابطہ نہیں ہورہا۔جوائنٹ ڈائریکٹر کے اہلخانہ نے کہا تھا کہ ساجد گوندل چک شہزاد میں خاندان کے ملکیتی ڈیری فارم گئے تھے، تاہم فارم کے عملے کا کہنا ہے کہ وہ بعد ازاں وہاں سے چلے گئے تھے۔اہلخانہ نے کہا تھا کہ ایس ای سی پی عہدیدار و سابق صحافی گھر نہیں لوٹے۔
بعد ازاں ساجد گوندل کی اہلیہ نے شہزاد ٹاؤن تھانے میں واقعے کی شکایت درج کرائی جس میں انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ ان کے شوہر کو ‘نامعلوم افراد نے اغوا’ کر لیا ہے۔ساجد گوندل کی والدہ نے بیٹے کی گمشدگی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی جس پر عدالت نے پیر تک سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔
عدالت میں ساجد گوندل کی والدہ نے بیان دیا کہ میرے بیٹے کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی، پارک روڈ سے بیٹے کو اغوا کیا گیا اور اغوا کار گاڑی وہیں چھوڑ گئے۔
جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد سے شہری کو اس طرح اغوا کیا جانا انتہائی تشویشناک ہے۔پیر تک سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے عہدیدار کو بازیاب کرانے میں ناکامی پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکریٹری داخلہ، پولیس اور دارالحکومت کی انتظامیہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا تھا اور 10 روز میں ساجد گوندل کی بازیابی کا حکم دیا تھا.چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں جبری گمشدگیوں کی بڑھتی تعداد پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی تھی کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی پالیسی وضع کرنے کے لیے اس معاملے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھائیں۔آج اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی وزیر اعظم عمران خان نے ساجد گوندل کی گمشدگی پر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ اور آئی جی کو ان کی جلد بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مالیاتی اور کاروباری اداروں کے نگران ادارے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل 3 ستمبر بروز جمعرات لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر ‘صحافیوں کے تحفظ’ کے حوالے سے بحث چھڑ گئی تھی۔ ٹوئٹر صارفین کی جانب سے صحافی مطیع اللہ جان کی گمشدگی کے واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے ساجد گوندل کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button