خلائی مخلوق جیت گئی،گیلانی ہار گئے لیکن کھیل ابھی جاری ہے

دوسری مرتبہ سینٹ کے چیئرمین بننے والے صادق سنجرانی پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے امیدوار تو تھے ہی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان کو یہ سیاسی عروج بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کی وجہ سے ملا۔
یاد رہے کہ سینٹ الیکشن سے ایک روز پہلے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے اپنی جماعت میں شمولیت کے وعدے پر صادق سنجرانی کو 12 مارچ 2018 میں چیئرمین سینٹ منتخب کروایا تھا۔ بلاول نے یہ بھی بتایا ہے کہ کہ صادق سنجرانی قرآن پر حلف دینے کو بھی تیار تھے تاہم میں نے منع کر دیا مگر افسوس کہ سینیٹ چیئرمین منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی۔بلاول کا کہنا تھا کہ حکومتی ترجمان صادق سنجرانی کو ریاست کا امیدوار قرار دے کر اداروں کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں۔ بلاول نے کہا کہ سوشل میڈیا پر صادق سنجرانی کی پرانی ویڈیو گردش کر رہی ہے مگر کسی کو معلوم نہیں کہ ہم نے تین سال قبل سینیٹ چیئرمین کے لیے کسے ووٹ دیا تھا۔ انہوں نے یہ راز کھولتے ہوئے خود ہی بتا دیا کہ مارچ 2018 میں صادق سنجرانی مجھ سے ملنے میرت گھر آئے اور کہا کہ مجھے چیئرمین بنوانے میں مدد کی جائے۔ بلاول نے دعویٰ کیا کہ اس ملاقات میں صادق سنجرانی نے انہیں یقین دلایا کہ سینیٹ کا چیئرمین منتخب ہونے کے بعد وہ پیپلز پارٹی میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لیں گے۔ بلاول کے مطابق اس موقع پر صادق سنجرانی خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے قرآن کریم پر حلف تک اٹھانے کو تیار تھے۔ تاہم میں نے انہیں کہا کہ ہمیں آپ پر اعتبار ہے، قرآن کریم کو درمیان میں لانے کی ضرورت نہیں۔ بلاول نے صادق سنجرانی کی جانب سے وعدہ خلافی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ انہوں نے چیئرمین سینٹ منتخب ہونے کے لیے ہم سے ووٹ لئے مگر بعد ازاں اپنے وعدے سے مکر گئے۔
واضح رہے کہ صادق سنجرانی بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے باغی دھڑے، جس نے جنوری میں ن لیگ اور نیشنل پارٹی کی مخلوط حکومت کو بغاوت کے ذریعے گرا کر قدوس نریجو کو وزیر اعلی بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا، کی مدد سے ایوان بالا کے رکن منتخب ہوئے تھے۔بعد میں اس باغی دھڑے نے بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے 2018 کے الیکشن کے بعد صوبے میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ صادق سنجرانی مارچ 2018 میں جب چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے تو انہیں مسلم لیگ نون کے راجہ ظفر الحق کے 46 کے مقابلے میں 57 ووٹ ملے تھے۔ انہیں اس وقت بلوچستان کے وزیراعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے نامزد کیا تھا اور پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ان کی پشت پر تھیں۔ صادق سنجرانی کو کم عمر ترین اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلا چیئرمین سینیٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔بعد میں صادق سنجرانی کے خلاف یکم اگست 2019 کو تحریک عدم اعتماد آئی جو کی خلائی مخلوق نے ناکام بنا دی۔ یاد رہے کہ تب اپوزیشن کے پاس حکومتی بینچوں سے زیادہ ووٹ تھے لیکن خفیہ رائے شماری کے دوران اپوزیشن اتحاد کے ووٹ 64 سے کم ہو کر پچاس رہ گئے اور یوں صادق سنجرانی جیت گئے اور میر حاصل بزنجو ہار گئے جنہوں نے بعد ازاں سنجرانی کی جیت کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جیت قرار دیا تھا۔
اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پروان چڑھنے والے صادق سنجرانی ان سیاستدانوں میں سے ہیں جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنا تعلق ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ نرم گفتار اور میٹھے سنجرانی 14 اپریل 1978 کو بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوک کنڈی میں پیدا ہوئے۔ صادق سنجرانی نے ابتدائی تعلیم نوک کنڈی میں حاصل کی اور پھر اسلام آباد سے ایم اے کیا۔ان کے والد خان محمد آصف سنجرانی کا شمار علاقے کے قبائلی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور وہ ضلع کونسل چاغی کے رکن رہ چکے ہیں۔ صادق سنجرانی پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں اور ان کے ایک بھائی اعجاز سنجرانی نواب ثناءاللہ زہری کے دور حکومت میں محکمہ ریونیو کے مشیر بنے۔حکومت کی تبدیلی کے باوجود وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔ صادق سنجرانی کے ایک بھائی محمد رازق سنجرانی سینڈک پروجیکٹ کے ایم ڈی رہے۔
اگرچہ تحریک انصاف کی جانب سے 43 سالہ صادق سنجرانی کو ریاست کا امیدوار قرار دیا گیا تاہم یہ بھی ایک حقیققت ہے کہ سنجرانی کو پچھلی مختلف حکومتوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ سنجرانی دو سابق وزیراعظم نواز شریف اور سید یوسف رضا گیلانی کے ادوار میں وزیراعظم سیکریٹریٹ شکایات سیل کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ سنجرانی کو سن 1998 میں نواز شریف نے وزیر اعظم سیکریٹریٹ کے شکایات سیل کا کوآرڈینیٹر بنایا تھا۔ 12اکتوبر 1999 کو نواز شریف حکومت کا تختہ الٹے جانے تک وہ اس عہدے پر فائز رہے۔ 2008 میں جب یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم پاکستان بنے تو ان کی جانب سے قائم کئےگئے شکایات سیل کا سربراہ میر صادق سنجرانی کو بنایا گیا اور وہ 5 سال تک اس سیل کے سربراہ رہے۔ مختصر یہ کہ صادق سنجرانی کا سیاسی کیریئر اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پروان چڑھنے والے ایک روایتی سیاستدان کی کامیاب مثال ہے۔
