گیلانی جیت تو گئے تھے لیکن قسمت ہار گئی

پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کے ہاتھوں شکست کھانے والے سید یوسف رضا گیلانی کا شمار ان چند سیاستدانوں میں ہوتا ہے جن کی حکومت اور اپوزیشن بینچوں دونوں سائڈز پر عزت ہے۔
گیلانی سرائیکی خطے سے تعلق رکھنے والے واحد منتخب وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔ ان کی بھٹو زرداری فیملی سے غیر مشروط تعلق اور وفاداری بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یوسف رضا گیلانی جب فوجی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر زرداری دور میں بطور وزیر اعظم سپریم کورٹ سے نااہل قرار پائے تو بہت سوں کا خیال تھا کہ ان کا سیاسی کیریئر اب مزید آگے نہیں بڑھ سکے گا لیکن اب اچانک وہ پاکستان کی پارلیمان میں اپوزیشن کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک بن کر ابھرے ہیں۔ تین مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخاب میں اسلام آباد کی نشست پر کامیابی کے بعد پاکستان کی متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم نے یوسف رضا گیلانی کو ایوانِ بالا کے چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ جنرل ضیا الحق کی آمریت میں عملی سیاست کا آغاز کرنے والے گیلانی ماضی میں پاکستان کے 18ویں وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ سنہ 2012 میں سپریم کورٹ نے انھیں اپنے دور کے پانچویں سال میں برطرف کیا تھا۔ اس سے قبل 2011 میں ایبٹ آباد میں امریکی میرینز کی جانب سے اسامہ بن لادن کے خفیہ کمپائونڈ پر آپریشن کے بعد یوسف رضا گیلانی اور فوجی اسٹیبلشمنٹ میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد ان کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کو 2013 میں اِنتخابی مہم کے دوران صوبہ پنجاب کے شہر ملتان سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس سے ان کا سیاسی کیریئر کافی متاثر ہوا۔ان کا بیٹا تین برس تک اغوا کاروں کی قید میں رہا اور پھر افغانستان میں ایک فوجی کارروائی میں بازیاب ہوا۔
مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نو جون سنہ 1952 کو جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے ایک ایسے جاگیردار پیر گھرانے میں پیدا ہوئے جو پچھلی کئی نسلوں سے سیاست میں مضبوطی سے قدم جمائے ہوئے ہے۔ملتان کی درگاہ حضرت موسٰی پاک کا گدی نشین ہونے کی بنا پر ان کا خاندان مریدین یا روحانی پیروکاروں کا بھی وسیع حلقہ رکھتا ہے۔ان کے دادا سید غلام مصطفی رضا شاہ گیلانی تحریک پاکستان کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں اور ان کے بارے میں مشہور ہے کہ انھوں نے کبھی کسی انتخاب میں شکست نہیں کھائی۔ ان کے والد کا نام سید علمدار حسین گیلانی ہے جبکہ معروف سیاست دان حامد رضا گیلانی ان کے رشتے کے چچا تھے۔ یوسف رضا گیلانی کی مسلم لیگ فنکشنل کے سابق سربراہ اور ساتویں پیر پگارا سید شاہ مردان شاہ دوئم سے بھی رشتے داری ہے جن کی پوتی یوسف رضا گیلانی کی بہو ہیں۔یوسف رضا گیلانی نے 1976 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا۔انھوں نے اپنی عملی سیاست کا آغاز سنہ 1978 میں اس وقت کیا جب انھیں مسلم لیگ کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا رکن چنا گیا اور سنہ 1982 میں وہ وفاقی کونسل کے رکن بن گئے۔یوسف رضا گیلانی نے 1983 میں ضلع کونسل کے انتخابات میں حصہ لیا اور وہ سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کے موجودہ رہنما سید فخر امام کو شکست دے کر چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہوئے۔ 1985 میں انھوں نے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کے غیر جماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات اور بعد ازاں وزیرِ ریلوے بنائے گئے۔1988 میں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور اسی برس ہونے والے عام انتخابات میں انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور اپنے مدمقابل میاں نواز شریف کو شکست دی جو ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی چار نشستوں پر امیدوار تھے۔ ان انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ایک مرتبہ پھر وفاقی کابینہ کے رکن بنے اور اس مرتبہ انھیں بینظیر بھٹو کی کابینہ میں سیاحت اور ہاؤسنگ و تعمیرات کی وزارت ملی۔ یوسف رضا گیلانی 1990 کے انتخاب میں تیسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے اور 1993 میں صدر غلام اسحاق خان کی طرف سے اسمبلی کی تحلیل کے بعد نگراں وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی نگران کابینہ میں انھیں بلدیات کا قلم دان سونپا گیا۔ 1993 کے انتخابات میں یوسف رضا گیلانی چوتھی مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ انھوں نے اپنی سپیکر شپ کے دوران قائم مقام صدر کے فرائض بھی سرانجام دیے۔ ماضی میں انتخابات میں کامیابی کے باوجود یوسف رضا گیلانی فروری 1997 میں ہونے والے انتخابات میں ناکام رہے۔
1998 میں انھیں پیپلز پارٹی کا نائب چیئرمین نامزد کر دیا گیا لیکن دسمبر 2002 میں انھوں نے اپنے بھانجے اور رکن قومی اسمبلی اسد مرتضیٰ گیلانی کی جانب سے پیپلز پارٹی میں بننے والے فارورڈ بلاک میں شامل ہونے پر پارٹی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔سیاسی کیریئر کے دوران یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں نیب نے ریفرنس دائر کیا اور راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے ستمبر سنہ 2004 میں یوسف رضا گیلانی کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں 300 ملازمین غیر قانونی طور پر بھرتی کرنے کے الزام میں 10 سال قید بامشقت کی سزا سنائی تاہم سنہ 2006 میں یوسف رضا گیلانی کو عدالتی حکم پر رہائی مل گئی۔یوسف رضا گیلانی نے اڈیالہ جیل میں اسیری کے دوران اپنی یادداشتوں پر مبنی پر ایک کتاب ‘چاہ یوسف سے صدا’ بھی لکھی۔ وہ فروری سنہ 2008 کے انتخابات میں ملتان سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پانچویں مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان انتخابات کے بعد ابتدا میں یوسف رضا گیلانی کو وزارتِ عظمٰی کے لیے مضبوط امیدوار گردانا نہیں جا رہا تھا اور پنجاب سے ممکنہ امیدوار کے طور پر احمد مختار کا نام خبروں میں تھا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی نے انھیں 22 مارچ 2008 کو ملک کے نئے وزیراعظم کے لیے نامزد کر دیا۔ اس کے ایک دن بعد 24 مارچ کو نو منتخب قومی اسمبلی نے یوسف رضا گیلانی کو نیا قائدِ ایوان منتخب کر لیا اور 26 مارچ کو انھوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور وہ چار سال ایک ماہ اور ایک دن تک اس عہدے پر فائز رہے۔وہ بلخ شیر مزاری کے بعد سرائیکی علاقے سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیرِ اعظم تھے جبکہ اس سے پہلے سرائیکی بیلٹ سے بلخ شیر مزاری نگران وزیرِ اعظم بنے تھے۔
چار سالہ دورِ اقتدار میں یوسف رضا گیلانی کی حکومت اور ملک کی عدلیہ کے درمیان اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے کے لیے سوئس حکام کو خط لکھنے کے معاملے پر کشیدگی جاری رہی اور سپریم کورٹ کی یہی ‘حکم عدولی’ ان کے اقتدار کے خاتمے کی وجہ بھی بنی۔ یوسف رضا گیلانی آج بھی اس اصولی موقف پر قائم ہیں کہ چونکہ آئین پاکستان میں صدر کو استثنیٰ حاصل ہے ہے لہذا وہ کیونکر صدر کے خلاف سوئس حکومت کو خط لکھتے؟ اپنی نااہلی کے دوران وہ عملی سیاست سے کافی حد تک دور رہے مگر ان کے خاندان کے افراد انتخابات میں بطور امیدوار نظر آئے۔ نااہلی کی مدت ختم ہونے پر انھوں نے 2018 کے الیکشن میں حصہ لیا۔ ملتان میں این اے 158 سے پی ٹی آئی کے محمد ابراہیم خان کے مقابلے انھیں شکست ہوئی تھی۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ان کے خلاف توشہ خانے سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کرنے کے الزام میں ایک کیس زیر سماعت ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے لئے ایک اچھی بات یہ ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی جیسا اصول پرست سیاستدان دوبارہ سینٹ میں متحرک ہو گیا ہے ہے
