خواجہ آصف نے جنرل باجوہ کی پارلیمنٹ میں طلبی کا پنگا کیوں لیا؟

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اورآئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کا معاملہ ملک میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ جہاں ایک طرف سابق فوجی قیادت کی پارلیمنٹ میں طلبی کے امکانات پر بحث جاری ہے وہیں دوسری جانب ماہرین سابق فوجی حکام کی طلبی جیسے مطالبات کو حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کی خرابی سے تعبیر کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل فیض حمید کو پارلیمنٹ کے سامنے طلب کرنے اور اُن کا احتساب کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کریں گے۔خواجہ آصف کے اس اعلان کے بعد ملک میں ایک بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا سابق آرمی چیف کو پارلیمنٹ میں بلایا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس عمل سے شہباز شریف کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات متاثر تو نہیں ہوں گے؟
بعدازاں ایک ٹی وی پروگرام کے دوران خواجہ آصف نے وضاحت کی تھی کہ وہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دور میں پانچ ہزار افراد کی افغانستان سے پاکستان منتقلی سے متعلق پالیسی پر سابق فوجی حکام سے سوالات کرنا چاہتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اس پالیسی کی وجہ سے پاکستان میں حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان بھی یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ سے اس حوالے سے تحقیقات کی جانی چاہئیں۔خیال رہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دور میں کالعدم تحریکِ طالبان ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے جس میں افغان طالبان نے بھی معاونت کی تھی۔اس دوران افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو اہلِ خانہ سمیت پاکستان آنے کی اجازت دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔بعض حلقوں نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ اپنے علاقوں میں واپس پہنچ کر ان جنگجوؤں نے دوبارہ ہتھیار اُٹھا لیے تھے جس کی وجہ سے پاکستان میں ایک بار پھر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے عسکری قیادت کی پارلیمنٹ میں طلبی بارےدفاعی اُمور کے تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں کہ فوج کے سابق سربراہ کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ غیر معمولی ہے۔ تاہم پاکستان کے معروضی حالات میں یہ مطالبہ پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ کیونکہ یہ سیاسی قیادت کی آپس کی لڑائی ہے جس میں فوج کو گھسیٹا جا رہا ہے۔حسن عسکری کے مطابق پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی وقت میں فوج سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے لیکن وہ شور اسی وقت اٹھاتی ہے جب ان کے بجائے دوسری جماعت فائدہ اٹھا رہی ہوتی ہے۔حسن عسکری نے مزید کہا کہ فوج کو جواب دہ بنانے کے لیے ضروری ہو گا کہ سیاسی قیادت آپس کے اختلافات ختم کرے اور اچھی حکومت سازی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرے۔دوسری جانب دفاعی اُمور کے تجزیہ کار لیفٹننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی کہتے ہیں کہ سابق آرمی چیف کو پارلیمنٹ میں بلانے کا مطالبہ ناجائز نہیں ہے اور پارلیمنٹ یا عدلیہ اگر ضروری سمجھے تو فوج کے ذمہ داران کو بلا سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں اداروں کے کردار کو دیکھتے ہوئے وہ نہیں سمجھتے کہ فوج یہ چاہے گی کہ اس کے سابق سربراہ کو پارلیمنٹ میں طلب کر کے جواب طلبی کی جائے۔نعیم لودھی مزید کہتے ہیں کہ اگر فوج خود چاہے کہ کسی معاملے پر پارلیمنٹ کو بریف کیا جانا چاہیے تو وہ اور بات ہے۔ لیکن ان کی خواہش کے برعکس سابق فوجی سربراہ کوطلب کرنا موجودہ حالات میں قابلِ عمل دکھائی نہیں دیتا۔
نعیم خالد لودھی کے مطابق جس معاملے پر جنرل قمر باجوہ سے پارلیمنٹ میں جواب دہی چاہ رہے ہیں وہ کسی ایک فرد کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس وقت کی حکومت سے جواب لیا جانا چاہیے۔ایسے میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا وزیرِ دفاع کی جانب سے سابق آرمی چیف کو پارلیمنٹ میں طلب کرنے کے بیانات سے فوج اور حکومت کے درمیان دوریاں پیدا نہیں ہوں گی؟خواجہ آصف سے ایک ٹی وی مذاکرے کے میزبان نے پوچھا کہ ایسا نہ ہو کہ پارلیمنٹ کے سامنے جرنیلوں کو جواب طلبی کے لیے بلانے پر آپ کی حکومت کو ایک بار پھر گھر جانا پڑ جائے؟ اس پر خواجہ آصف نے کہا کہ ہم پہلے بھی گھر چلے گئے تھے گھر کا راستہ پتا ہے پھر چلے جائیں گے۔تاہم مبصرین سمجھتے ہیں کہ حکومت اگر فوج کے ذمہ داروں کے احتساب کا فیصلہ کرتی ہے اور اُنہیں پارلیمنٹ میں بلاتی ہے تو اس سے یقینی طور پر شہباز حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تناؤ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس بارے میں حسن عسکری کہتے ہیں خواجہ آصف کے بیان سے حکومت اور فوج کے تعلقات پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ان کے بقول ایک بیان سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر تسلسل سے ایسے بیانات دیے جاتے رہے تو تعلقات پر فرق ضرور پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں فوج کے سربراہ پارلیمنٹ میں بریفنگ کے لیے ضرور آتے رہے ہیں لیکن بریفنگ کے لیے بلانے میں اور سرزنش کے لیے طلب کرنے میں فرق ہے۔وہ کہتے ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو پارلیمنٹ بلانے کا مقصد ان کی سرزنش کرنا ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ پاکستان کے سیاست دان اتنے مضبوط ہو گئے ہیں کہ فوج کے سابق سربراہ سے جواب طلبی کر سکیں۔
دوسری جانب نعیم خالد لودھی کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف کو قومی اسمبلی بلانے کا فیصلہ پارلیمنٹ یا وفاقی کابینہ کا نہیں ہے اور موجودہ حکومت کافی معاملات میں اداروں کی مرہون منت ہے لہذا کوئی ایسا اقدام نہیں لے گی جس سے اداروں سے دوریاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوا۔وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں آرمی چیف پارلیمنٹ میں آکر بریفنگ دیتے رہے ہیں لیکن اب حالات مختلف ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فوج کا کام جنگ لڑنا ہے مذاکرات سیاست دانوں یا سفارت کاروں کا کام ہوتا ہے۔ لہذا اس بات کا بھی تعین ہونا چاہیے کہ فوج کو کالعدم دہشت گرد گروہ سے بات چیت کی ذمے داری کس نے تفویض کی۔
خیال رہے کہ ماضی میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف حکومت میں آ کر ججوں اور جرنیلوں کے احتساب کی بات کرتی رہے ہیں۔جنہوں نے ان کے بقول 2017 میں انہیں سازش کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا تھا۔
