ڈونلڈ لو کی امریکی ایوان میں پیشی PTI کو الٹی کیسے پڑ گئی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار نصرت جاوید نے کہا ھے کہ امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو امریکی وزارت خارجہ کے افسر ڈونلڈ لو کی پیشی تحریک انصاف کے ہرگز کام نہیں آئی ہے۔ بلکہ ’’نماز بخشوانے گئے اور روزے گلے پڑ گئے …‘‘ والا معاملہ ھو گیا۔ اس کارروائی کے دوران ڈونلڈ لو نے عمران خان کو سائفر کہانی کے تناظر میں ’’جھوٹا‘‘ پکارا ہے. شرم کی بات یہ ھے کہ امریکہ میں مقیم بااثر عاشقان عمران نے اپنی احمقانہ کوششوں سے پہلے تو ایک سابق پاکستانی وزیراعظم کو امریکی ایوان میں جھوٹا قرار دلوایا اور پھر اس کاروائی کے دوران ہلڑ بازی کر کے پاکستان کا سر دنیا کے سامنے مزید جھکا دیا۔ اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ پاکستان میں ’’اصل جمہوریت‘‘ اور انسانی حقوق وغیرہ کا تحفظ واشنگٹن کا دردِ سر نہیں۔ دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتا امریکہ اگر ان دونوں معاملات کے بارے میں واقعی فکر مند ہوتا تو صحافیو ں کو برسرعام کوڑے مارنے والی ضیاء حکومت اس کی دس برس تک اتحادی نہ ہوتی۔ جنرل ضیاء کے بعد جنرل مشرف بھی 1999ء سے 2008ء تک ہمارے طاقت ور ترین صدر نہ رہتے۔ عاشقان عمران کا ایک گروہ مگر ایک اور ’’امریکہ‘‘ دریافت کرچکا ہے جو پاکستان میں جمہوریت کے معیار اور انسانی حقوق وغیرہ کے بارے میں بہت متفکر رہتا ہے۔عاشقان عمران کا یہ گروہ یہ خبر سن کر بہت خوش ہوا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ کے ایک افسر ڈونلڈ لو کو امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی نے طلب کر لیا ہے۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ 2022ء سے تحریک انصاف کی قیادت مسلسل یہ الزام لگارہی ہے کہ مذکورہ افسر نے عمران حکومت کو دھمکی آمیز پیغام بھجوائے تھے۔وجہ یہ بتائی گئی کہ عمران خان کی ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ والی ’’سرکشی‘‘ سے بائیڈن انتظامیہ اْکتاگئی تھی۔وہ ’’بندے کا پتر ‘‘ بننے کو رضا مند نہ ہوئے تو انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹوادیا گیا۔ لیکن درحقیقت عمران حکومت کے زوال اور بعدازاں فراغت سے واشنگٹن کا براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا۔ مسئلہ درحقیقت ’’سیم پیج‘‘ پر نمودار ہوئی مشکلات تھیں۔ اس کے علاوہ قمر جاوید باجوہ کی ہوسِ اقتدار تھی جو ہماری ریاست کے طاقت ور ترین ادارے پر مزید کچھ عرصے تک براجمان رہنا چاہ رہے تھے۔ عمران حکومت اس ضمن میں تسلی دیتی نظر نہ آئی تو معاملات بگڑنا شروع ہوگئے تاھم پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت نے عمران خان کی بتائی ’’سائفر کہانی‘‘ پر دل وجان سے اعتبار کیا۔ اعتبا ر کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ اگر امریکہ نے واقعتا عمران خان کی ’’آزاد منش‘‘ پالیسیوں سے اْکتاکر انہیں ایک سازش کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا تھا تو امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور پر نگاہ رکھنے والی کمیٹی کے دبائو میں آکر وہ انہیں ایک بار پھر وزارت عظمیٰ کے دفتر بھجوانے میں امداد فراہم کرنے کو کیوں آمادہ ہوگا۔
نصرت جاوید کے مطابق اس بنیادی سوال پر لیکن عاشقان عمران خان کا وہ گروہ جو امریکہ کو زیادہ جانتا ہے غور کرنے کو تیار ہی نہیں۔امید ھے کہ ڈونلڈ لو کی امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو ’’پیشی‘‘ کے بعد اس گروہ کو سمجھ آگئی ہوگی کہ عمران خان کے حوالے سے واشنگٹن کا سرد رویہ اپنی جگہ قائم ودائم ہے ۔امریکہ میں کسی کو ’’جھوٹا‘‘ ٹھہرانا بہت سنگین عمل شمار ہوتا ہے۔ اس کی حقیقت سمجھنے کے لئے محض اتنا یاد رکھیے کہ سابق امریکی صدر کلنٹن کو مشکلات کا سامنااس لئے نہیں کرنا پڑا تھاکہ موصوف کے مونیکا لیونسکی نامی ایک معاون سے غیر مناسب تعلقات تھے۔ امریکی ایوان نمائندگان نے اس کے مواخذے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا تھا کہ وہ مونیکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو جھٹلاتا رہا اور یوں ’’جھوٹ‘‘ بولنے کا مرتکب ہوا۔ باعث شرم بات مگر یہ ھے کہ امریکی وزارت خارجہ کے افسر ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم ’’جھوٹا‘‘ پکارا ہے۔امریکی ایوان نمائندگان کے ریکارڈ پر آیا یہ الزام اپنی جگہ سنگین تو تھا ہی مگر اس میں محاورے والا ’’موراوور‘‘ اس وقت ہوا جب ڈونلڈ لو نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس کے خلاف عمران حکومت کو دھمکیاں دینے کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان کی وجہ سے نہ صرف اس کی بلکہ اس کی بیوی اور خاندان کی زندگیاں بھی خطرے میں آگئیں۔پولیس کو ان کی حفاظت یقینی بنانا پڑی۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ لو جب خود کو ملی دھمکیوں کا ذکر کررہا تھا تو امریکی ایوان نمائندگان کی ایک گیلری میں موجود چند پاکستانیوں نے اس کے خلاف ’’جھوٹ- جھوٹ‘‘ کے نعرے لگائے۔چار یا پانچ نوجوانوں پر مشتمل یہ گروہ تحریک انصاف کے جھنڈوں سمیت گیلری میں گھس آیا تھا۔ انہیں سکیورٹی سٹاف نے وہاں سے باہر نکالا۔ گیلری میں ہنگامہ آرائی نے ٹی وی سکرینوں کی بدولت محض یہ پیغام اجاگر کیا کہ تحریک انصاف اپنے بیانیے سے اختلاف کرنے والوں کو برداشت نہیں کرتی۔ ان پر ’’جھوٹے الزامات‘‘ لگاتی ہے۔ ان کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ امریکہ میں مقیم عاشقان عمران کی ایک خاص تعداد بہت بااثر ہے۔ان میں سے چند ڈاکٹر بہت نمایاں ہیں جو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں بیٹھے کئی طاقتور اراکین کے ذاتی معالج ہونے کی وجہ سے ان کے خاندانوں کے رکن کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ عاشقان عمران خان نے اس گروہ کو قائل کیا کہ وہ اپنا رسوخ استعمال کرتے ہوئے ڈونلڈ لو کی ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے روبرو طلب کرنے کی راہ بنائے۔ ارادہ تھا کہ سخت سوالات کے ذریعے امریکی وزارت خارجہ کے افسر کو دیوار سے لگاکر ’’سچ‘‘ اگلوالیا جائے۔نتیجہ مگر اس کے برعکس برآمد ہوا ھے۔امریکی ایوان نمائندگان کے ریکارڈ پر آیا یہ الزام اپنی جگہ سنگین تو تھا ہی لیکن سوال یہ ھے کہ ڈونلڈ لو کو ہمارے ایک سابق وزیر اعظم اور مقبول ترین سیاسی جماعت کے سربراہ کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنے کیلئے کس نے اکسایا ہے
