خود کو عقل کل سمجھنے والے کپتان کو عقل کون دے گا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے خود کو عقل کل سمجھنے والے عمران خان کو اقتدار تو دے دیا لیکن افسوس کہ انہیں یہ نہیں سمجھایا کہ وزیراعظم کا منصب کس قدر ذمہ داری کا متقاضی ہے۔ حکمران بنانے سے قبل انہیں یہ بھی نہیں سمجھایا گیا کہ حکمران بننے کے بعد انہیں اپنی زبان کس قدر احتیاط سے استعمال کرنا ہے۔ اسکے علاوہ نہ تو عمران کو اختلافِ رائے کی اہمیت باور کروائی گئی اور نہ ہی انہیں مشاورت کے فن سے آشنا کرایا گیا۔ چنانچہ خود کو عقل کل سمجھنے والے عمران نے وزیراعظم بنوائے جانے کے بعد تو خود کو ہر فن مولا سمجھنا شروع کر دیا۔
ظاہر ہے جب ایک شخص خود کو عقل کل سمجھتا ہو تو اسکو کوئی اور عقل کیسے دے سکتا ہے۔ لیکن عمران خان کو سمجھنا ہو گا کہ وہ بہرحال ملک کے وزیراعظم ہیں، اور ان کے منہ سے نکلنے والا ہر لفظ ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے۔ انکی گفتگو کو دنیا پاکستانی ریاست کی پالیسی سمجھتی ہے، اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتی اور پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی بناتی ہے۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران امریکہ اور دنیا پر احسان جتا رہے تھے کہ پاکستان نے ان کا ساتھ دے کر اسی ہزار جانوں کی قربانی دی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ممالک ان کی بات پر کیوں کر یقین کریں گے جبکہ وہ دیکھ چکے ہیں کہ یہی عمران بطور وزیراعظم اپنی اسمبلی کے فلور پر اسامہ بن لادن کو شہید جبکہ دوسری طرف طالبان کو غلامی کی زنجیریں توڑنے والے قرار دے چکے ہیں۔ جنرل اسمبلی سے اسی خطاب میں ایک طرف امریکہ اورعالمی برادری کو یہ باور کرارہے تھے کہ وہ طالبان کے خلاف اقوام متحدہ کی چھتری تلے جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے اور یہ کہ ان کے ملک پر ڈبل گیم کا الزام غلط ہے اور دوسری طرف اسی خطاب میں طالبان کی وکالت کرکے ان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے۔ دوسری طرف اسی خطاب میں انہوں نے طالبان کے قہر کو بھی دعوت دی۔ انہوں نے افغان طالبان کی تحریک کو پختون قوم پرستی سے جوڑ دیا حالانکہ طالبان نے کبھی پختون نیشنلزم کی بات نہیں کی۔ ان کا نعرہ شریعت ہے ۔ وہ اپنی منزل خلافت قرار دیتے ہیں۔
سلیم صافی ریکارڈ درست کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ افغان طالبان کے مقابلے میں جو لوگ امریکہ اور نیٹو کی چھتری تلے حکمران بنے، وہ حامد کرزئی تھے یا اشرف غنی اور دونوں پختون تھے ۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے اس ویڈیو خطاب میں عمران خان نے پاکستانی عسکریت پسندوں کی طرف سے طالبان کی سپورٹ میں بندوق اٹھانے کی وجہ یہ بیان کی کہ دونوں طرف یعنی افغانستان اور پاکستان میں پختون تھے اور پختون نیشنلزم کی بنیاد پر پاکستانی طالبان نے افغان طالبان کی حمایت میں ہتھیار اٹھائے۔ یہ بات تاریخی طور پر بالکل غلط ہے۔ ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے کہ اس کی وجہ پختون قوم پرستی نہیں بلکہ مذہبی نظریاتی ہم آہنگی یاپھر سٹریٹیجک گیم ہے۔ صافی کے مطابق طالبان کے پہلے دور میں ان کا حامی اخبار وزیرستان یا پشاور سے نہیں بلکہ کراچی سے نکلتا تھا جو ایک اردو بولنے والے عالم دین کے زیراہتمام شائع ہوتا تھا۔ ان کے سب سے بڑے حامی جنرل حمید گل مرحوم بتایا کرتے تھے کہ انکے آباو اجداد ملاکنڈ ڈویژن کے علاقے بونیر سے آئے تھے اور وہ نسلا پختون ہیں۔ نائن الیون کے بعد طالبان کے حق میں پہلا فتوی لال مسجد کے امام کی طرف سے آیا۔ بلاشبہ مولوی نیک محمد پاکستانی طالبان کے پہلے لیڈر تھے لیکن انہوں نے پناہ عرب اور ازبک مجاہدین کو دی تھی۔ اس وقت عمران خان کے چہیتے بیوروکریٹ اور ان کے موجودہ پرنسپل سیکرٹری اعظم خان جنوبی وزیرستان ایجنسی کےپولیٹیکل ایجنٹ تھے ۔
سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ طالبان کی پہلی حکومت کے پاکستان میں جو شدید ترین مخالف تھے وہ بھی اے این پی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے لیڈر تھے اور اب دوبارہ ان کی کامیابی پر بھی سب سے زیادہ ماتم یہ قوم پرست جماعتیں کررہی ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان میں پنجابی طالبان بھی شامل تھے۔ لشکر جھنگوی کے لوگ زیادہ تر پنجاب اور سندھ سےتھے اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق جماعتی ارشد وحید اور اکمل وحید جیسے لوگ بھی شامل تھے لہاز سوال یہ ہے کہ پھر بقول عمران یہ پختون نیشنلزم کی تحریک کیسے تھی یا ہے؟
سلیم صافی یاد دلاتے ہیں کہ طالبان اردو سپیکنگ سید منور حسن کی بہت عزت کرتے تھے لیکن پختون قاضی حسین احمد پر مہمند ایجنسی میں پختون میجر مست گل نےخودکش حملہ کروایا تھا۔ پاکستانی طالبان نے سب سے زیادہ پختون قوم پرست جماعت اے این پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو قتل کیا۔ سب سے زیادہ پختونخوا کے پولیس اہل کار انکے ہاتھوں مارے گئے ۔ پختون آفتاب شیرپاؤ، پختون امیر مقام اورپختون مولانافضل الرحمان پر بار بار خود کش حملے ہوئے لیکن الحمداللہ پنجابی میاں نواز شریف یا عمران خان کبھی نشانہ نہیں بنائے گئے۔ اسی طرح تحریک طالبان پاکستان کے بانی امیر بیت اللہ محسود پختون تھے اور ان کے نمبرون حریف اسفند یارولی خان بھی پختون ہیں۔ مولانا فضل اللہ بھی سواتی پختون تھے اور ان کے بندوں کے ہاتھوں نشانہ بننے والی ملالہ یوسفزئی بھی پختون ہے۔ اے پی ایس پر حملے کا ماسٹر مائند عمر منصور نارے بھی پختون تھا اور وہاں لقمہ اجل بننے والے بچے بھی پختون تھے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستانی طالبان نے دوبارہ منظم ہونے کے بعد جو پہلی ٹارگٹ لسٹ جاری کی ہے اس میں آفتاب شیرپاؤ اور میاں افتخار جیسے پختونوں کےنام تو ہیں لیکن پنجابی لیڈروں کے نام نہیں۔ چنانچہ سلیم صافی سوال کرتے ہیں کہ ایسے میں میں آخر عمران خان کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ پختون نیشنلزم کی وجہ سے پاکستانی عسکریت پسندوں نے پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے؟
پختونوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ کمیونزم اور کیپٹلزم کی جنگ ہو یا پھر القاعدہ اور طالبان کی امریکہ اور اسکے اتحادیوں کیساتھ نظریاتی اور تزویراتی جنگ ہو، اس کیلئے میدان پختونوں کی سرزمین بن جاتا ہے۔ صافی کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک ایسی ناکام حکومت موجود ہے جس میں وزرا بھی بڑی تعداد میں پختون ہیں اور اعظم خان جیسے بیوروکریٹس بھی پختون ہیں لیکن وہ عمران کے سامنے نہ تو حق بات کا اظہار کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کو تاریخی حقائق بتاسکتے ہیں۔ ظاہر ہے جب ایک شخص خود کو عقل کل سمجھتا ہو تو اسکو کوئی اور عقل کیسے دے سکتا ہے۔
