داتا دربار دھماکہ: سہولت کار کو 2 مرتبہ سزائے موت

لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے داتا دربار کے باہر ہونے والے خود کش بم دھماکے کے سہولت کار محسن خان کو دو مرتبہ عمر قید جبکہ ایک مرتبہ 14 برس قید کی سزا سنا دی۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس 21 مئی کو پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی ( سی ٹی ڈی) اور انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی ) نے اہم آپریشن کے دوران داتا دربار کے باہر ہونے والے خودکش بم دھماکے کے ‘ سہولت کار’ کو گرفتار کیا تھا۔انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجاز بٹر نے مجرم محسن خان کی ساری جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔مجرم محسن خان کے خلاف پراسیکیوٹرز عبدالجبار ڈوگر اور میاں طفیل نے عدالت میں ریکارڈ پیش کیا۔مجرم کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی نے مقدمہ درج کیا تھا۔
خیال رہے کہ 8 مئی 2019 کو لاہور میں داتا دربار کے باہر خود کش دھماکے میں 4 پولیس اہلکاروں اور ایک سیکیورٹی گارڈ سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ 30 افراد زخمی ہوگئے تھے۔بعدازاں دھماکے سے متعلق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس عارف نواز خان نے بتایا تھا کہ تقریباً 7 کلو کے قریب دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا اور اس میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل سماعت میں پراسیکیوٹر عبدالرؤف وٹو نے بتایا تھا کہ ملزم محسن خان کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے ہے اور وہ 6 مئی کو طورخم کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ خودکش حملہ آور صدیق اللہ اور محسن خان 8 مئی کو لاہور آئے تھے اور دونوں نے داتا دربار کے قریب ایک مکان میں رہائش اختیار کی۔عبدالرؤف وٹو نے کہا تھا کہ حملہ آور کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے جبکہ محسن خان سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا۔
مشترکہ آپریشن کے رکن اور سینئر عہدیدار نے اس ھوالے سے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چارسدہ کے علاقے شبقدر سے تعلق رکھنے والے بہرام خان کے بیٹے محسن خان کو حراست میں لیا تھا. محسن خان نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند کے رہائشی طیب اللہ عرف راکی نے افغان شہری صادق اللہ مہمند کے پہنچنے پر ان سے ملاقات کی تھی، جو 6 مئی کو طورخم بارڈ کے ذریعے افغانستان سے پاکستان پہنچے تھے اور پھر انہیں لاہور پہنچایا تھا جہاں 8 مئی کو ہونے والے بم دھماکے میں ایلیٹ فورسز کے 5 اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
دھماکے سے قبل سہولت کار (محسن)، ہینڈلر اور خودکش بمبار بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ایک مکان میں رہائش پذیر تھے۔عہدیدار نے بتایا تھا ان افراد کے تحریک طالبان پاکستان / جماعت الاحرار کی شاخ حزب الاحرار سے تعلقات تھے، جنہوں نے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔دھماکے کے فورا بعد تحقیقات کے لیے سی ٹی ڈی اور انٹیلی جنس بیورو کے افسران پر مشتمل جوائنٹ آپریشن ٹیمز تشکیل دی گئیں تھیں۔عہدیدار نے بتایا تھا کہ تفتیشں کاروں نے بمبار کی شناخت، دھماکا خیز مواد کی نوعیت اور مقدار سے متعلق تحقیقات کے لیے سائنسی بنیادوں پر جائے حادثہ سے شواہد اکٹھے کیے تھے۔
تفتیش کاروں نے بتایا تھا کہ محسن خان بھاٹی گیٹ کے علاقے میں نور زیب کی جانب سے کرائے پر لیے گئے ایک کمرے میں رہائش پذیر تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی سامنے آیا تھا کہ چند سال قبل سعودی عرب میں ان کے قیام کے دوران طیب اللہ نے محسن خان کو گمراہ کیا تھا۔محسن نے بتایا تھا کہ 8 مئی کی صبح کو طیب اللہ، خودکش بمبار کو دھماکے کے مقام سے قریبی جگہ پر لے کر گئے تھے۔ گرفتاری کے دوران محسن نے بڑی تعداد میں دھماکا خیز مواد اور 2 ایم پی 3 پلیئرز بھی برآمد کیے گئے تھے.
