دبئی کے حکمران مکتوم کو بیٹی نے اپنا اغواکار قرار دے دیا


لندن کی عدالت میں اپنی سابق بیوی حیا بنت الحسین کی جانب سے بچوں کی حوالگی اور غیر انسانی سلوک کے الزامات کا سامنا کرنے والے دبئی کے حکمران پرنس محمد بن راشد المکتوم پر اب ان کی سگی بیٹی شہزادی لطیفہ نے حبس بے جا میں رکھنے کا الزام لگا کر انہیں شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔
شیخ مکتوم کو اپنی بیٹی شہزادی لطیفہ اور بیوی شہزادی حیا بنت الحسین کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے، جو 2019 میں اپنے دو بچوں کے ساتھ بھاگ کر لندن آ گئی تھیں۔ خیال رہے کہ لطیفہ کے والد، شیخ محمد بن راشد المکتوم، دنیا کے امیر ترین حکمرانوں میں سے ایک ہیں، وہ دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر بھی ہیں۔
حال ہی میں دبئی کے حکمراں محمد بن راشد المکتوم کی بیٹی شہزادی لطیفہ نے چند خفیہ ویڈیو پیغامات میں اپنے دوستوں کو بتایا ہے کہ اپنے والد کی قید میں ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ یہ ویڈیوز ایک ایسے فون پر ریکارڈ کی گئیں جو شہزادی لطیفہ کو ان کے گرفتاری اور دبئی واپس لانے کے ایک سال بعد خفیہ طور پر دیا گیا تھا۔ یہ وڈیو پیغامات انھوں نے اپنے باتھ روم میں ریکارڈ کیے کیونکہ صرف وہی ایسی جگہ تھی جس کا دروازہ وہ لاک کر سکتی تھیں۔ اپنے پیغامات میں انھوں نے تفصیل بتائی کہ کس طرح انھوں نے ان فوجیوں سے لڑائی کی جب وہ انھیں کشتی سے زبردستی اتار رہے تھے، فوجیوں نے انھیں لاتیں بھی ماریں۔ بعد ازاں بیہوشی کی دوا دیے جانے کے بعد انھیں پرائیویٹ جیٹ میں لے جایا گیا اور وہ تب تک نہیں اٹھیں جب تک جہاز دبئی لینڈ نہیں ہو گیا۔لطیفہ کا کہنا ہے کہ انہیں تنہا بغیر کسی طبی اور قانونی مدد تک کے، ایک ایسے وِلا میں رکھا جا رہا ہے جس کے دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں اور اس کے باہر پولیس کا پہرا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ شیئر کردہ ایک فوٹیج میں شہزادی لطیفہ المکتوم نے کہا ہے کہ جب وہ کشتی کے ذریعے متحدہ عرب امارات سے فرار ہونے لگیں تو فوجی کمانڈوز نے انھیں نشہ آور ادویات دیں اور واپس لے آئے۔ ان خفیہ پیغامات کے بعد لطیفہ کے دوست اب اقوام متحدہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ مداخلت کرے۔ تاہم دوسری جانب دبئی اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ شہزادی لطیفہ المکتوم اپنے خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ 35 سالہ لطیفہ نے سب سے پہلے اپنے والد کی قید سے 16 سال کی عمر میں بھاگنے کی کوشش کی تھی، لیکن2011 میں فرانس کے ایک کاروباری شخص ایروے جوبیر سے رابطے کے بعد فرار کو عملی جامہ پہنایا جا سکا۔ اس فرار میں انہیں ٹینا جوہینن کی بھی مدد حاصل تھی، جو پہلے ان کی مارشل آرٹ کی ایک استاد تھیں۔ 4 فروری 2018 کو لطیفہ اور ٹینا جوہنین نے ایک ڈنگی لی اور اس کے ذریعے بین الاقوامی حدود میں کھڑی ایک امریکی جھنڈے والی کشتی تک پہنچیں جہاں جوبیر ان کے منتظر تھے۔ لیکن آٹھ دن بعد انڈیا کے ساحل کے قریب کشتی پر چند کمانڈوز آ گئے۔ ٹینا جوہنین کہتی ہیں کہ دھوئیں کے گرینیڈوں نے انھیں اور لطیفہ کو باہر نکلنے پر مجبور کیا جو کہ کشتی کے عرشے کے نیچے ایک باتھ روم میں چھپی ہوئی تھیں اور ان پر بندوقیں تان لی گئیں۔لطیفہ کو بعد میں دبئی لے جایا گیا اور اس کے بعد سے اب تک ان سے کوئی بات نہیں ہو سکی ہے۔ جوہنین اور کشتی کے عملے کو دو ہفتے تک دبئی میں حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ انڈیا کی حکومت نے اس کارروائی میں اپنے کردار پر کبھی بات نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ پہلی بار سنہ 2019 میں دبئی کے حکمراں خاندان میں تناؤ اس وقت کھل کر سامنے آیا تھا جب انگلینڈ کے ہائی کورٹ میں شیخ محمد بن راشد المکتوم کی ایک بیوی شہزادی حیا نے جو اپنے دو بچوں سمیت فرار ہو کر برطانیہ آ گئی تھیں، شیخ کے خلاف اپنے تحفظ کے لیے درخواست دی۔گذشتہ برس ہائی کورٹ نے اپنے سلسلہ وار فیصلوں میں کہا کہ شیخ محمد نے 2002 اور 2018 میں لطیفہ کو مرضی کے خلاف واپس لے جانے اور 2000 میں ان کی بڑی بہن شہزادی شمسہ کے برطانیہ سے غیر قانونی اغوا کا حکم دیا تھا۔ ان کی بہن نے بھی بھاگنے کی کوشش کی تھی۔عدالت نے کہا تھا کہ شیخ محمد نے ایسے حالات قائم کر رکھے ہیں جہاں ان دونوں نوجوان خواتین کو آزادی سے محروم رکھا گیا ہے۔ لطیفہ کے دوستوں کو امید تھی گذشتہ سال مارچ میں عدالت کے فیصلے کے بعد شاید کچھ فائدہ ہو، جس میں شیخ محمد کو کہا گیا تھا کہ انھوں نے عدالت کے سامنے پورا سچ نہیں بولا۔
دبئی کے حکمراں کی قید میں زندگی گزارنے والی ان کی سگی بیٹی شہزادی لطیفہ کے پیغامات کو اب ریلیز کرنے کے فیصلے پر جوہنین کہتی ہیں کہ لطیفہ کے ساتھ رابطہ منقطع ہونے کے بعد بہت زیادہ وقت گزر چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں محسوس کرتی ہوں کہ وہ چاہتی ہیں کہ ہم ان کے لیے جنگ جاری رکھیں اور ہمت نہ ہاریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویڈیو پیغامات جاری کرنے کا مشکل فیصلہ لطیفہ کے تحفظ پر تشویش ہونے کے بعد کیا ہے تاکہ کسی طرح لطیفہ کی خیر خیریت معلوم ہوسکے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق ایلچی میری رابنسن کہتی ہیں کہ شہزادی کے خاندان نے ان کے ساتھ بڑا دھوکہ کیا تھا۔اقوام متحدہ کی سابق ​​ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور آئرلینڈ کی سابق صدر نے لطیفہ کی موجودہ حالت اور ان کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی اقدامات پر زور دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button