دندان سازعلوی نے اپنی عزت اور ساکھ کا جنازہ کیسے نکالا؟

عمران خان کی محبت میں آئین شکنی اور قانون کی پامالی کے ریکارڈ قائم کرنے والے عمرانڈو صدر ڈاکٹر عارف علوی کے ایوان صدر کے دن جوں جوں قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے ہی صدر علوی کے محاسبے کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ عمرانڈو علوی ایوان صدر سے گھر جانے کی بجائے سیدھے اڈیالہ جیل جائیں گے۔
خیال رہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے والے چوتھے جمہوری صدر ہیں۔ صدر عارف علوی کی مدت ملازمت تو ستمبر 2023 میں مکمل ہو چکی تھی تاہم صدر کے انتخاب کے لیے ضروری الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی کے سبب اُن کی مدت میں توسیع ہو گئی تھی۔ تاہم عارف علوی کے بطور صدر کردار اور متنازع اقدامات پر مخالف سیاسی جماعتیں اور سیاسی و آئینی ماہرین سوالات اٹھاتے نظر آتے ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی سے قبل تین صدور نے اپنی مدت مکمل کی ہے۔ پانچویں صدر چوہدری فضل الہٰی 1973 تا 1978 تک اپنی مدت پوری کی تھی۔ پاکستان کے 11ویں صدر آصف علی زرداری نے 2008 تا 2013 اور 12ویں صدر ممنون حسین نے 2013 تا 2018 تک اپنی آئینی مدت مکمل کی تھی۔ تاہم عمرانڈو صدر عارف علوی نے نہ صرف اپنی مدت صدارت مکمل کی بلکہ صدر کے انتخاب کے لیے ضروری الیکٹورل کالج کی عدم موجودگی کے باعث عارف علوی غیرمعینہ مدت تک کے لیے اپنے عہدے پر براجمان رہے، جس سے وہ ملکی تاریخ کے ان سربراہان مملکت میں سے ایک بنے جن کی مدت میں توسیع ہوئی۔ اس سے قبل فضل الہٰی 16 ستمبر 1978 کو ضیاالحق کے صدر بننے سے قبل ایک مہینہ اضافی عہدے پر رہے۔
صدر ڈاکٹر عارف علوی کے دور میں کچھ ایسے تنازعات بھی کھڑے ہوئے جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔مئی 2019 کے اواخر میں سپریم کورٹ کے سینیئر جج اور موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس کا آغاز ہوا۔ جسٹس فائز عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس 2019 سے جون 2020 تک تقریباً 13 ماہ تک چلا۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کی 40 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ عارف علوی کا یہ اقدام بھی اُن کے بطور صدر متنازع کردار کی بحث کا موجب بنا۔
عارف علوی اپنے آئینی مدت کے دوران اس وقت بھی تنقید کا نشانہ بنے جب اُنہوں نے اپریل 2022 میں سابق وزیراعظم عمران خان کی تجویز پر قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے دن ہی اسمبلی تحلیل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اُس وقت کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے عدم اعتماد کی تحریک کو آئین و قانون کے منافی قراد دیا اور اسے مسترد کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔
صدر عارف علوی نے بظاہر اپنی علالت کی وجہ سے سابق وزیراعظم شہباز شریف سے حلف نہیں لیا تھا۔ صدرِ مملکت شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے قبل مختصر رخصت پر چلے گئے تھے۔عارف علوی کی عدم موجودگی کے باعث چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے شہباز شریف سے حلف لیا تھا۔ عارف علوی کے حلف نہ لینے کے معاملے کو بھی سیاسی مبصرین نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
عارف علوی نے مئی 2022 میں بھی گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم کے مشورے پر عمل نہیں کیا تھا، جس پر اُن کے سیاسی حریفوں نے جانبدارانہ کردار کا الزام عائد کیا۔ نو مئی کو وفاقی حکومت نے عمر سرفراز چیمہ کو گورنر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا لیکن صدرِ پاکستان نے انھیں ہٹانے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ بالآخر 30 مئی کو عارف علوی نے مسلم لیگ ن کے رہنما بلیغ الرحمان کی بطور گورنر پنجاب تعیناتی کی منظوری دی تھی جس کے بعد انھوں نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھایا تھا۔
ستمبر 2023 میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے خط میں انتخابات کی تاریخ تجویز کرنے پر بھی آئینی اور قانونی ماہرین کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے، جہاں کچھ نے اسے صدر کا صوابدیدی اختیار قرار دیا تھا جبکہ دیگر کا ماننا تھا کہ انتخابات کی تاریخ دینا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔عارف علوی نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے اپنے خط میں 9 نومبر 2023 کو عام انتخابات کروانے کی تجویز دے دی تھی۔ خط میں صدر کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی دن کروانے کے لیے اعلیٰ عدلیہ سے رہنمائی حاصل کرے۔
ڈاکٹر عارف علوی کی صدارت کی مدت کے دوران ایک اور منفرد واقعہ تب پیش آیا جب ایوان صدر سے بل تو منظور ہو کر قانون کا حصہ بن گئے مگر عارف علوی بلوں پر دستخط سے انکاری رہے۔صدر عارف علوی نے آفیشل سیکرٹ ترمیمی بل 2023 اور پاکستان آرمی ترمیمی بل 2023 پر دستخط کرنے کی تردید کی تھی تاہم دونوں بل ایوان صدر سے منظور ہوئے تھے۔اگست 2023 میں صدر عارف علوی نے اپنے ٹویٹ میں بتایا تھا کہ ’مذکورہ دونوں بلوں پر میں نے دستخط نہیں کیے کیونکہ میں ان قوانین سے متفق نہیں تھا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے عملے کو مقررہ وقت کے دوران ہی دستخط کے بغیر انہیں واپس بھیجنے کی ہدایت کی تھی تاکہ انہیں غیرمؤثر ٹھہرایا جائے۔
ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023 بھی دستخط کیے بغیر واپس بھیج دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی کی اہلیت، بل کی درستگی کا معاملہ اعلیٰ ترین عدالتی فورم کے سامنے زیرسماعت ہے۔تاہم حکومت نے بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے دوبارہ منظور کروا لیا تھا۔ جس کے بعد بل 20 اپریل کو خود ہی ایکٹ بن گیا تھا۔ ڈاکٹر عارف علوی کے اس فیصلے کو بھی سیاسی جماعتوں اور آئینی ماہرین نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
عارف علوی پر تنقید کی ایک وجہ اُن کی سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتیں بنیں جن میں وفاق اور صوبوں میں انتخابات کے معاملات زیر غور لائے گئے تھے۔ان ملاقاتوں کے بعد اُس وقت کی پی ڈی ایم حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں نے عارف علوی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ الزام عائد کیا تھا کہ ایوان صدر عمران خان کی ہدایات پر چل رہا ہے۔
عارف علوی صدارتی مدت کے آخری دنوں میں بھی خبروں کی زینت اس لیے بنے ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم آفس سے موصول قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کی سمری منظور نہیں کی۔ صدر عارف علوی کی آئینی مدت پوری ہونے کے باجود اسمبلی اجلاس نہ بلائے جانے کے بعد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کی مشاورت سے 16ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
