مراد علی شاہ تیسری مرتبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کیوں منتخب ہوئے؟

مراد علی شاہ 2016 کے بعد سے مسلسل تیسری مرتبہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سندھ اسمبلی میں موجود اراکین میں سے سید مراد علی شاہ کا شمار ان چند اراکین میں ہوتا ہے جو ایک پروفیشنل پس منظر بھی رکھتے ہیں۔ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل وہ انجینیئرنگ اور بینکنگ کے شعبے کا وسیع تجربہ رکھتے تھے۔مراد علی شاہ کی پیدائش 11 اگست 1962 کو سندھ سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاست دان اور سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید عبداللہ شاہ کے گھر ہوئی۔مراد علی شاہ کو وفاقی، صوبائی حکومت میں ملازمتوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا بھی تجربہ رہا ہے۔ وہ واپڈا، پورٹ قاسم اتھارٹی، حیدرآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں انجینیئرنگ کے شعبوں سے وابستہ رہے اور بعد میں سٹی بینک میں کراچی و لندن اور گلف انویسٹمنٹ کارپوریشن (کویت) کے ساتھ بھی منسلک رہے۔پاکستان پیپلز پارٹی جب 2008 کے انتخابات کے بعد اقتدار میں آئی تو مراد علی شاہ قائم علی شاہ کی کابینہ میں صوبائی وزیر آبپاشی رہے۔ چند سالوں کے بعد ان کی دوہری شہریت پر سوال اٹھائے گئے اور معاملہ عدالت تک پہنچ گیا اور یوں 2013 کے انتخابات میں کینڈین شہریت ان کی راہ میں رکاوٹ بن گئی جس کے بعد انھیں مشیر خزانہ بنایا گیا۔ بعد میں وہ دوہری شہریت سے دستبرار ہو گئے اور سیہون سے بلا مقابلہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔جولائی 2016 میں بزرگ سیاست دان قائم علی شاہ کو ہٹا کر مراد علی شاہ کو سندھ کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ 2018 کے الیکشن میں کامیابی کے بعد وہ دوسری بار اس منصب پر فائز ہوئے۔سینئر تجزیہ نگار فیاض نائچ کہتے ہیں کہ ’پیپلز پارٹی میں سندھ کی حد تک اہل لوگوں کے فقدان کا تاثر غلط ہے۔ مراد علی شاہ کے ساتھ ساتھ فریال تالپور، ناصر شاہ، شرجیل انعام میمن کا نام بھی اس عہدے کے لیے زیر بحث تھا جبکہ نثار کھوڑو اور سردار علی شاہ بھی اس منصب کے خواہشمند تھے۔‘سینیئر صحافی مظہر عباس بھی تجزیہ کار فیاض کے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ناصر شاہ بھی سندھ کی وزارت اعلیٰ کے لیے ایک مضبوط امیدوار تھے۔پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ’مراد علی شاہ نے بطور وزیر اعلیٰ بہتر پرفارم کیا ہے اور پیپلز پارٹی عام انتخابات کارکردگی اور منشور پر لڑی ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے سندھ میں پہلے سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اور پارٹی نے اسی کارکردگی کی بنیاد پر مراد علی شاہ کو تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ سندھ کے لیے نامزد کیا ہے۔سندھ اسمبلی کی گذشتہ دو دہائیوں سے پارلیمانی رپورٹنگ سے منسلک سینئر صحافی کامران رضی کا دعویٰ ہے کہ ’مراد علی شاہ بنیادی طور پر بلاول بھٹو کی چوائس ہیں اور ان کے آس پاس جو قریبی لوگ ہیں ان کی بھی یہ خواہش ہے۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مراد علی شاہ پی پی کا ایک اچھا مثبت اور تعلیم یافتہ چہرہ ہیں۔سندھ میں اس بارگرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس سمیت تین جماعتیں اپوزیشن میں ہیں، جن میں سے اکثریت کے پاس کراچی کا مینڈیٹ ہے۔ تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اسمبلی کے باہر بھی پیپلز پارٹی کی گورننس پر سوالات اٹھاتی رہی ہیں اور یہ جماعتیں بلدیاتی نظام بااختیار بنانے کی جدوجہد میں بھی شریک رہی ہیں۔مظہر عباس کہتے ہیں کہ اگر بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں تو سڑکیں بنانے اور گلیوں کے گٹر و نالے نالیاں بنانے کی تنقید صوبائی حکومتوں پر نہ ہو لہٰذا صوبائی حکومت کو لوکل باڈیز کو بااختیار بنانا پڑے گا، انھیں انتظامی اور مالی خود مختاری دینا ہوگی کیونکہ شہروں بلخصوص کراچی میں ووٹ اب سیاست کی بنیاد پر نہیں شہری سہولیات پر مل رہے ہیں۔سینئر تجزیہ نگار فیاض نائچ کہتے ہیں کئی سالوں سے شمالی سندھ میں امن و امان کا مسئلہ موجود ہے۔ مراد علی شاہ نے فیصلہ کن آپریشن کا فیصلہ کیا تھا لیکن صورتحال جوں کی توں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اسی طرح سندھ کے سرکاری سکولوں میں معیاری تعلیم، فرنیچر اور بنیادی سہولیات دستیاب نہیں اور لاکھوں بچے سکولوں سے باہر ہیں۔کامران رضی کہتے ہیں کہ مراد علی شاہ میں ٹیم ورک کی بھی شکایت سامنے آتی رہی ہیں۔ ’اُن کی کابینہ کے دیگر اراکین سے کوئی خاص اچھے تعلق نہیں رہتے۔ مظہر عباس کہتے ہیں مراد علی شاہ کے سیاسی طور پر کوئی زیادہ مخالفت نہیں رہی۔مراد علی شاہ سے جب بی بی سی نے یہ سوال کیا کہ حالیہ مدت میں آپ کی کیا ترجیحات اور پروگرام ہوں گے، تو اُن کا کہنا تھا کہ پارٹی کا منشور اور پروگرام ہی ان کا ترجیحی پروگرام ہوگا۔
