دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کی اجازت خطرے میں پڑ گئی


دوسری شادی کے شوقین پاکستانی مردوں کے لیے خوشخبری ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک مرتبہ پھر حکومت کو سفارش کی ہے کہ اسلامی قوانین کی رو سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد کو پہلی بیوی سے اجازت لینا شرعی طور پر ضروری نہیں ہونا چاہئے اور اس قانون میں ترمیم ضروری ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی قوانین کے مطابق مرد کو دوسری شادی کرنے سے قبل پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنی ضروری ہے۔ تاہم کچھ عرصہ سے ذرائع ابلاغ پر یہ خبر گرم تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت کو اس قانون میں تبدیلی کی تجویز دی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ’اسلامی قوانین کی رو سے دوسری شادی کے خواہش مند مرد کو پہلی بیوی سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے۔‘ تاہم اب اسلامی نظریاتی کونسل نے باضابطہ طور پر اس خبر کی تصدیق کردی ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کا وہ آئینی ادارہ ہے جو حکومتِ پاکستان کو قانون سازی اور دیگر معاملات پر اسلام کی روشنی میں تجاویز دیتا یے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اب اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ اس نے حکومت پاکستان کو دوسری شادی کے متعلقہ قانون میں ترمیم تجویز کر رکھی ہے کیونکہ پہلی بیوی سے اجازت لینے کا قانون اسلامی شریعت سے متصادم ہے۔
موجودہ قوانین کے مطابق اگر کوئی مرد پہلی بیوی کی تحریری اجازت کے بغیر شادی کرے تو پہلی بیوی کی شکایت پر اسے سزا یا جرمانے یا دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کے مطابق دوسری شادی کرنے کے لیے تحریری اجازت نامے کے لیے یونین کونسل کے چیئرمین کو درخواست دینی ہوتی ہے جس میں دوسری مجوزہ شادی کی وجوہات اور پہلی بیوی سے اجازت حاصل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے۔
یونین کونسل چیئرمین یہ درخواست موصول ہونے پر شوہر اور بیوی سے اپنی اپنی جانب سے ایک، ایک رکن نامزد کرنے کےلیے کہتے ہیں جس کے نتیجے میں چیئرمین کی سربراہی میں ’ثالثی کمیٹی‘ تشکیل پاتی ہے۔ یہ ثالثی کمیٹی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی وجوہات کا جائزہ لینے کے بعد اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی ہے۔ قانون کے مطابق کچھ مواقع پر اگر ثالثی کمیٹی کی اجازت کے بغیر شادی کی جائے تو ایسا کرنے کی صورت میں مرد کو سزا ہو سکتی ہے یا اس پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ سزا ایک برس تک قید اور پانچ ہزار روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری شادی کرنے والے مرد کو پہلی بیوی کو فوری طور پر مہر کی تمام رقم ادا کرنی ہو گی۔
دوسری شادی کے قانون میں ترمیم کی تجویز پر گفتگو کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ کونسل نے یہ تجویز برسوں پہلے حکومت کو بھجوائی تھی اور وہ اس ہر قائم یے۔ تاہم اس پر عملدرآمد التوا کا شکار ہے۔ اب سنا ہے کہ ایوان بالا اور ایوان زریں میں اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن قوانین میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں ان میں میراث کا معاملہ فیڈرل شریعت کورٹ کے اپیلیٹ بینچ کے پاس زیرِ سماعت ہے جب کہ دوسری شادی کے لیے اجازت کے معاملے پر کونسل کی تجویز پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو پایا۔ ان کہنا تھا کہ ایسے میں پاکستان میں رائج قانون یعنی سنہ 1961 کے مسلم عائلی قوانین آرڈیننس کی شق نمبر چھ کے مطابق ہی اس معاملے کو دیکھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس مارچ میں لاہور کی ایک عدالت نے ایک شخص کو پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے پر تین ماہ قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسی طرح سیالکوٹ کی ایک عدالت نے بھی گزشتہ برس ایسے ہی مقدمے میں ایک شخص کو ایک ماہ قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button