مردان میں بدھا کا 1700 سال پرانا مجسمہ کیوں توڑا گیا؟

جس طرح طالبان دور حکومت میں افغانستان کے علاقے بامیان میں بدھا کے سینکڑوں برس پرانے مجسمےغیر اسلامی قرار دے کر توڑ دئیے گئے بالکل اسی طرح صوبہ خیبر پختونخوا میں تخت باہی کے مقام پر کھدائی کے دوران دریافت ہونے والا بدھا کا تقریباً 1700 سال پرانا مجسمہ وہاں موجود مذہبی رہنماؤں کے کہنے پر توڑ دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس نے نوادرات ایکٹ کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج کرلی ہے اور واقعے میں مبینہ طور پر ملوث چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ صوبے میں محکمہ آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے بھی باقاعدہ کارروائی کےلیے اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ بدھا کا یہ مجسمہ ضلع مردان کی تحصیل تخت باہی کے قریب ایک دیہات سربنڈی سے ملا ہے۔ پشاور سے 80 کلو میٹر دور تخت باہی بدھ مت آثار قدیمہ کے باقیات کے حوالے سے اہمیت کا حامل مقام ہے جس کی تاریخ تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے۔ ڈائریکٹر آثار قدیمہ خیبر پختونخوا عبدالصمد کے مطابق گاؤں میں ایک مکان کی کھدائی کے دوران بدھا کا یہ مجسمہ دریافت ہوا لیکن وہاں موجود لوگوں نے اسے توڑ دیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب مکان کی کھدائی کے دوران یہ مجسمہ ملا تو مقامی مذہبی رہنما آ گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ بدھا کے اس مجسمے کو توڑا جائے۔‘ اس تجویز پر وہاں کام کرنے والے ٹھیکیدار اور مزدوروں نے مجسمے کو ہتھوڑے کی مدد سے توڑ دیا ۔ سوشل میڈیا پر اس مجسمے کو توڑنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں جیسے ہی معلوم ہوا، انہوں نے اس پر کارروائی کی اور مقام کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’بدھا کا یہ مجسمہ کوئی 1700 سال قدیم معلوم ہوتا ہے اور مقامی لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ متعلقہ حکام کو اس بارے میں اطلاع دیتے۔‘
یاد رہے کہ تخت باہی میں آثار قدیمہ کے متعدد کھنڈرات پائے جاتے ہیں اور ماضی میں یہ مقام بدھ مت کے پیروکاروں کےلیے اہم مذہبی اور علمی درسگاہ رہا ہے۔ یہاں کوئی دو ہزار سال پہلے کی تہذیب و تمدن، رہن سہن اور اس وقت کے گاؤں اور ان کے آثار یہاں موجود ہیں۔ تخت باہی ضلع مردان سے کوئی 30 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس علاقے میں صرف تخت ہاہی کے آثار قدیمہ ہی نہیں بلکہ آس پاس تیرہ سے چودہ ایسے قدیم مقامات ہیں جن کا تعلق بدھ مت اور اشوک بادشاہ کے دور سے ہے۔ یہاں بدھا کے مجسمے اور تاریخی سلیپنگ سٹوپا بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ کھنڈرات برطانوی دور میں سنہ 1836 کے آس پاس دریافت ہوئے تھے اور 1852 میں کھدائی شروع کی گئی تھی۔ یو نیسکو نے 1980 میں ان آثار قدیمہ کو بین الاقوامی ورثہ قرار دیا تھا۔
ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق لوگوں میں آگہی اور معلومات فراہم کی جانی چاہیئں تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ یہ اس ملک کا انمول اثاثہ ہے۔’گندھارا تہذیب اس علاقے میں پائی جاتی ہے اور تخت باہی اس علاقے کی شناخت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے اگر آپ تقریباً دو ہزار سال پہلے کی تہذیب و تمدن، رہن سہن اور اس وقت کے گاؤں اور ان کے آثار دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ مردان کے قریب تخت باہی کا ضرور دورہ کریں جہاں کے آثار قدیمہ آپ کو اپنے سحر میں جکڑ لیں گے۔ یہاں آپ کو نہ صرف تخت باہی کے آثار قدیمہ بلکہ آس پاس 13 سے 14 ایسے قدیم مقامات دیکھنے کو ملیں گے جن کا تعلق بدھ مت اور اشوک بادشاہ کے دور سے ہے۔ ان آثار قدیمہ میں بدھا کے مجسمے اور تاریخی سلیپنگ سٹوپا بھی شامل ہیں۔
آثار قدیمہ کے یہ مقامات پہلی صدی عیسوی سے پانچویں اور چھٹی صدی عیسوی میں قائم ہوئے تھے اوربدھ مت تہذیب کے اہم مراکز رہے ہیں۔ یہ کھنڈرات برطانوی دور میں 1836 میں دریافت ہوئے تھے اور 1852 میں کھدائی شروع کی گئی تھی۔ یو نیسکو نے 1980 میں ان آثار قدیمہ کو بین الاقوامی ورثہ قرار دیا تھا۔ ان کھنڈرات میں راہبوں کے مسکن اور درس گاہوں سے لگتا ہے کہ یہاں علم کے فروغ کے لیے بڑا کام ہوتا تھا۔ یہاں راہبوں کے اسمبلی ہال جہاں عبادت کی جاتی تھی اس کے علاوہ یہاں طالب علموں کے لیے درس کی جگہیں موجود ہیں۔ یہ ایک طرح کا کمپلیکس تھا اور یہاں مسافر اور وہ لوگ جو اپنی منتیں مانتے تھے، یہاں آ کر رکتے اور وہ اپنے طور پر یہاں ایک سٹوپا بنا کر جاتے تھے۔ بنیادی طور پر یہ عبادت کا مقام تھا لیکن اس میں ایسے سٹرکچر بھی ملے ہیں جس میں سیکیولر مقاصد کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
