سکھوں کی خالصتان تحریک راولپنڈی سے کیسے شروع ہوئی؟


بہت کم لوگ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ سکھوں کی الگ ریاست کے قیام کے لیے چلائی جانے والی خالصتان تحریک کا باعث راولپنڈی کے ایک گردوارے میں پیش آنے والا ایک واقعہ بنا تھا جس کے نتیجے میں سکھوں نے ایک نرنکاری تحریک شروع کی جو آگے چل کرخالصتان تحریک کے آغاز کی بنیاد بنی۔ اگر پنڈی سے نرنکاری تحریک نہ اٹھتی تو شاید آج خالصتان تحریک کا بھی وجود نہ ہوتا۔
تاریخ بتاتی ہے کہ 13 اپریل، 1978 کو بھارتی پنجاب کے امرتسر شہر میں سکھوں کے دو فرقوں میں لڑائی ہوئی جس میں 16 سکھ مارے گئے۔ اس لڑائی کی وجہ سکھوں کا ایک نرنکاری فرقہ تھا جس کے عقائد باقی اکثریتی سکھوں سے مختلف ہیں۔ نرنکاری مخالف بڑے سکھ گروہ کا ہمیشہ سے بھارت سرکار سے مطالبہ رہا ہے کہ نرنکاریوں پر پابندی عائد کی جائے لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا۔ لہذا امرتسر میں پیش آنے والے سکھوں کی لڑائی کے واقعے کے بعد سے سکھوں نے اپنے لئے الگ ملک خالصتان کا مطالبہ کررکھا ہے۔ تاریخ دان سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کے شہر راولپنڈی میں نرنکاری پیدا نہ ہوتے تو کبھی امرتسر میں سکھوں کے فرقہ ورانہ فسادات بھی نہ ہوتے، یوں شاید خالصتان کی تحریک بھی نا چلتی۔ بہرحال نرنکاری فرقے کی بنیادیں چونکہ راولپنڈی میں ہیں اس لئے خالصتان کا کھرا بھی پاکستان سے ملتا ہے۔
تاریخی حوالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ راولپنڈی کے نرنکاری محلے میں ایک سکھ فرقے کی بنیاد پڑی جہاں آج بھی نرنکاری گردوارہ موجود ہے جس میں اس وقت شملہ اسلامیہ ہائی سکول قائم ہے۔ جب یہ گردوارہ رنجیت سنگھ کے دورمیں تعمیر ہوا تو اس وقت یہ چھ کنال پر مشتمل ایک وسیع و عریض تین منزلہ کمپلیکس تھا۔ تاہم اب ناجائز تجاوزات کی وجہ سے کل جگہ بمشکل ڈیڑھ کنال رہ گئی ہے۔
نرنکاری فرقے کے بانی دیال سنگھ 1783 کو پشاور میں رام سہائے کے گھر میں پیدا ہوئے۔ 30 سال کی عمر میں دیال سنگھ اپنے ماموں ملکھا سنگھ کے پاس راولپنڈی میں آ کر رہنے لگے۔ دیال سنگھ ہر وقت ’دھن نرنکار‘ کا ورد کرتے رہتے جس کا مطلب تھا ’کہ رزق دینے والا عظیم ہے’۔ اسی وجہ سے لوگ انہیں نرنکاری کہنے لگے۔ بعد ازاں اسی جگہ انہوں نے ایک گردوارہ بنایا جہاں سکھ ان سے فیض حاصل کرنے آتے۔ اسی گردوارے میں 1855 میں ڈال سنگھ کا انتقال ہوا اور یہیں نرنکاری گردوارے میں ایک گنبد ان کی سمادھی کے طور پر موجود ہے۔
دیال سنگھ کا خیال تھا کہ سکھ ازم میں جھوٹ، توہم پرستی اور غلط روایتیں شامل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے سکھوں کو اصل سکھ ازم کی جانب واپسی کا کہا اور خدا کی بحیثیت نرنکار یعنی بے شکل عبادت پر زور دیا۔ وہ دراصل گرونانک دور کے سکھ ازم کا احیا چاہتے تھے۔ اسی گردوارے میں ایک دن وہ واقعہ رونما ہوا جو آگے چل کر نرنکاری تحریک کا موجب بنا۔ ہوا یوں کہ ایک دن ایک سکھ بوٹا سنگھ شراب کے نشے میں دھت ہو کر کرتن پڑھ رہا تھا جس پر دیال سنگھ نے ادے دھکے دے کر گردوارے سے نکال دیا۔ لیکن بوٹا سنگھ نے مری جا کر اپنا الگ گردوارہ بنا لیا پھر اوتار سنگھ جو پشاور میں ڈبل روٹیاں فروخت کرتا تھا، اس کا چیلا بن گیا۔ تب سے سکھوں کے مابین ہونے والی فرقہ وارانہ لڑائیوں میں کم و بیش پونے دو لاکھ سکھ مارے جا چکے ہیں۔ اوتار سنگھ تقسیم کے بعد دہلی منتقل ہو گیا جہاں اس نے 1948 میں سنت نرنکاری کے نام سے اپنا الگ گروپ یا فرقہ رجسٹر کرا لیا اور خود کو بابا گرو نانک کا اوتار قرار دینے لگا جس پر روایتی سکھوں اور اس کے ماننے والوں کے مابین 1950 سے ہی فسادات شروع ہو گئے تھے۔
دوسری طرف بابا دیال سنگھ کے ماننے والے اصلی نرنکاری صوفی پرست لوگ ہیں جو امن کی بات کرتے ہیں، مگر اسی گردوارے میں جب بابا دیال سنگھ نے بوٹا سنگھ کو شراب پی کر کرتن پڑھنے سے منع کیا تو یہ واقعہ ایک الگ نرنکاری سکھ فرقے کی بنیاد بن گیا۔ بوٹا سنگھ کے چیلے اوتار سنگھ نے خود کو گرو گوبند سنگھ کے بعد گیارہواں گرو قرار دیا اور کہا کہ سکھوں کی مقدس کتاب گرنتھ زندہ گرو نہیں ہے اور یہ کہ میرے بعد میرا بیٹا یا گدی نشین گرو بنے گا اور یہ سلسلہ تاقیامت چلتا رہے گا۔ اسکے ردعمل میں باقی سکھوں نے اس فرقے کو سکھ مذہب سے خارج کرنے کی تحریک چلائی۔ اس دوران ان نقلی نرنکاریوں نے 13 اپریل، 1978 کو ویساکھی کا تہوار گولڈن ٹیمپل میں منانے کی کوشش کی تو اس دوران لڑائی میں 13 سکھوں کو نرنکاریوں نے قتل کر دیا گیا۔ ان کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ نے تحریک چلائی اور حکومت سے اس فرقے پر پابندی کا مطالبہ کیا، اندرا حکومت کے انکار پر بھارتی فوج میں موجود سکھوں نے استعفے دے دیے اور یوں خالصتان تحریک چلی جس کے بعد آگے چل کر امرتسر میں گولڈن ٹمپل پر بھارتی فوج نے آپریشن بلیو سٹار کیا اور سینکڑوں سکھوں سمیت سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ کو بھی مار دیا۔ اس آپریشن کے ردعمل میں بھارتی فوج کے ایک سکھ فوجی نے وزیراعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا حالانکہ وہ انکی حفاظت پر مامور تھا۔ چنانچہ یہ تنازع آج تک جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button