دکانداروں سے فکسڈ ٹیکس کی زائد وصولی کی تحقیقا ت کا حکم

حکومت نے دکانداروں سے بجلی بلوں میں فکسڈ ٹیکس کی وصولی معطل کر تے ہوئے فکسڈ سیلز ٹیکس کو متفقہ شرح سے زیادہ لاگو کرنے پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت بجلی کے نرخ اوربلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس کلیکشن کے معاملے پر اجلاس ہوا۔ جس میں وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر، وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، وفاقی سیکرٹریز توانائی اور خزانہ اور پٹرولیم کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں شہباز شریف نے بلوں کے ذریعے فکسڈ سیلز ٹیکس کی وصولی کو فوری معطل کرکے ٹیکس وصولی کے لیے نئے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کردی، انہوں نے بجلی کے بلوں کے ذریعے دکان داروں پر فکسڈ سیلز ٹیکس کو متفقہ شرح سے زیادہ لاگو کرنے پر تحقیقات کا حکم دے دیا۔

شہباز شریف نے خصوصی ہدایت کی کہ دکان داروں سے ٹیکس وصولی پر کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے تاجروں کے نمائندگان کو مشاورت میں شامل کیا جائے۔

اس کے علاوہ وزیراعظم نے تمام متعلقہ وزارتوں اور حکام کو فوری طور پر غریب طبقے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کا موثر طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعظم نے اعادہ کیا کہ حکومت غریب طبقے کے مالی تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے کوشاں ہے۔

Back to top button