دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ ایک لیجنڈری فلم کیسے بن گئی؟


کئی دہائیوں بعد پاکستان میں ریکارڈ بزنس کرنے والی سپرہٹ پنجابی فلم ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ میں ہر چیز لیجنڈری ثابت ہو رہی ہے، اس فلم کی کاسٹ بھی لیجنڈری ہے، کہانی بھی اور اس کے مصنف بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ اپنی ریلیز کے دو پہلے دو ہفتوں میں بیرون ملک اور اندرون ملک 150 کروڑ روپے کما چکی ہے۔ معروف لکھاری ناصرہ زبیری نے فلم پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ بنانے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ پرانی ’مولا جٹ‘ کا نہ تو ری میک ہے اور نہ ہی سیکوئنس یا تسلسل ہے، یہ بات بجا سہی لیکن پھر بھی اس میں بہت کچھ ’’لیجنڈری‘‘ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معروف ادیب اور لکھاری احمد ندیم قاسمی جب 1950 کی دھائی میں گوجرانوالہ میں پہلوانوں کے اکھاڑے سے شروع ہونے والا اپنا افسانہ ’گنڈاسہ‘ لکھ رہے تھے تو وہ یقیناً اردو ادب کی تاریخ میں اہم اضافہ کر رہے تھے۔ لیکن تب ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ یہ افسانہ آگے چل کر پاکستان کی فلمی صنعت پر بھی کتنے گہرے اثرات مرتب کرے گا۔!
1975 میں بننے والی ’وحشی جٹ‘ احمد ندیم قاسمی کے افسانے ’گنڈاسہ‘ سے ماخوذ تھی۔ اسکے بعد 1979 میں بنائی گئی سلطان راہی اور مصطفی قریشی کی فلم ’مولا جٹ‘ بھی ’وحشی جٹ‘ سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ اب مولا جٹ کی ریلیز کے 42 سال بعد باکس آفس پر دھوم مچانے والی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ بھی پرانی فلم مولاجٹ کا تسلسل ہے۔

ناصرہ زبیری کے مطابق ویسے تو احمد ندیم قاسمی کے افسانے اور فلم ’مولا جٹ‘ کا تعلق بڑا دور پار کا ہے۔ قاسمی کے افسانے میں کشتی کے لیے مشہور گجرانوالہ کے نواحی علاقے کے ’مولا‘ نامی ایک نوجوان کو موضوع بنایا گیا ہے، جس کا باپ قتل ہو جاتا ہے۔ مولا آگ بگولہ ہو کر بدلہ لینے کی غرض سے نکل پڑتا ہے مگر راستے میں ایک دین دار شخص اسے نصیحت کرتا ہے کہ اسلام میں معاف کرنے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ مولا اس کی بات سن کر باپ کے قاتل کا بدلہ لینے سے باز آ جاتا ہے، مگر اس کا خاندان اور خاص طور پر ماں اس پر دباؤ ڈالتی ہے کہ باپ کا بدلہ ضرور لے۔ ’گنڈاسہ‘ مولا کے ذہن میں چلنے والی اس کشمکش کا اظہار ہے۔ اس پر جو فلم بنی اس میں اس ذہنی کشمکش کو نظر انداز کر کے کہانی کو انتقام اور خون خرابے کی داستان بنا دیا گیا۔

یاد رہے کہ 1979 میں ریلیز ہونے والی پنجابی فلم پیار محبت، ناچ گانے، بلند آہنگ مکالمے، غرض پوری بارہ مصالحے کی چاٹ تھی، اس لیے یہ فلم ایسی کامیاب ہوئی کہ اس نے پنجابی فلموں کی تاریخ پلٹ کر رکھ دی اور اگلے دس برس تک یہ فلم بلا مبالغہ بیسیوں بار مختلف ناموں سے بنتی رہی۔ کہا جاتا ہے کہ مولا جٹ کی ریکارڈ ساز کامیابی کے بعد سلطان راہی خون آلود کپڑے پہن کر ایک فلم کے سیٹ سے لباس تبدیل کیے بغیر ہی دوسری فلم کے سیٹ پر چلے جاتے تھے کیونکہ اس کی بھی ویسی ہی کہانی ہوتی تھی۔
اب احمد ندیم قاسمی کے اسی افسانے کا نیا جنم لیجنڈ آف مولا جٹ کی شکل میں ہوا ہے،اب سے کچھ عرصہ پہلے تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک پاکستانی فلم اور وہ بھی پنجابی زبان میں، شائقین کو نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بیرونی ممالک میں بھی سینما گھروں میں کھینچ لائے گی اور واہ واہ کرنے پر مجبور کر دے گی۔
اب تک 150 کروڑ کا بزنس کرنے والی پہلی پاکستانی فلم ’لیجنڈ آف مولا جٹ‘ آج کے فلم شائقین خاص طور پر نئی نسل کی پسند کو نظر میں رکھتے ہوئے تمام لوازمات کے ساتھ بنائی گئی، اب یہ تو ہے کہ فلم چاہے ریمبو ہو، گلیڈی ایٹر ہو، باہو بلی یا مولا جٹ، طاقتور کے ظلم کی انتہا اور پھر ’’ون مین آرمی‘‘ کے ہاتھوں ظالم کی تباہی، ہمیشہ سے کامیاب فلم کا فارمولا رہی ہے، یہ تباہی بندوق سے ہو، مضبوط بازؤں سے یا گنڈاسے سے، انجام ایک ہی ہے اور وہ ہے اختتام پہ بجتی تالیاں، ابھی بات ہو رہی ہے لیجنڈ آف مولا جٹ فلم کی جس کے کاسٹیوم، گیٹ اپ، سیٹ اور ماحول ایسا ہے کہ آپ اسے کسی خاص دور یا علاقے سے منسلک نہیں کر پاتے۔

جس نسل کے لوگوں نے پرانی ’مولا جٹ‘ بھی دیکھ رکھی ہے وہ نہ چاہتے ہوئے دونوں میں موازنہ کر رہے ہیں، اس سلسلے میں خود مصطفیٰ قریشی کا بیان حرفِ آخر ہے کہ ’ہماری پرانی مولا جٹ غریبانہ جبکہ نئی مولا جٹ امیرانہ فلم ہے۔ پرانی فلم کا بہت مضبوط حصہ اس کے ڈائیلاگ اور موسیقی ہے جبکہ نئی فلم کی کہانی بھی قدرے مختلف اور ڈائیلاگ بھی نئے ہیں۔

Back to top button