راج کپور اور دلیپ کمار کے مکان تحویل میں لینے کی تیاری


خیبر پختونخوا حکومت نے ’اراضی حصول ایکٹ‘ کے تحت پشاور میں واقع دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو تحویل میں لینے کے انتظامات شروع کردیے ہیں، جس کے بعد ماہرین ان گھروں کی بحالی کا کام شروع کریں گے۔ حکام کا کہنا یے کہ ایسی قدیم عمارتوں کی بحالی کے لیے ہنرمند کاری گر اکثر خیبر پختونخوا میں دستیاب نہیں ہوتے لہٰذا صوبہ پنجاب اور سندھ سے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق اس بحالی منصوبے پر تقریباً دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت نے دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کے مالکان کے لیے مقرر کردہ 18 مئی کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد انہیں اپنی ملکیت میں لینے کا عمل شروع کر دیا ہے حالانکہ مالکان اب بھی وہ قیمت لینے پر تیار نہیں جو حکومت نے مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ کپور حویلی سے متعلق نہ صرف قیمتوں کا تنازع رہا ہے بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف لوگوں نے اس کی ملکیت کی دعویداری بھی ظاہر کی تھی، جس کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے ان مکانات پر سیکشن 17 نافذ کر دیا۔ اس ایشو پر بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر میوزیم وآثار قدیمہ ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا کہ سیکشن 17 لاگو کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی دوسرا شخص ان مکانات کا دعویٰ رکھتا ہے تو وہ مقررہ تاریخ تک دعویداری کی درخواست جمع کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخ کے گزرنے کے بعد اب حکومت ان مکانات کو قانونی طور پر قبضے میں لے سکتی ہے، کیوں کہ 1894 کے ’اراضی حصول ایکٹ‘ کی دفعہ 17 کے تحت حکومت کسی بھی اراضی پر عوامی فلاح کی خاطر قبضہ کر سکتی ہے۔ لہٰذا اگر مکان مالکان نے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمت پر اتفاق نہ کیا تو پھر حکومت ان پر قبضہ کر لے گی اور ان کے مالکان کے پاس گھروں کو نہ بیچنے کا حق نہیں رہے گا۔ ڈائریکٹر آثار قدیمہ نے بتایا کہ بالی ووڈ کے ان دونوں اداکاروں کے آبائی مکانات کے موجودہ مالکان کے پاس انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔
دوسری جانب راج کپور کی حویلی کے مالکان نے حکومت سے دو ارب روپے جبکہ دلیپ کمار کے مکان کے مالک نے تین کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا ہے جو کہ حکومت دینے سے انکاری ہے۔
صوبائی حکومت نے کپور حویلی کی چھ مرلہ زمین کی قیمت ایک کروڑ 50 لاکھ روپے لگائی ہے جس میں زمین کی قیمت ایک کروڑ 15 لاکھ اور اس پر تعمیر حویلی کی قیمت 34 لاکھ 73 ہزار 280 لگائی ہے۔ بالی ووڈ کے دوسرے لیجنڈری اداکار دلیپ کمار کے قصہ خوانی بازار میں واقع چار مرلہ مکان کی قیمت 72 لاکھ 80 ہزار 658 روپے جب کہ کہ اس کی آبادی کی قیمت سات لاکھ 76 ہزار 38 روپے لگائی ہے۔ مجموعی رقم جو کہ تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ بنتی ہے محکمہ آثار قدیمہ نے ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی ہے، جو باقاعدہ طریقہ کار کے ذریعے اس رقم کو مالکان کے حوالے کرے گی۔
دونوں مکان مالکان نے کئی مرتبہ ان مکانات کو گرانے اور ان پر کمرشل پلازے تعمیر کرنے کی کوشش ب
کی ہے تاہم حکومت نے اس اقدام کو ہر بار روکا ہے۔ 2014 میں اس وقت کی حکومت نے دونوں مکانات کو قومی ورثہ قرار دے دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالصمد نے کپور حویلی اور دلیپ کمار کے مکان کی قیمت تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ مقرر کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی حکومت اس طرح کی پراپرٹی خریدتی ہے تو وہاں زمین کی فی مرلہ قیمت معلوم کی جاتی ہے۔ پھر اس اراضی کی قیمت کا تعین اس پر جمع کرائے گئے ٹیکس سے کیا جاتا ہے۔ پانچ سال سے جمع کرائے گئے ٹیکس کا ’یکسالہ‘ نکال کر اس کا اوسط معلوم کرکے جو قیمت بنتی ہے حکومت اسی کی ادائی کی مجاز ہوتی ہے۔
محکمہ آثار قدیمہ ان معروف اداکاروں کے آبائی مکانات کی بحالی کا کام کس طرح سرانجام دینے کا منصوبہ رکھتا ہے، اس حوالے سے عبدالصمد نے بتایا کہ محکمے کا ایک کنزرویشن یعنی بحالی کا محکمہ ہے جس سے وابستہ ماہرین کی ایک پوری ٹیم اس کام میں حصہ لیتی ہے۔ اس ٹیم میں سول انجینیئرز، مٹیریل ایکسپرٹ، آرکیالوجسٹ، فائن آرٹسٹ، ڈرافٹ مین اور اسٹرکچرل انجینیئر ہوتے ہیں، اور ہر ایک کے ذمے اپنا کام ہوتا ہے۔ عبدالصمد کے مطابق دلیپ کمار مکان اور کپور حویلی کی بحالی کےلیے وہ کنزرویشن ڈپارٹمنٹ کی مستند اور ماہر ٹیم سے ہی استفادہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جن کا کام قبضہ لینے کے فوراً بعد شروع ہو جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ڈرافٹس مین ان عمارتوں کی موجودہ ہئیت کے مطابق ان کے نقشے بنائیں گے، دوسرے مرحلے میں ٹیم یہ بحث کرے گی کہ عمارتوں کے کتنے حصے پر بحالی کا کام کرنا ہے۔ اس کے بعد ایک تجویز کردہ نقشہ بنے گا۔ پھر مٹیریل ٹیسٹنگ کا مرحلہ آتا ہے کہ کس طرح کی لکڑی، اینٹ اور مواد ان عمارتوں میں استعمال ہوا ہے۔
ڈائریکٹر محکمہ آثار قدیمہ نے مزید بتایا کہ یہ سب کام ڈائریکٹر کی نگرانی میں ہوتے ہیں، جو جائزہ لے کر متعلقہ ماہرین اور ہنرمندوں کی بنائی گئی رپورٹس صوبائی حکومت کے ساتھ زیر بحث لاتے ہیں۔ عمارت کی مضبوطی کے تمام پہلوؤں کا جائزہ ایک اسٹرکچرل انجینیئر لیتا ہے، عمارت کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹرکچرل انجینیئر ایک تھری ڈی ماڈل بنائیں گے۔ آرٹسٹ اس کی خوبصورتی کے پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے نقشہ بنائیں گے۔ صمد نے بتایا کہ ایسی قدیم عمارتوں کے لیے ہنرمند مزدور اکثر خیبر پختونخوا میں ناپید ہوتے ہیں لہٰذا صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ سے ایسے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ انکا کہنا تھا کہ ان عمارتوں میں وزیری اینٹ استعمال ہوتی ہے جو اب خیبر پختونخوا میں نہیں ملتی لہٰذا یہ اینٹ پنجاب کی بھٹوں سے بنوائی جائے گی۔ قدیم زمانے میں ان عمارتوں میں پٹ سن، چونا اور دیگر چیزیں استعمال ہوتی تھیں وہ اب بھی استعمال ہوں گی۔ کھڑکیوں اور روشندانوں کا رنگ برنگا شیشہ پنجاب سے منگوایا جائے گا۔ اس پراجیکٹ پر تقریباً دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے جب کہ اس کی لاگت کا تخمینہ بھی پوری ٹیم کی جانب سے سرسری تخمینہ جمع کرنے کے بعد ہی لگایاجا سکے گا۔
یاد رہے کہ دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کی بحالی کے بعد صوبائی حکومت ان مکانات کو سیاحوں کےلیے کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں ان اداکاروں کی فلمی زندگی سے متعلق سامان رکھا جائے گا۔

Back to top button