رانا ثناء اللہ کی جانب سے کپتان کو پاگل کہنے پر ہنگامہ


19 جنوری کو سماء ٹیلی وژن کے پروگرام ”ندیم ملک لائیو” میں لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کو ‘پاگل’ قرار دینے پر ہنگامہ ہو گیا اور وزیر مملکت علی محمد خان نے شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا جسے لیگی رہنما نے سختی سے رد کر دیا اور اپنے مؤقف پر ڈٹ گئے۔
سماء ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام میں مسلم لیگ ن کی جانب سے رانا ثناء اللہ، پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر اور پی ٹی آئی رہنما علی محمد خان شریک تھے۔ دوران گفتگو رانا ثناء اللہ غصے میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور وزیر اعظم کو ‘پاگل’ قرار دیدیا۔یہ سنتے ہی علی محمد خان آگ بگولہ ہو گئے اور سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ناصرف رانا ثناء اللہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا بلکہ پروگرام کے میزبان ندیم ملک سے بھی کہا کہ انھیں چاہیے تھا کہ وہ لیگی رہنما کو میرے لیڈر کیخلاف ایسی زبان استعمال کرنے سے روکتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
علی محمد خان کا کہنا تھا کہ ہمارا لیڈر باپ کی طرح ہے۔ ہم یہاں کسی کی کردار کشی کرنے یا ذاتیات پر حملے کرنے نہیں بیٹھے۔ میں نے آج تک میاں نواز شریف یا آصف زرداری کیخلاف ایک غلط لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ کبھی ایسا سوچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ نے لائیو پروگرام میں جو الفاظ استعمال کیے وہ ابھی ان پر معافی مانگیں۔
تاہم علی محمد خان کے اس احتجاج کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ خان کا کہنا تھا کہ آپ یہ باتیں اپنے ساتھیوں کو سمجھائیں جو صبح و شام نون لیگی قیادت کے بارے میں بکواس کرتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ وہ کسی خاتون کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں یا کسی جماعت کے قائد کے بارے میں، انہوں نے علی محمد خان سے کہا کہ مجھے اخلاقیات کا لیکچر دینے سے پہلے آپ یہ بتائیں کہ کیا آپ نے کبھی اپنے ساتھیوں کے واحیات رویے پر ردعمل دیا ہے۔ آپ نے کبھی ایوان میں اٹھ کر انکے گھٹیا پن کی مذمت کی ہے؟
اس موقع پر پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ ہم دراصل اندھی نفرت اور اندھی تقلید میں بٹا ہوا معاشرہ بن چکے ہیں۔ کئی مرتبہ حکومت کی جانب سے بھی ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو اخلاقیات سے گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ علی محمد خان کے اپنے علم میں ہے کہ ان کے ساتھی کس قسم کی گندی زبان استعمال کرتے ہیں۔ جب آپ اس طرح کی زبان استعمال کریں گے تو پھر جواب سننے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔
پروگرام کے میزبان ندیم ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی سیاسی رہنماؤں کے لیے ایسی زبان استعمال کرتے ہیں اور انہیں چور اور ڈاکو کہتے سے بھی باز نہیں آتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں رانا ثناء اللہ خان کو مونچھوں سے پکڑ کر جیل میں ڈالوں گا۔ ندیم ملک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا طرز تخاطب بھی اخلاق سے عاری ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود علی محمد خان کا پوائنٹ درست ہے، ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔
ندیم ملک نے علی محمد خان سے کہا کہ پروگرام کا کافی حصہ آپ کی ناراضی میں گزر گیا، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے سوال کا جواب دیدیں لیکن پی ٹی آئی رہنما پھر اپنا راگ الاپنا شروع ہو گئے کہ آپ نے رانا ثناء اللہ کو میرے لیڈر کیخلاف بات کرنے سے کیوں نہیں روکا؟
جب علی محمد خان کی گردان جاری رہی تو ندیم ملک غصے میں آگئے، انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے مناسب یہی ہے کہ سوال کا جواب دیدیں، اس بات کو یہیں ختم کردیں۔ آپ کا پوائنٹ رجسٹرڈ ہو چکا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ سے تمام سیاسی رہنما اس پر عمل کریں گے۔ تاہم جب علی محمد خان نے اسی موضوع پر اپنی بات جاری رکھی تو ندیم ملک نے کہا کہ مجھے آپ کا لیکچر نہیں سننا۔ آپ میرا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ میں اپنے پروگرام میں رانا ثناء اللہ کی بات کی تب مذمت کروں گا جب آپ وزیر اعظم کی جانب سے دیئے گئے اخلاق باختہ بیانوں کی مذمت کریں گے۔ آپ کے کہنے پر میں اپنے مہمانوں کو برا ڈکلیئر نہیں کر سکتا۔

Back to top button