رانا ثناء اللہ کی سینئر صحافیوں سے ملاقات، صوبوں کی تقسیم پر مشاورتی بیٹھک

نئے صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آیا تو بحث کے بعد پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی میں جائے گا، رانا ثناء اللہ

لاہور: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان نے لاہور میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کی، جس کے دوران صوبوں کی تقسیم سمیت مختلف سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی کی رہائش گاہ پر رانا ثناء اللہ خان، چیف وہپ پنجاب اسمبلی رانا ارشد، لیگی رہنماؤں زبیر گل، رانا عمران، غلام مصطفیٰ اور ڈاکٹر سعید الٰہی نے شرکت کی۔ اس موقع پر سینئر صحافیوں سہیل وڑائچ، سلیم بخاری، حفیظ اللہ نیازی، نوید چوہدری، پرویز بشیر، منصور علی خان، سلمان غنی، نجم ولی، محمد عثمان، محمد عاصم نصیر، احمد بلال محبوب، سلمان حسن، اظہر جاوید، نوشاد علی، یاسر شامی، گوہر بٹ، عمر اسلم، حسین پراچہ، عثمان شامی سمیت دیگر نے رانا ثناء اللہ خان کے ساتھ صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر مشاورتی نشست میں ملاقات کی۔

اس موقع پر رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ آپ کیا سمجھتے ہیں نئے صوبوں کے منصوبے پر مبینہ طور پر منصوبہ بنانے والوں نے مسلم لیگ (ن) سے گفتگو نہیں کی ہوگی؟ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) باقاعدہ بحث کا آغاز کیوں نہیں کرتی اور اس منصوبے کو اکنامک فورم میں کیوں شروع کیا گیا؟ اکنامک فورم ایسا پلیٹ فارم نہیں ہے جہاں اس نوعیت کے منصوبے شروع کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کا مبینہ طور پر یہ منصوبہ ہے، اگر انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے بات کی اور ہم نے اسے متعارف نہیں کروایا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لٹھ لے کر کھڑے ہوجائیں۔ ابھی صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر بہت وقت ہے۔ جب یہ معاملہ پارلیمنٹ میں آئے گا تو ہر کوئی اپنی رائے دے گا، پھر یہ پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی میں جائے گا، جس طرح 18ویں ترمیم پر کمیٹی بنی تھی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر صوبوں کا معاملہ پارلیمنٹ میں آتا ہے تو اس پر چھ سے آٹھ ماہ لگتے نظر آتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں انتظامی یونٹس نکلتے ہیں، یا بلدیاتی انتخابات کا معاملہ سامنے آتا ہے، یا کچھ بھی نہیں نکلتا، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو فائدہ ہوا ہے اور اس کا کارکن جذباتی ہوکر ان کے ساتھ کھڑا ہوگیا ہے۔ کینال منصوبے پر صدر آصف علی زرداری نے اسے بنانے کی حمایت کی، مگر عوامی احتجاج کروا کر انہوں نے کینال منصوبہ بند کروا دیا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ پس پردہ گفتگو ہو رہی ہوگی، تاہم کسی مؤقف کو اپنانے کی ایک قیمت ہوتی ہے، جو اسے اپنائے گا اسے وہ قیمت چکانا پڑے گی۔

رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف مسلح ہوکر اسلام آباد آنے کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ فتنہ الخوارج، ہندوستان کے اسپانسرڈ تحریک انصاف کے احتجاج کو ہدف بنا کر حکومت اور عوام کے درمیان مزید دوری پیدا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا احتجاج ٹکے ٹوکری ہوجائے گا۔

پنجاب میں صوبوں کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت بہاولپور کو جنوبی پنجاب کے ساتھ نہیں لے جانا چاہتی۔ یا تو وہ الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں یا لاہور کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صوبوں کی تقسیم کے حق میں کوئی بڑی بات سامنے نہیں آئی۔ مسلم لیگ (ن) نے جب یہ منصوبہ شروع نہیں کیا تو آپ سمجھ جائیں کہ ہماری کیا لائن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ جب کابینہ یا سینیٹ میں بات کریں گے تو ان سے جواب لے لیا جائے گا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وفاقی وزیر شیخ قیصر ان کے سامنے ہر دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف سے ملتے ہیں، اب ان کے اعتراضات یا ملاقات نہ ہونے کی انہیں سمجھ نہیں آرہی۔ کچھ چیزیں غور و خوض کرنے کے لیے ہوتی ہیں، ہر چیز پبلک نہیں کرنی چاہیے۔

Back to top button